شواہد سے ظاہر ہے توقیر صادق کو پاکستان نہیں لایا جائیگا سپریم کورٹ

7 دن میں لایاجائیگا،پولیس حکام،ابوظبی حکام ڈیپورٹ نہیں کر سکتے، ڈائریکٹرایف آئی اے،حکومت ملک بدری کی بات کرے،جسٹس جواد


Numainda Express February 01, 2013
فرارکے ریفرنس میں پرویزاشرف،رحمٰن ملک،جہانگیربدر اور تقرر میں وزیراعظم،اسماعیل قریشی سمیت9افرادملزم قرار، بورڈ نے منظوری دیدی۔ فوٹو: فائل

سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی غیر قانونی تقرری میں موجودہ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف اورسابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت 12 افرادکیخلاف ریفرنس کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں دے دی گئی ہے۔

چیئرمین نیب کے دستخط کے بعد ریفرنس دائرکر دیا جائے گا۔یہ بات توقیر صادق کیخلاف کارروائی کرنے والی نیب ٹیم کے انکوائری افسر وقاص نے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں ڈویژن بنچ کو بتائی۔انھوں نے بتایا ریفرنس تیار ہو چکا اب چیئرمین کی میز پر ہے وہ دستخط کریں گے تو دائر ہوگا۔انکوائری افسر نے بتایا توقیر صادق گرفتار ہو چکے لیکن انہیں لیگل پراسس کے بعد واپس لایا جائے گا۔عدالت نے آبزرویشن دی لگتا ہے توقیر صادق کبھی پاکستان واپس نہیں لایا جائے گا،عدالت نے نیب اور ایف آئی اے سے توقیر صادق کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے اوگرا عملدرآمدکیس کی مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کردی۔

ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے اعظم خان نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ توقیر صادق متحدہ عرب امارات میںگرفتارہو چکا ہے،اسے انٹر پول نے گرفتارکیا، حوالگی کی درخواست ملنے کے بعد پاکستان کے حوالے کیا جائے گا۔اعظم خان نے کہا ابوظبی حکام نے بتایا کہ توقیر صادق کوصرف اس صورت میں ڈی پورٹ کیاجاسکتاہے جب ویزے کی خلاف ورزی کی گئی ہو، توقیر صادق کو درست ویزا دیا گیا تھا لہٰذا ڈی پورٹ نہیںکر سکتے۔ عدالت نے اس موقف کو مستردکر دیا،جسٹس جواد نے کہا اس کا مطلب ہے کہ واپس نہیں لایا جائے گا۔ فاضل جج نے کہا توقیرصادق کو ڈی پورٹ ہونا چاہیے تھا، پاکستانی حکومت کو اسکی ملک بدری کی بات کرنی چاہیے۔

9

پہلے خدشہ تھا ا اب یقین ہے کہ وہ نہیں لایا جائے گا۔تفتیشی افسر وقاص نے بتایا توقیر صادق دبئی میں ویزے لگوانے کا کاروبارکرتا ہے، ستمبر2012 ء میں توقیر صادق ایک کیشیئرکے ویزہ پردبئی گیا اسے ویزہ النور بیکری کی مالکہ آمنہ عبید زوجہ ناصر المظہری نے دیا ۔عدالت کو بتایا گیا کہ توقیر صادق پر پاکستان سے قتل کا مقدمہ بنایا گیا ہے اس لیے امارات حکومت نے انھیں روک لیا۔عدالت نے اس پر حیرت کااظہارکیا اور دریافت کیا کہ اس کے پیچھے کون ہیں۔عدالت نے سینئر وکیل انورکمال کو معاونت کیلیے کہا لیکن انھوں نے معذرت کرلی ۔جسٹس جواد نے کہا کہ ہمارا ذاتی معاملہ نہیں یہ عوام کا پیسہ ہے اور عوامی مسئلہ ہے۔

فاضل جج نے استفسارکیا توقیر صادق کی حوالگی اور ڈی پورٹ کرنے میںکتنا وقت لگے گا ؟اگر ہم حکم دیں تو کیا توقیر صادق جلد پاکستان آسکتا ہے ۔ایس ایس پی سی آئی ڈی رانا شاہد نے بتایا کہ توقیر صادق کو ڈی پورٹ ہونے میں چھ سے سات روز لگیںگے، دفتر خارجہ چاہے تو توقیر صادق کو جلدلایا جا سکتا ہے۔ رانا شاہد نے بتایا کہ توقیر صادق کو سجاد نامی شخص نے رہائش دلوائی ہے اسے بھی گرفتارکرلیا گیا ہے، پاکستانی سفارتخانے سے کہا ہے کہ توقیر صادق کے ساتھ ساتھ سجادکو بھی ڈی پورٹ کرایا جائے۔ جسٹس جواد نے سوال اٹھایا توقیر صادق کے اکائونٹس سے تو ایک دھیلا بھی نہیں نکلا جس پروقاص نے کہاان کے اکائونٹ مین تین ارب روپے تھے، جسٹس جواد نے کہا پھریہ رقم کیسے غائب ہوئی۔