صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
پاکستان میں نئے ایڈ منسٹریٹو یونٹس بنانے کی بحث اس وقت اپنے عروج پر نظر آرہی ہے۔
بلوچستان کی ترقی کا ایک اہم پہلو مقامی آبادی کی شرکت بھی ہے
مغلوں نے ہندوستان کو پندرہ صوبوں میں تقسیم کیا
اس وقت سوشل میڈیا میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال پر تنقید جاری ہے
ہم نے قدرت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہی ہماری بنیادی غلطی ہے
پہلے جنگ جیتنے کے لیے دشمن کے مورچے فتح کرنا پڑتے تھے
ہم چند گھروں کے بچے اس طرح اکٹھے کھیلتے تھے جس طرح کہ سگے بھائی بہنیں کھیلتے ہیں
قیام پاکستان سے لے کر اب تک تمام ہی سیاسی پارٹیوں نے عوام کو دھوکہ دیا ہے
بھارتی فضائیہ پاکستان کی فضائی قوت کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی
ایک وقت وہ تھا جب شہر کراچی کی سڑکیں روزانہ صبح پانی سے دُھلا کرتی تھیں
برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تقریباً دو سو سال تک قائم رہی
’’اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل۔‘‘ 1950ء میںآرزو فلم ریلیز ہوئی اور اس گانے نے پورے برصغیر میں قیامت برپا کر دی۔
فی الحال پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دو طرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کافی کم ہے
برطانوی پارلیمنٹ کے ایک سو چالیس لیبر ارکانِ نے یہودی بستیوں کی پیداوار و مصنوعات کی ملک میں مکمل پابندی کے حق میں کئی ماہ پہلے قرارداد منظور کی
سندھ حکومت اس سانحہ کے بعد سے اس پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ اس سانحے کے ذمے دار افسروں کو بچایا جائے۔
وقت نے ہر حال میں گزرنا ہوتا ہے، وہ گزر جاتا ہے اور تاریخ باقی چھوڑ جاتا ہے ۔
سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
اسرائیلی وزیر ِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ اسرائیل ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کام کر رہا ہے
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلّو کافی تھا ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟
یہ صرف چند جرائم یا چند علاقوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ دراصل ریاستی نظامِ انصاف پر ہمارے اجتماعی اعتماد کے بحران کی علامت ہے
یونانی دیو مالا (Greek Mythology) میں ہے کہ یونانی دیوتا ’’اٹلس‘‘(Atlas) نے آسمانوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھا ہے۔
اگست کا مہینہ ہر سچے پاکستانی کے لیے بے حد اہم ہے،اس لیے کہ1947میں اس مہینے کی 14تاریخ کو مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں کسی خاتون کے شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر میڈیا میں موجود نہ ہو۔
زمانہ طالب علمی میں جب نصابی کتابیں پڑھیں تو دو قومی نظریے کو سمجھنے کا موقع ملا۔
امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی نے ان تمام سوالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی وفاقی حکومت صوبہ بلوچستان کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
بانی سمیت پی ٹی آئی کے کئی اہم لیڈر پچھلے 3برس سے جیل میں ہیں ۔ وہ اپنے مقدمات لڑ رہے ہیں، ایک دو کے سوا کسی کو ضمانت پر رہائی نہیں ملی ہے۔
پمز اسپتال کے دل خراش سانحے نے ملک کے ماحول کو سوگوار کر دیا۔ متاثرہ ماؤں کے جگر چھلنی ہو گئے۔
پاکستان بڑی مقدار میں سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے ممالک اور افریقی اور دیگر ملکوں کو چاول فروخت کرتا ہے۔
اس پورے سانحے کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ اسپتال انتظامیہ کے لیے یہ خطرہ بالکل نیا نہیں تھا۔
وزیراعظم نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دے کر بھی ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کی ہے۔
اگر عوام اس بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے تو تب وہ تبدیلی آئے گی جس کا پھل عوام کو بھی نصیب ہوگا
یہ اچھی بات ہے نظام کے بحران اور اس کے حل کے تناظر میں قومی بحث دیکھنے کو مل رہی ہے اور نئے زاویے بھی سننے کو مل رہے ہیں۔
ہمیں مصنوعی ذہانت چاہیے مگر ایسی مصنوعی ذہانت نہیں جو صرف طاقتور اداروں اور بڑی کمپنیوں کو مزید طاقتور بنادے۔
عہد جوانی رورو کاٹا، پیری میں لی آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا
پی ٹی آئی کو اپنے بانی کی رہائی سے دلچسپی ہے اور جے یو آئی کو اس معاملے میں دلچسپی نہیں ہے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960میں عالمی بینک کی ثالثی سے وجود میں آیا تھا
پاکستان میں نیم جمہوری حکومتوں کی عجیب تاریخ ہے۔ دو سے تین برس مکمل ہونے پر حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جانے لگتی ہیں۔
جب ہم جان بوجھ کر سیاست کے دروازے ایک دوسرے کے لیے بند کر رہے ہیں تو اس کا مطلب تو واضح ہے کہ ہم سیاست اور جمہوریت کی اصلاح نہیں چاہتے
جدوں تیری دنیا توں پیار ٹُر جائے گا دس فیر دنیا تے کیہہ رہ جائے گا
تانبے کی سب سے بڑی عالمی سپلائی بحرالکاہل کے مشرقی ساحل پر قائم جنوبی امریکا کے ملک چلی سے آتی ہے۔
جب دو ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر ہر دو فریق کی فوجیں مدمقابل ہوتی ہیں۔
ایوب خان کے ابتدائی برسوں میں جی ڈی پی میں تیز اضافہ ہوا، زرعی پیداوار بڑھی، صنعتی شعبے میں توسیع ہوئی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ہوئی
ایران کے خلاف امریکی اعلان میں معاشی شریانوں اور مالیاتی چینلز کو کاٹنے کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
ایران کی مشکل یہ ہے کہ اسے بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی بقا کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
اصلیت کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ منفی سلسلہ جاری وساری ہے
صدر ممنون حسین مرحوم کو آذر بائیجان جانا تھا اور سوال یہ تھا کہ صدر الہام علی ایو کے لیے کیا تحفے منتخب کیے جائیں۔
یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ کر جس اندھی تقلید میں جی رہے ہیں، اس کا انجام یہی کوٹ ریک کے ساتھ ہونے والا خاموش اور بے ثمر رقص ہے۔
یہ ویسا ہی دھوکہ تھا جو ان قبروں میں دفن غلاموں کے ساتھ ہوا تھا۔ انھیں آزادی کی امید دلا کر ایک نئے اہرام کی تعمیر میں لگا دیا تھا۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکمرانوں کے خلاف ہمارے نوجوانوں کا غصہ ، بوجوہ، روز افزوں ہے ۔