صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
حدت فکر میں ہے، شعلہ گفتار میں ہے روشنی مجھ میں نہیں میرے کردار میں ہے
جامعہ کراچی سے ایک نوجوان ایم اے انگلش کر کے نکلا اور بجائے کہیں لیکچرار لگنے کے وہ نام کمانے کے لیے ایک نئی دنیا میں داخل ہو گیا
جن دنوں بھٹو دور کے ایک وزیر نے لات ماری تھی، شدید بیروزگاری، غربت کی مارا ماری اوربڑی مشکل میں جان ہماری تھی ۔
اگر ایران سے ڈیل ہوگئی تو معاہدے پر دستخط کرنے پاکستان جا سکتا ہوں۔
اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا بیٹی تیرا باوا تو بڈھا ری کہ ساون آیا
39 روزہ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہو گیا
موجودہ امریکی حکومت اور امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کئی نقاد امریکی صحافیوں سے سخت ناراض ہیں۔
ملک میں طویل مارشل لا لگانے والے پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک میں انتخابات کرانے کا کہہ کر بھی انتخابات نہیں کرائے تھے۔
مذاکرات اسلام آباد اکارڈ پر تو منتج نہ ہو سکے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔ بقول صدر ٹرمپ جنگ بندی برقرار ہے۔
یہ پیش رفت محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
کراچی کے ساڑھے تین لاکھ میٹرک کے طلبہ کا مستقبل مخدوش ہوگیا۔
پاکستان کو درپیش حالیہ توانائی بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا حد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے۔
سب کو معلوم ہے کہ ملک میں جعلی نوٹ بھی چل رہے ہیں اور دو سال سے یہ حکومت بھی جسے جعلی قرار دیا جا رہا ہے
لیتے لیتے تیرا نام سا رہ گیا میرے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
ایران پر مسلط کردہ امریکی و اسرائیلی جنگ اورجارحیت نے خطے کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔
اردو زبان کی تاریخ صرف الفاظ کی تاریخ نہیں، بلکہ رسم الخط اور املا کی تاریخ بھی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔
مذاکرات ناکام نہیں ہوئے۔ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے جو فریق اسلام آباد پہنچے۔وہ امن کے خواہشمند ہیں، جنگ کے نہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی صدر اب کیا کرتے ہیں، اب ان پر ہی دنیا میں عالمی امن دیرینہ طور برقرار رکھنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
فنانشل سسٹم خصوصاً بینکاری نظام کسی بھی معاشرے میں صرف رقم جمع کرانے یا نکالوانے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک مکمل مالیاتی نظام کا مرکز ہوتے ہیں۔
اب حالیہ امریکا،اسرائیل اور ایران تنازعہ میں جو ثالثی کا کردار پاکستان سمیت دیگر ممالک نے ادا کیا ہے اور جو بیٹھک امن کی پاکستان میں سجائی گئی ہے
پاکستان نے اس بحران میں جو سفارتی حکمت عملی اختیار کی ہے اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے
اسرائیل کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہے
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کی سیاسی بیٹھک عالمی اور علاقائی خطے سمیت پاکستان کے تناظر میں کافی اہمیت رکھتی تھی ۔
دوسری جنگ عظیم جو 1939 سے 1945 تک لڑی گئی کے بعد دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
کرہِ ارض پر متعدد آبنائے اور بحری گذرگاہیں ہیں۔ان میں سے کم ازکم چھ گذرگاہیں اقتصادی ، سیاسی و عسکری اعتبار سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔
لاہور کے ایک بڑے اسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک کار میں اس اسپتال کا نوجوان ڈاکٹر مرا پڑا رہا اور چار روز تک کسی کو پتا نہ چلا۔
آج سے کوئی 30 برس پہلے تک تقریباً تمام ہی مساجد کا کچھ ایسا ہی حال تھا تاہم اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔
ایران کو عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
مرتضی احمد میکش نے تحقیقی کام‘ 1940میں ہی مکمل کر لیا تھا۔ مگر متعدد وجوہات کی بنا پر یہ شائع تقریباً دس برس کے بعد ہوا۔
ایکسپریس میڈیا گروپ سے مجھے وابستہ ہوئے بیسواں سال شروع ہونے والا ہے ۔ ایڈیٹر ایڈیٹوریل لطیف چوہدری صاحب سے تعلق ابتداء میں ہی قائم ہو گیا تھا۔
پاکستان نے پورے اخلاص اور نہائت شاندار اسلوب میں میزبانی کا حق ادا کیا ہے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی موجود تھی کہ وہ ایرانی تہذیب کا نام و نشان مٹا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ملک میں عشروں سے جاری وی وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کم ہونے پر کوئی سرکاری توجہ نہیں ہے۔
ماہ اپریل 1919 کا زمانہ تھا، برصغیر پر برٹش سرکار کا سامراجی نظام قائم تھا۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا ایک اور اہم پہلو اس کا علاقائی توازن ہے۔
بھروسہ اور ٹرمپ دونوں متضاد حقیقتیں ہیں۔ یہ سب مہربانیاں مودی صاحب کی ہیں
اس سارے عمل کے دوران چین کی بالواسطہ سپورٹ بھی شامل حال رہی
ہر کوئی سفر میں ساڑھے چھ گھنٹے گزارنا افورڈ نہیں کر سکتا
انقلاب فرانس میں روسو اور والٹیئر کے نظریات و افکار نے اہم کردار ادا کیا
جناب اسلم جمشید پوری کی فکشن کی تنقید پر اب تک اٹھارہ کتابیں منظر شہود پر جلوہ فگن ہوچکی ہیں
پتا چلا کہ کائنات دراصل سست نہیں، بلکہ تیز ہو رہی تھی
فیلڈ مارشل کی قیادت میں‘ پاکستان نے جو کامیاب سفارت کاری کی ہے ۔
دو سمندروں یا خلیجوں کو ملانے والی گذرگاہ آبنائے کہلاتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ڈرون خاص طور پر ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کی دوسری سہ ماہی یعنی اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.89 فی صد رہی۔
نام تو ان کا عبدالحمید تھا، مگرکہلاتے پرویز حمید تھے۔ وہ پہلے باقاعدہ صحافی تھے، جن سے صحافت میں ورود کے بعد لاہور میں میری جان پہچان پیدا ہوئی۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے
او۔پی نیئر نے تقدیر کا لکھا سمجھ کر بٹوارے کو قبول کر لیا تھا اور پوری تن دہی سے موسیقی میں مگن ہو گیا
خلیجی ممالک میں صرف یو اے ای واحد ریاست ہے جس کا ایران سے سرحدی تنازعہ ہے مگر امریکا کی وجہ سے ان کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں