مسلم لیگ ن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطاء اللہ تارڑ کی گرفتاری و رہائی

اسلحہ چیک کرنا تھا عطا تارڑ خود ہی تھانے ساتھ آگئے، پولیس


ویب ڈیسک February 12, 2021
اسلحہ چیک کرنا تھا عطا تارڑ خود ہی تھانے ساتھ آگئے، پولیس

پاکستان مسلم لیگ ن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطاء اللہ تارڑ کو ڈسکہ پولیس نے گرفتار کر لیا اور کچھ دیر بعد رہا کردیا۔

عطا تارڑ ضمنی الیکشن مہم کے لیے وزیر آباد میں موجود تھے جب ن لیگی رہنماؤں کے بقول انہیں حراست میں لے کر وزیرآباد تھانے منتقل کیا گیا۔

لیگی کارکنان نے تھانہ کے باہراحتجاج شروع کردیا جبکہ پولیس نے کچھ دیر بعد عطا تارڑ کو رہا کردیا۔ پولیس نے کہا کہ ہم ڈرائیور کو اسلحہ لائسنس چیک کرنے لائے تھے تو یہ لیگی رہنما زبردستی ساتھ آگئے، الیکشن میں اسلحہ چیک کرنااورامن و امان کا خیال کرناہماری ڈیوٹی ہے، کسی پہ تشدد نہیں کیا نہ ہمیں ایسی اجازت ہے۔

رہائی کے بعد عطا تارڑ نے کہا کہ حکومتی پارٹی میں کسی کا اسلحہ چیک نہیں ہوتا، یہ ہمارے لوگوں پہ تشددکریں ہم چپ کرجائیں یہ نہیں ہوگا، اگرالیکشن پولیس نے لڑناہے توان سے نمٹنا جانتے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عطاتارڑاورعابدرضاافراتفری پھیلانےکےلیےوہاں گئےتھے، پولیس کواطلاع ملی تھی،عابد رضاکےساتھ مسلح افرادہیں اورانکی گاڑی میں اسلحہ ہے، پولیس نےجلسےکےبعدعابد رضاکی گاڑی کوروکا، عطاتارڑخودگاڑی میں بیٹھ گئے اور کہا جو تفصیلات لیناچاہتےہیں تھانےجاکرلے لیں، لیکن پھرکنیزوں کو میسیج کیےکہ مجھے گرفتارکرلیاگیا، یہ ایک پلان ڈراماتھا، اس کامقصدوزیرآباداورڈسکہ کےضمنی الیکشن میں ہمدردیاں حاصل کرناتھا۔

ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عطاتارڑکی گرفتاری انتخابات سےقبل دھاندلی ہے، جب کوئی اورطریقہ واردات ان کوسمجھ نہیں آتاتویہ گرفتاریاں کرتےہیں، مریم نوازکی ڈسکہ میں ریلی کے خوف کی وجہ سے عطاءتارڑ کوگرفتارکیا گیا تھا۔

مقبول خبریں