مسئلہ کشمیر بھارت کا ثالثی کو مسترد کرنا معاملہ ٹالنے والی بات ہے نواز شریف

مسئلہ کشمیرپرتیسرے فریق کی مداخلت پربھارت کوکیا ہچکچاہٹ ہے,65 سال بعد بھی حالات ٹھیک نہ کرسکے توذمے دارخودہونگے،گفتگو


Monitoring Desk/Online October 31, 2013
لندن:وزیراعظم نوازشریف برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ بات چیت سے قبل مصافحہ کررہے ہیں ۔ فوٹو : این این آئی

لاہور: وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملکی خودمختاری کے خلاف کوئی اقدام قبول کرنے کوتیار نہیں ہیں۔ ملک میں جاری دہشت گردی اورخون خرابہ روکنا ہرشہری کی خواہش ہے۔

پاکستان اور بھارت 65سال میں دوطرفہ طور پرمسئلہ کشمیر حل نہیں کرسکے۔ تیسرے فریق کی مداخلت کو مستردکرنا۔ مسئلہ کو ٹالنے والی بات ہے، بھارت کو ثالثی میں کیا ہچکچاہٹ ہے۔ لندن میں میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ بھارت یہ کہتا رہا ہے کہ وہ تیسرے فریق کا کردار قبول نہیں کرتا جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہیے،ہم اگر65سال میں باہمی طور پر یہ مسئلہ حل نہ کرسکے تو اب یہ کہنا کہ تیسرے فریق کی ضرورت نہیں مسئلہ کوٹالنے والی بات ہے۔ مسئلہ کشمیرکا ایسا پائیدارحل چاہیے جس پرکشمیر پاکستان اور بھارت کے عوام راضی ہوں۔ میں حقیقت پرمبنی بات کررہا ہوں۔

عوامی رابطے جتنے بڑھیں اچھا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ہم بھارت سے دوستی، اچھے تعلقات، تجارت کاروبار اور اقتصادی تعاون کا فروغ چاہتے ہیں۔ ہم نے بہت پیسہ غیر ضروری سازوسامان پر خرچ کیا ہے، اگر یہ پیسہ تعلیم صحت اور سماجی شعبے پر خرچ ہوتا تو آج ہم کہیں اور ہوتے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکا اور برطانیہ سے امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں اور برطانوی حکام سے اس حوالے سے انتہائی مفید بات چیت ہوئی ہے۔ برطانیہ نے انسداد دہشتگردی فورس کے قیام میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور دیگر وزرا سے بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔



انھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں دھماکے افسوسناک ہیں، اس کی تفصیلات معلوم کررہے ہیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ رک جائے۔ خون خرابہ اور لوگوں کے جان ومال کا ضیاع روکیں، یہ ہر پاکستانی کی خواہش ہے، اس کیلئے حکومت میں آنے کے بعد سے ہم اپنا کردار ادا کررہے ہیں تاکہ خون خرابے سے نجات ملے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کے حکام سے بات چیت ہوئی ہے، قبل ازیں برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے تاہم کشمیر کا مسئلہ پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کو اعتماد میں لیکر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے سرکاری اداروں سے 500 ارب روپے بدعنوانی اور بدانتظامی کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ برطانوی ہوم سیکریٹری مس تھریسا مے کے ساتھ ملاقات میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے انتہا پسندی اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا پختہ عزم کررکھا ہے۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نفاذ کا مقصد ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہے۔ دریں اثنا وزیراعظم نوازشریف اورکوسوو کی صدر مادام اتیفت جھاجاگہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ امور، پاک کوسوو اقتصادی تعاون اوردیگراہم معاملات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

مقبول خبریں