سندھ اسمبلی میں کرمنل پراسیکیوشن بل کی منظوری

سندھ اسمبلی میں جمعہ کو کریمنل پراسیکیوشن سروس کے قانون میں ترامیم پر مبنی بل اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا


Editorial January 17, 2016
سندھ حکومت اور اپوزیشن ارکان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ ملک حالت جنگ میں ہے فوٹو: فائل

KARACHI: سندھ اسمبلی میں جمعہ کو کریمنل پراسیکیوشن سروس کے قانون میں ترامیم پر مبنی بل اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کے تحت حکومت کو زیر سماعت دہشتگردی سمیت کوئی بھی مقدمہ واپس لینے کا اختیار مل گیا۔

تاہم اپوزیشن نے بل کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی بدانتظامی اور کرپشن کو چھپانا چاہتی ہے جب کہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ کریمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل وقت کی ضرورت تھا، پراسیکیوشن نظام مضبوط ہو گا، جرائم پیشہ افراد کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ سندھ اسمبلی کے منظور شدہ بل پر ماہرین کی رائے قابل غور ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مقدمات واپس لینے کا اختیار ہے تاہم وہ سزا ختم نہیں کر سکتی، جب کہ سندھ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہارالحسن نے اجلاس کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس بل کے ذریعے حکومت بعض مقدمات واپس لینا چاہتی ہے۔

انھوں نے اس اہم معاملہ پر عدم مشاورت کے حوالہ سے شکایت کی کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی بجائے تین منٹ میں بل کی منظوری دی گئی۔ بلاشبہ ایک جمہوری طرز حکومت میں صائب رویہ یہی تھا کہ پیشگی مشاورت جمہوری اسپرٹ میں کی جاتی تا کہ ایک مضبوط پراسیکیوشن نظام کے مفاد ہونے والی قانونی پیش رفت پر بد مزگی نہ ہوتی۔ اس ترمیمی بل کے تحت پراسیکیوٹر عدالت کی رضامندی سے کسی بھی شخص کے خلاف ایک یا ایک سے زائد جرائم میں استغاثہ واپس لے سکتا ہے۔

اگر جرم کی سزا تین سال تک ہو تو اس کے لیے اسے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سے پیشگی اجازت لینا ہو گی جب کہ اگر جرم کی سزا سات سال تک ہے تو پراسیکیوٹر جنرل سے اجازت لینا ہو گی، دیگر تمام جرائم میں حکومت سندھ سے اجازت لینا ہو گی، جن کے مقدمات خصوصی عدالتوں یا ہائیکورٹ کے ماتحت کسی ٹرائل کورٹ میں چل رہے ہوں گے، یہ استغاثہ یا مقدمہ فیصلہ ہونے سے پہلے واپس لیا جا سکے گا۔ بادی النظر میں اس ترمیمی بل کو بعض اہم شخصیات کے انسداد دہشتگردی اور خصوصی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی واپسی سے منسلک کرنے کا عندیہ بتایا جا رہا ہے چنانچہ اس ضمن میں حکومت کو اپوزیشن کے خدشات دور کرنے کے لیے اسمبلی کے فورم پر ہی ایک صحت مند بحث کی نئی روایت قائم کرنی چاہیے۔

صوبہ میں دہشتگردی اور کرپشن سے متعلق متعدد ہائی پروفائل کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں اس لیے قانونی و آئینی ماہرین کی آراء اور وفاقی حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ممکنہ رد عمل کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، پراسیکیوشن کی مضبوطی کیسز کی شفاف تفتیش اور جلد فراہمی انصاف کی یقینی ضمانت کی طرف پیش قدمی سندھ سمیت ملک کے مفاد ہے لیکن دہشتگردی، کرپشن اور ٹارگٹ کلنگ و دیگر سنگین جرائم کے خاتمہ اور ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نتیجہ خیز ریاستی کوششیں اس بل کی منظوری سے متاثر نہیں ہونی چاہییں۔

اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ حکومت سندھ نے یہ بل اسی عجلت میں پاس کرایا جس طرح رینجرز کے اختیارات سے متعلق قرارداد منظور کرائی گئی تھی، انھوں نے سندھ اسمبلی میں اور باہر سخت احتجاج کا انتباہ کیا ہے لہٰذا ضرورت قانونی انداز نظر اختیار کرنے کی ہے۔ سندھ حکومت اور اپوزیشن ارکان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ ملک حالت جنگ میں ہے اور ایسی کسی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا جس سے دہشتگردی، ریاست دشمنی، فرقہ واریت، کرپشن اور لاقانونیت میں ملوث عناصر کو قانون کے شکنجہ سے بچانے میں مدد مل سکے۔ ملک میں شفاف قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہو گا۔

مقبول خبریں