لاپتہ افراد کیس آئی جی ایف سی کو توہین عدالت کا نوٹس اب کسی ’’دوبڑے‘‘ کو بلانا ہی پڑے گا چیف جسٹس

عدم حاضری پر سپریم کورٹ کا اقدام، خود پیش ہوکر وضاحت دینے کی ہدایت، لاپتہ افراد پیش کرنے ہونگے، چیف جسٹس


این این آئی December 06, 2013
آسمان ٹوٹے یازمین پھٹے، لاپتہ افراد پیش کرنا ہی پڑیں گے ۔ پہلے دن سے ہی عدالت کو عزت نہیں دی جارہی۔چیف جسٹس پاکستان۔فوٹو:فائل

سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے کیس میں پیش نہ ہونے پر آئی جی ایف سی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرد یا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالت ان کیمرہ سماعت کیلیے تیار ہے ،حکومت لاپتہ افراد پیش کرے، ہم سے بھی باتیں چھپائی جا رہی ہیں۔

آسمان ٹوٹے یازمین پھٹے، لاپتہ افراد پیش کرنا ہی پڑیں گے ۔ پہلے دن سے ہی عدالت کو عزت نہیں دی جارہی ، ہمیں حکم دینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کو پیش نہ کیا گیا تو ہم کسی اور کو بلائیں گے، عدالت میں پیش ہونے سے کسی ادارے کا حوصلہ پست نہیں ہو سکتا، عدالت کو نیچا دکھانے کی روش برداشت نہیں کی جائے گی۔ جمعرات کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو آئی جی ایف سی کی طرف سے عرفان قادر بغیر وکالت نامے کے عدالت میں پیش ہو ئے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی ایف سی کو عدالت میں پیش ہوئے بغیر کوئی سہولت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے آئی جی ایف سی کو 3مرتبہ پیش ہونے کا حکم دیا تاہم وہ عدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔

عرفان قادر نے کہا کہ فوج کا ہر جوان آئین پاکستان کا احترام کرتا ہے، ایف سی کے میجر ندیم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ انھیں آئین کی پرواہ نہیں۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل منیراے ملک نے عدالت کو بتایا کہ سارے افراد کا پتا نہیں چل سکا، عدالت ان کیمراسماعت کر لے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 30 افراد کو پیش کریں، ان کیمرہ سماعت کیلیے تیار ہیں۔ سماعت کے دور ان وزیر دفاع خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ 5 سے 7 افراد کا پتا چلا ہے، معلومات حساس ہیں، سب کے سامنے معلومات کا تبادلہ نہیں کر سکتے۔ ان کیمرہ بریفنگ کی اجازت دی جائے،ہم کیس میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے، لاپتاافرادکو تلاش کرنے میں وقت لگے گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم سے بھی باتیں چھپائی جا رہی ہیں،ہر کوئی ملک کا خیرخواہ ہے، ہم کوئی دشمن نہیں، عدالت کے وقار کو کم نہیں ہونے دیں گے ۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کی جانب سے آئی جی ایف بلوچستان میجر جنرل اعجاز شاہد کو توہین عدالت کا نوٹس لاپتہ افراد کیس سے متعلق ایف سی پر لگنے والے الزامات کا جواب دینے کیلیے عدالت میں پیش نہ ہونے پر جاری کیا گیا۔ عدالت نے کہاکہ آئی جی ایف سی عدالتی احکام ماننے کے پابند ہیں،آئی جی ایف سی خود پیش ہوں اور عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے کی وضاحت کریں۔عدالت نے سیکریٹری داخلہ سے کہا کہ انھیں اس سلسلے میں نوٹس بھیجا جائے اور ریاست ان کی پیشی کو یقینی بنائے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالت میں پیش ہونے سے کسی ادارے کا حوصلہ پست نہیں ہو سکتا۔عدالت کو نیچا دکھانے کی روش برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ اس پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ ان افراد کو کوئٹہ میں سی آئی ڈی پولیس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔



کئی خطوط ارسال کرنے کے باوجود ڈی آئی جی امتیاز شیخ کا کوئی جواب نہیں موصول ہوا۔ سماعت کے دور ان وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کا پتہ چلانے میں پیشرفت ہوئی ہے، بعض معلومات ایسی ہیں جوعدالت میں نہیں بتائی جاسکتیں،کیس میں تاخیر نہیں چاہتے تاہم لاپتہ افراد کو تلاش کرنے میں وقت لگے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کو ہمارے پاس لائیں، ہم کوئی خفیہ انتظام کردیتے ہیں،ان کی تفصیلات بند لفافے میں ہی دے دیں۔اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ 5 افراد کا پتہ چل گیا ہے تاہم میرے بیان کو حتمی نہ سمجھا جائے،عدالت فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنادے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 30 افراد کو پیش کریں۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران وزیردفاع سے کہا کہ اگرآپ بندے پیش نہیں کرسکتے تو ہمیں لکھ کر دیں، اس طرح عدالت کا مذاق نہ اڑایا جائے، پہلے دن سے ہی عدالت کو عزت نہیں دی جارہی۔ چیف جسٹس نے حکومت کو لاپتہ افراد پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے خواجہ آصف سے کہاکہ بندے لائیں،حکومت کے متوازی حکومت چل رہی ہے، سارا میڈیایہاں موجودہے اور دیکھ رہا ہے کس طرح عدالت کوبے توقیر کیاجا رہاہے۔ آئی جی ایف سی پیش نہیں ہو رہے ہیں، کیا یہ کوئی طریقہ کار ہے، خواجہ صاحب! بتائیں کہ ہم کسے بلائیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر دفاع کو اس لیے شامل کیا کہ معاملہ حل ہو، وزیردفاع اگربے بس ہیں تو کسی اور کو بلا لیتے ہیں۔

عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ لاپتہ افراد ہماری حراست میں نہیں،تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں مجھے اعتماد ہے کہ اکثریت کا پتا چلا لیا جائے گا۔اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمارے ساتھ کیا مذاق کر رہے ہیں؟، آپ نے پرسوں کہاکہ نام دیدیتے ہیں،آج کہہ رہے ہیں کہ پتا نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کو بتائیں کہ آپ کوبیرون ملک جانے والے حبیب اللہ کاکس نے بتایا، آپ صرف نام بتائیں، عدالت سے تعاون نہ کرنا اچھی بات نہیں۔ اس کے بعد عدالت نے 4 بجے تک لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کچھ دیر کیلیے ملتوی کردی۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم کا ٹیلی فون ہے، بات کرنے کی اجازت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کیا بندے آگئے ہیں؟۔وزیر دفاع نے کہا کہ جمعے تک 4,5 آ جائینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی سارے لائیں جو کل آ سکتے ہیں وہ آج بھی آسکتے ہیں،آپ نے عدالت کو بہت نیچا دکھایا، کب تک تماشا دیکھتے رہیں۔

اگر وہ کریمنل ہیں تومقدمہ درج کریں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ میں عدالت کے ساتھ ہوں کہ قانون سے کوئی بڑا نہیں، ہم آئین کے حصول کیلیے لڑ رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے بہت وقت دیدیا ہے لیکن پرنالہ وہیں کا وہیں ہے، وزیر دفاع فون سننے کے بعد کمرہ عدالت میں واپس آئے اور بتایا کہ وزیراعظم سے بات ہوئی ہے ، جمعے کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو اچھی خبر سنائینگے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ رجسٹرار کو کیوں، ہمیں اچھی خبر کیوں نہیں سنائینگے۔چیف جسٹس نے کہا کہ معاملے میں اگر وزیراعظم شامل ہوگئے تو یہ معمولی بات نہیں ہوگی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی یقین دہانی پر سماعت (آج) کیلیے ملتوی کر رہے ہیں ، آپ 30 لوگوں کی پیشی یقینی بنائیں، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کا تو صرف اشارہ چلتا ہے وہ ہماری طرح تو نہیں ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہا کہ (آج) جمعہ کے بعد اگر ہفتہ اور اتوار کو بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے۔بعد ازاں چیف جسٹس نے جمعہ کو لاپتہ افراد کو پیش کر نے کاحکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

مقبول خبریں