صدر ججوں کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے پابند ہیں سپریم کورٹ

کردار علامتی ہے،جوڈیشل کمیشن اورپارلیمانی کمیٹی کسی بھی جج کوچیف جسٹس بناسکتی ہے،فیصلہ جاری


Numainda Express February 01, 2013
لارجربینچ نے جسٹس انورکاسی کوسینئرقراردیا،جسٹس ریاض کوچیف جسٹس ہائیکورٹ بناناچاہیے تھا،جسٹس اعجاز افضل کا اختلافی نوٹ

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججزکی تقرری سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

فیصلے میںکہا گیا کہ18ویں اور 19ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوںکی تقرری میں صدر مملکت کا کردار برائے نام رہ گیا ہے اورججوںکی سنیارٹی متعین کرنے کے معاملے میں صدرکو اختیار حاصل نہیں ہے۔اکثریتی فیصلے میںجسٹس انورکاسی کو سینئر قرار دینے اور انھیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقررکرنے کے بارے میں جوڈیشل کمیشن کی سفارش کو درست قرار دیا گیاہے۔

102صفحات پرمشتمل فیصلہ جسٹس خلجی عارف حسین نے لکھا جبکہ 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے جسٹس ریاض احمدخان کی سنیارٹی کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں اسلام آبادہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر ہونے کیلیے اہل قرار دیا ہے۔ اپنے اضافی نوٹ میں فاضل جج نے کہاکہ ان کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے دوبارہ جائزے سے مشروط ہوگی ۔ فیصلے میں ریفرنس میں اٹھائے گئے13سوالات کا مفصل جواب دیا گیا ہے اور یہ قرار دیاہے کہ ججوں کی تقرری کیلیے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد صدر مملکت ججوںکی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے پابند ہیں۔

 

19

فیصلے میںکہا گیا کہ صدرکا اختیار برائے نام ہے اور وہ چیف الیکشن کمشنر ، نگراں وزیر اعظم،چیئرمین فیڈرل سروس کمیشن اور مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری میں وزیر اعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق جسٹس اعجاز افضل نے اختلافی نوٹ میںکہا کہ جسٹس ریاض کو سنیارٹی کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانا چاہیے ۔ فیصلے میں دیگر ججز نے اس معاملے پر اپنی رائے تو نہیںدی مگر یہ آبزرویشن دی گئی ہے کہ جسٹس انورکاسی کا بطورچیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ تقرر اکثریتی فیصلہ ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں تحریرکیا کہ سنیارٹی کو طے کرنے کا اختیار آئین نے جوڈیشل کمیشن کو دیدیا ہے۔ ہائی کورٹ میں ججزکی نامزدگی چیف جسٹس پاکستان، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اورکمیشن کے علاوہ کسی کا اختیار نہیں۔آن لائن کے مطابق فیصلے میںکہاگیاکہ ججوں کی تقرری میںصدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں۔ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے کیلیے سنیارٹی کا اصول لاگو نہیں ہوتا صرف سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے کیلیے سنیارٹی کا اصول لاگو ہوگا۔