US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
لائل پور‘ ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔
نظام شمسی کے چار سیارے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اُن کے سائز چھوٹے ہیں لیکن اُن کی سطح سخت ہے ۔
بنگلہ دیش میں12 فروری کو ہونے والے معرکہ آرا پارلیمانی انتخابات اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں
1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔
جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔
مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے
ہلکا سا بخار سمجھ کر نہ ہی ڈاکٹر کے پاس گئے اور نہ ہی دوائی کھائی
ملک کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں تھا جس میں بھارتی مفادات کو مقدم نہ رکھا گیا ہو
قیامِ پاکستان کے بعد بھی نوجوانوں نے اپنے عہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا
براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے
ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی فلسطین اور غزہ کے مفاد کے چوکیدا رہیں
بظاہر سماجی استحکام کے نیچے عوام کی ایک کثیر تعداد انتہائی مشکل زندگی گزار رہی ہے
ہم اوسط درجے کی ذہانت سے بھی گر گئے ہیں اور اپنی اس کرپشن پر رنجیدہ نہیں
ایپسٹین کا یہ پورا نیٹ ورک اخلاقی اقدار کے مکمل فقدان کی عکاسی کرتا ہے
انسان کو چکنی مٹی سے خلق کیا گیا ہے، سادہ مٹی اور چکنی مٹی کے درمیان نمی کا فرق ہے
اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کراچی ہی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی گئی
ایرانی قیادت کا موقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا
خودکلامی: میں نماز کے بعد دعا رسماً مانگتا ہوں۔ آئین قدرت سے ہٹ کر دعا کی قبولیت کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔
پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت نے یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے معاشی استحکام میں ایک سچا ہم سفر ہے
انسانی حقوق کا کوڑا صرف ان ممالک کی پیٹھ پر برسانے کے لیے ہے جو مغرب کو کسی نہ کسی وجہ سے پسند نہیں۔
طلبہ یونین پر پابندی کو 42 سال گزر گئے۔ ایک آمر نے طلبہ یونین کے ادارے پر پابندی لگائی۔
کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی
وہ امریکا کے سر پر بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی کوشش میں تھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔
غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوا۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں پاکستان کے ارباب اقتدار، صاحب اختیار اور اہل سیاست کے لیے غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔
اے مالک تیرے بندے ہم ایسے ہوں ہمارے کرم
تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔
اگست 2024 میں طلباء کے لائے ہوئے مون سون انقلاب کے بعد عبوری حکومت بنی جس نے 12 فروری 2026کو عام انتخابات کروا دیے۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے ریاست و حکومت پر تنقید سنتا، پڑھتا آیا ہوں۔
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر خیبر کی تنگ گھاٹیوں تک پھیلا ہوا یہ خطہ ایک بار پھر بارود کی بو سے آشنا ہو رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ نیپرا قواعد صاف اور سستی بجلی دینے والے شہریوں کو سزا دینے کے مترادف ہیں۔
سیاسی میدان میں جیت ہار کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بانی تحریک انصاف کی صحت پر خوب سیاست ہوئی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔
اب بجلی کا بل کوئی کاغذ نہیں رہا، یہ دہشت کی وہ چٹھی ہے جو ہر مہینے آتی اور غریب کے دل کی دھڑکن تیز کردیتی ہے۔
کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔
حسینہ واجد کی جماعت کے ووٹرز نے بھی اپنا ووٹ عملی طور پر جماعت اسلامی یا دیگر جماعتوں کو دینے کی بجائے بی این پی کو ڈالا ہے
ساری دنیا میں اتنے انقلابات آگئے تھے مگر نسرین کا سوائے عمر کے کچھ نہیں بدلا تھا۔ مجھے یاد آ گیا کہ نویں کلاس کے امتحانات ہو رہے تھے
پدم بھوشن ، گولڈن گلوب ، گرامی ایوارڈز اور آسکر انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان سے کون واقف نہیں
تینوں بڑی پارٹیاں اپنی مرضی کا محکوم اور چھوٹی پارٹیاں ملک میں یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہیں۔
زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے
دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے
عالمی اداروں کی مؤثریت بھی اس پس منظر میں سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
ہمارے جیسے ملکوں میں میرٹ کی ایک یقینی تعریف موجود ہے یعنی جو طاقتور کہے گا یا حکم صادر کرے گا
بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تنائو ، سخت بیانات اور بھاری محصولات کے بعد آخر کار ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے اپنی طاقت کے زعم میں اور کسی بھی عالمی لیڈر کے مشورے کے بغیر ، از خود، پچھلے سال ستمبرمیں ’’بورڈ آف پِیس‘‘ تخلیق کر ڈالا ۔
بنگلا دیش کا اونٹ جس کروٹ بیٹھنا تھا، بیٹھ گیا۔ باقی سب باتیں ہیں۔
کسی دانا نے سچ کہا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے پہنچایا ہے۔
معاشی استحکام کی حالیہ پیش رفت اگرچہ حوصلہ افزا قرار دی جا سکتی ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔
دنیا کے اندر بہت تیزی سے تناؤ بڑھ رہے ہیں کسی وقت بھی حالات بگڑ سکتے ہیں