قومی ترجیحات میں بلوچستان شامل

کوئی ایسا سماجی مسئلہ نہیں ہے، جس کا حل نہ ہو، بے شک وہ اپنے ہی دشت میں بھٹکتے بلوچستان کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔


Editorial July 08, 2021
کوئی ایسا سماجی مسئلہ نہیں ہے، جس کا حل نہ ہو، بے شک وہ اپنے ہی دشت میں بھٹکتے بلوچستان کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔ فوٹو: فائل

قومی قیادت اور فوج کی مکمل توجہ بلوچستان پر ہے، امن اور استحکام سے پاکستان میں ترقی ہوگی، سیکیورٹی فورسز بلوچستان اور پاکستان کے امن و خوشحالی کے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے ثابت قدم، پرعزم اور چوکنا ہیں۔

ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے قومی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے ۔ ان کا موقف واضح دوٹوک اور دفاع پاکستان کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ، خوشحال، پرامن اور محفوظ بنانے اور اسے درپیش چیلنجوں سے نجات دلانے کے لیے سول اور عسکری قیادت ایک ہی صفحہ پر ہے،بلاشبہ ہماری قو می ترجیحات میں بلوچستان شامل ہے، درحقیقت بلوچستان میں بیرونی طاقتوں کے ملوث ہونے کے شواہد ہمارے پاس موجود ہیں، ان کو ببانگ دہل عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کا مسلسل عمل جاری رکھنا ہوگا، اس لیے کہ جوبھی بیرونی عناصر شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں، ان کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنا وقت کی نا گزیر ضرورت ہے۔

کوئی ایسا سماجی مسئلہ نہیں ہے، جس کا حل نہ ہو، بے شک وہ اپنے ہی دشت میں بھٹکتے بلوچستان کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔ لگتا ہے بیرونی طاقتیں پاکستان کو اس طرح کے حالات پیدا کرکے سبق دینا چاہتی ہیں۔ ان حالات میں ہمیں سفارتی طور پر انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرنا اور پوری تندہی سے بھارتی جارحیت کو پوری دنیا میں بے نقاب کرنا ہوگا۔

بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں ایک بہت بڑی تعداد افغانوں کی موجود ہے، جو کہ میگنا سائیٹ، جپسم، کرومائیٹ اور کوئلہ وغیرہ نکال رہے ہیں، ان کی ابھی تک رجسٹریشن کا بھی کوئی نظام موجود نہیں ہے، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں موجود ہر شخص کو قومی دھارے کے اندر شامل کیا جائے اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو ملک سے نکال دیا جائے۔

بلوچستان میں مزید فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے بلوچستان سے دہشت گردی کا قلع قمع ہوجائے گا اب بلوچ عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا اور یہ کام ہماری سیاسی قیادت احسن طریقے سے سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ چند مٹھی بھر، تنگ نظر، شرپسند عناصر کی کارروائیاں ہیں جو بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔پاکستان فوج کے سپہ سالار ان عناصرکے خاتمے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچ عوام کی ذہنی پسماندگی کو دور کیا جائے اور ایسا تعلیم اور روز گار کی دستیابی سے ممکن ہے۔آرمی چیف کے بیان سے یہ واضح ہوتاہے کہ ہم سب مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ملک کو مختلف چیلنجوں سے نکالنا چاہتے ہیں ،ہم سب ایک ہیں، ملکی تعمیر و ترقی سلامتی اور اسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے فوج قومی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں۔

سی پیک کے تحت شروع کیے گئے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، کچھ پہ کام جاری ہے۔ چین پاکستان میں سڑکوں کا جال بچھا رہا ہے، پشاور سے کراچی تک ریلوے ٹریک درست کر رہا ہے، پاور پروجیکٹس لگا رہا ہے، انڈسٹریل زون بنا رہا ہے، مختلف ڈیمز بن رہے ہیں، بلوچستان میں بنجر زمینوں کو ہرا بھرا کرنے کے لیے پانی کے ذخیروں پر کام ہو رہا ہے، گوادر میں آئل ریفائنری پر کام جاری ہے۔

اعلیٰ سڑکوں نے سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک کر دیا ہے۔ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے بھی ترقی کا راستہ دیکھ رہے ہیں۔ گوادر میں ایک شاندار انٹرنیشنل ایئر پورٹ بن رہا ہے۔

یہی بناوٹ، سجاوٹ اور ترقی ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، ہمارا دشمن خاص طور پر بلوچستان سے ایسے بے وفاؤں کو تلاش کرتا ہے جو بلوچستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، چند لالچی افراد خوبصورت بلوچوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، محض چند ڈالروں کے لیے نفرت کی فصل اگانا چاہتے ہیں، یہ بزدل بیرون ملک بیٹھ کر ملک کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی کمر تو ٹوٹ چکی ہے مگر یہ چھپ چھپا کر کوئی نہ کوئی واردات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انڈیا، اسرائیل اور دیگر ممالک گوادر کا نام سنتے ہی ماہی بے آب کی طرح تڑپنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے اس منصوبے کو خراب کرنے کے لیے دشمنوںنے کئی جال بچھائے، بڑی منصوبہ بندی کی مگر خدا کا شکر ہے اس کے سب منصوبوں پر پانی پھر گیا اور گوادر کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔

گوادر پاکستان کے مخالفین کی آنکھوں میں کیوں کھٹکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ پانچ ارب انسانوں کا گیٹ وے ہے، اس سے پاکستان معاشی لحاظ سے بہت مضبوط ہو جائے گا، اس لیے کہ گوادر کی کامیابی کے ساتھ ہی دنیا کی طاقت ایشیا کے پاس ہو گی، یورپ اور امریکا، ایشیا کے محتاج ہو کر رہ جائیں گے۔ گوادر بھی پاکستان کے لیے کیا انمول تحفہ ہے۔

گوادر پاکستان کے لیے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون نے آٹھ ستمبر 1958 کو عمان سے خریدا، جنرل ایوب خان کی حکومت میں دسمبر 1958کو گوادر سرکاری طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔ گوادر بلوچی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے؛ گوا یعنی ہوا، اور در یعنی دروازہ۔ تو گوادر کا مطلب بنا ہوا کا دروازہ۔ گوادر بحیرہ عرب کے اوپر اور خلیج فارس کے منہ پر ہے۔ پاکستان اور چین کی پرانی قیادتیں بھی محبت کے رشتوں میں بندھی رہیں۔ ایوب خان کے دور میں شاہراہ قراقرم شروع ہوئی۔

سب جانتے ہیں کہ گوادر پورٹ معاشی حب ہے یہ یورپ اور سینٹرل ایشیا کو ملانے کے لیے گیٹ وے ثابت ہوگا۔جب گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال ہوگا تو اس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان ترقی کی منازل طے کرے گا۔اسی تناظر میں دیکھاجائے تو میری ٹائم سیکٹر کی ترقی سے ملک کا جی ڈی پی دو سے تین گنا ہو سکتا ہے۔ شپنگ انڈسٹری میں بیرونی حصہ زیادہ ہے، نجی شعبے کو اس جانب توجہ دینی چاہیے اور شپنگ لائنز میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

عمان جیسے چھوٹے ملک میں چار بندرگاہیں بن چکی ہیں، ہمارے ہاں بھی گوادر کے بعد مزید بندرگاہیں بنائی جا سکتی ہیں، مو جودہ دور میں بین الاقوامی معاشی نظام کا دفاع، بحری افواج کی اہم ذمے داری ہے۔ سی پیک منصوبے کا کریڈٹ لینے کی ایک دوڑ سی ہے لیکن کوئی سیاسی لیڈر یہ نہیں بتائے گا کہ اس نے کتنی بار گوادر کے قدیم رہائشی علاقوں یا پھر ملک کے چولہے جلانے والے علاقے سوئی کا دورہ کیا، وہاں کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کی۔بلوچ نوجوانوں کو اس مٹی سے پیار ہے، وہ سسٹم سے نالاں ہیں۔ وہ معاشرتی ناانصافی کے خلاف بولتے ہیں۔

وہ بہتری کے خواہاں ہیں لیکن نظر انداز کیے جانے والے رویوں سے نالاں ہیں،اگر واقعی بلوچستان کی زمین پہ پاکستانیوں کے خون کو بہنے سے روکنا ہے، تو مسائل کی جڑ تک پہنچنا ہو گا، اگر علیحدگی پسند مسلح تحریک کو ختم کرنا ہے تو ہمیں ان معاشی اور معاشرتی ناانصافیوں، لاتعلقی کے عمومی رویوں اور سیاسی حقیقتوں پرکھل کر بات کرنا ہوگی، ان کا عسکری نہیں سیاسی حل ڈھونڈنا ہو گا۔کچھ اور نہیں کم از کم اسی کو مستقل قومی پالیسی بنالیں۔ اس گرداب کو، اس سراب کو اور بے سمت دائرے کو کہیں سے تو ٹوٹنا ہوگا۔

مقبول خبریں