معرکہ 1965 اور پاک بحریہ کا مشن دوارکا

ویب ڈیسک  بدھ 6 ستمبر 2017
آپریشن دوارکا ایک آرٹسٹ کی نظر سے جس میں بھارت کے مواصلاتی مرکز کو چند منٹوں میں تباہ کردیا گیا تھا۔ فوٹو: بشکریہ پاک بحریہ پبلک ریلیشنز آفس

آپریشن دوارکا ایک آرٹسٹ کی نظر سے جس میں بھارت کے مواصلاتی مرکز کو چند منٹوں میں تباہ کردیا گیا تھا۔ فوٹو: بشکریہ پاک بحریہ پبلک ریلیشنز آفس

 کراچی: پاک بحریہ ایک خاموش دفاعی قوت ہے اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ ہمارے بحری محافظ ساحلوں سے دور سمندروں کی سطح اور گہرائی میں یہ اپنا مشن جاری رکھتی ہے۔ ایک آبدوز جب پانی کی سینکڑوں میٹر گہرائی میں آپریشن کرتی ہے تو وہ نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے لیکن وطنِ عزیز کے دفاع، آبی سرحدوں کی نگرانی اور اب سی پیک کے تناظر میں پاک بحریہ کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔

چھ ستمبر 1965 کی صبح جنگ کے آغاز اور اس میں ہونے والی تباہ کاریوں کی خبریں پاکستان بھر میں آگ کی طرح پھیل گئیں۔ اسی وقت پاکستان نیوی کے بحری جنگی جہاز، کروز، سرنگوں کو تباہ کرنے والے 5 جنگی جہاز اور ٹینکر معمول کی مشقوں کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ اور جنگ کی خبروں  کے باعث روانگی میں کسی حد تک جلدی کی گئی۔ ایک ماہ قبل رن آف کچھ میں ہونے والی جھٹرپ کی وجہ سے جنگی جہاز انتہائی تیاری کی حالت میں تھے اور صرف ان پر گولہ بارود اور عملے کی خوراک لوڈ کی گئی۔ جہازوں کی حکمت عملی کی مشقوں سے عملی تربیت اور تیاری ممکن ہوئی۔


جنگ کے آغاز کے دوسرے دن 7 ستمبر کو اپنے ساحل کے دفاع کیلئے جنگی جہاز حفاظتی گشت پر مامور تھے کہ اس دوران نیول ہیڈکوارٹرز کی جانب ایک پیغام موصول ہوا جس میں ہدایت کی گئی کہ جتنی تیزی سے ممکن ہو جنوبی دوارکا سے مغرب میں 120 میل کی طرف بڑھیں اور شام 6 بجے تک پوزیشن سنبھال لیں۔ بحری جنگی جہاز نے دوارکا سمندر کی طرف جاتے ہوئے ہدایت کے مطابق جہازوں نے اپنا ایندھن کا ذخیرہ لیا، جہاں اس کے ریڈار سٹیشن کو ابتدائی طور پر بمباری کا ہدف دیا گیا۔ ٹکٹیکل کمانڈ کے آفیسر پی این ایس بابر پر سوار ہوئے اور فوری فائرنگ کی ہدایت کو حتمی شکل دی اور انہوں نے جاتے ہوئے دوسرے جہازوں کو بھی ہدایت فراہم کیں۔

شیڈول کے مطابق پاکستان نیوی کے 7 جہازوں کے گروپ نے فائرنگ پوزیشن پر نصف شب کو پہنچ کر پوزیشن سنبھال لیں اور ان کے ساتھ 27 گنز تھیں۔ ایک کروز بابر کے پاس 5.25″ ٹورٹس، دو جنگی کلاس ڈسٹرائرز، پی این ایس خیبر اور بدر کے پاس 4.5″ ٹورٹس تھے۔ تین چوکر کلاس 4.5″ ڈسٹرائرز مونٹنگذ تھیں۔ ایک فریگیٹ ٹیپوسلطان 4″ مونٹنگز تھی۔ گہری اندھیری رات اور مکمل بلیک آؤٹ کے سبب دوارکا شہر بے بس لگ رہا تھا تاہم ریڈار کی مدد سے فائرنگ کی جاتی تھی۔ جہازوں نے شمال مغرب کی جانب رخ کیا تاکہ تمام گنوں سے بیک وقت فائرنگ کو ممکن بنایا جا سکے۔ چند منٹوں میں انہوں نے 50 ،50 راؤنڈز فائر کئے اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔

اس کامیاب آپریشن میں ایک جانب تو بھارت کا کراچی پر حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا تو دوسری جانب دو بھارتی افسر اور 13 سیلزر ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ رن وے کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا جب کہ انفراسٹرکچر اور سیمنٹ فیکٹری کو بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا۔ اس اچانک حملے پر بھارتی کمان حیران تھی تاہم اس مشن میں پاک بحریہ کو کئی خطرات بھی لاحق تھے لیکن پاک بحریہ کے جوانوں نے اپنے جذبہ شہادت اور مشن کی تکمیل کے لیے ان تمام خطرات کی بالکل بھی پرواہ نہ کی۔

اس جنگ میں پاک بحریہ کو امریکی آبدوز غازی کی شکل میں بھارت پر سبقت حاصل تھی اور ایسی آبدوز پورے خطے میں موجود نہ تھی۔ دوسری جانب اس جنگ میں برادر دوست ملک انڈونیشیا کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت کے صدر سوئیکارنو نے ایک جناب تو اندمان اور نکوبار کے جزائر کا محاصرہ کروایا اور پاکستان کی مدد کے لیے فوری طور پر دو آبدوزیں اور دو میزائل بردار کشتیاں روانہ کیں لیکن اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی۔

سمندر میں پاک بحریہ نے جنگ کے آغاز پر ہی بھارتی نیوی کو دوارکا کے مقام پر جا لیا، ہلاکتوں کے علاوہ مالی اور جانی نقصان پہنچایا اور بھارتی نیوی کو غیر یقینی کیفیت میں ڈال کر محدود کر دیا۔ یہ پاکستان کی قومی اور عسکری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جانے والا ایک عظیم واقعہ ہے۔

اس مضمون کی تیاری اور تاریخی تصاویر کے لیے ہم پاک بحریہ کے پبلک ریلیشنز ڈپارٹمنٹ کے شکر گزار ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔