جدوجہد آزادی کشمیر کا استعارہ سیدعلی گیلانی

سید علی گیلانی کی اس طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے باعث انھیں کشمیرکا نیلسن منڈیلا اور عمر ختار بھی کہا جاتا ہے۔


Editorial September 03, 2021
سید علی گیلانی کی اس طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے باعث انھیں کشمیرکا نیلسن منڈیلا اور عمر ختار بھی کہا جاتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں وکشمیر میں نظربندی کے دوران سیدعلی گیلانی انتقال کرگئے،کشمیر کے الحاقِ پاکستان کے لیے انھوں نے حقیقی معنوں میں پر صعوبت زندگی گزاری،وہ مقبوضہ کشمیر میں بیٹھ کر اور عشروں سے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے مظالم برداشت کرتے ہوئے دراصل پاکستان، نظریہ پاکستان اور الحاقِ پاکستان کی جنگ لڑ تے رہے۔

وہ دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی ایک علامت تھے، انھوں نے اپنی زندگی میں جہاں بے پناہ مصائب دیکھے، وہیں ان کی کشمیر کی آزادی کے ساتھ غیر متزلزل محبت کے باعث انھیں دنیا بھر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے لیے ایک استعارہ بنایا۔آپ کی جدوجہد دنیا بھر کے آزادی پسندوں کے لیے رول ماڈل کا درجہ رکھتی ہے۔

سید علی گیلانی کی اس طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے باعث انھیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا اور عمر مختار بھی کہا جاتا ہے، آپ نے ہندوستا ن کے طول و عرض میں علمی و سیاسی حلقوں،ادبی انجمنوں، بار کونسلوں، پریس کلبوں اور بالخصوص یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے سامنے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا جاندار موقف دل نشین انداز میں پیش کیا۔

سیدگیلانی جرات و استقامت کا ایسا ہمالیہ تھے کہ ظلم و جبر کی تیز آندھیاں جس سے ٹکرا کر واپس ہوتی رہیں لیکن وہ ثابت قدم رہے، بھارت ان کے لیے پھانسی کے پھندے لاتا رہا،زنجیریں اور ہتھکڑیا ں آگے بڑھاتا رہا،مقتل سجاتا رہا لیکن وہ ظلم کا ہر وار مسکر ا سہتے رہے ۔سید علی گیلانی1962سے تادم مرگ جدوجہد آزادی کے جرم میں ربع صدی کا عرصہ جیل میں گزار چکے تھے۔

گیلانی صاحب زندگی کا بیشترحصہ جیلوں میں گزارنے اور ہنگامہ خیز سیاسی و تحریکی مصروفیا ت کے باوجود تیس سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔جن میں روداد قفس، صدائے درد، مقتل سے واپسی، دیدوشنید،فکر اقبال پر شاہکا ر کتاب، روح دین کا شناسا، پیام آخریں اور خود نوشت سوانح عمری ولر کنارے بھی شامل ہیں۔

14 اگست 2020 کو ایوان صدر میں تقریب کے دوران صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشان پاکستان سے نوازا، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ نے سید علی گیلانی کے لیے نشان پاکستان وصول کیا، سید علی گیلانی کو پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز آزادی کے لیے بے مثال جدوجہد کے باعث دیا گیا۔

وہ طویل عرصے تک کشمیراسمبلی کے رکن رہے اور اس دوران انھوں نے بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔کشمیر اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اسمبلی میں بجٹ پر بحث ہو یا امن عامہ کی صورت حال پر، پانی اور بجلی کا مسئلہ زیر بحث ہو یا صنعت اور دستکار ی کا، قانون سازی کا معاملہ ہو یا نظم و نسق کی بات، گیلانی صاحب ہر معاملے میں مسئلہ کشمیر کا ذکر چھیڑتے اور بھارت کے لتے لیتے رہتے۔

سیدعلی گیلانی ہمیشہ اس موقف کا اعادہ کرتے رہے کہ بھارت مکروفریب کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اول روز سے بھارت مسئلہ کشمیرکے حوالے سے تضادات اور دوعملی کی پالیسی پر چل رہا ہے ۔

سید علی شاہ گیلانی لاریب مقبوضہ کشمیر کے جملہ ساکنان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سید علی گیلانی کے بعد کشمیر کی تحریکِ حریت ایک قدآور رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔ گزشتہ کئی برس سے گھر پر نظربند ہونے کے باعث وہ سیاسی طور پر غیر فعال تھے لیکن ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا بآسانی پر نہیں ہو سکے گا۔

اسمبلی کاایوان ہو یا زندان کی کال کوٹھڑی، اسلام آباد کا شہر ہو یا سوپورکا قصبہ،جواہر لال نہرویونیورسٹی (دہلی)ہو یا مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ)یا سری نگر کا اقبال پارک، سید علی گیلانی ہر جگہ درس حریت دیتے اور قوم کو طوفانوں سے ٹکرانے کے گر سکھاتے رہے۔

سید علی گیلانی نے آزادی کی چومکھی جنگ مختلف محاذوں پر جاری رکھنے والوں ایک پوری کھیپ تیار کر دی ہے جو آج ہر محاذ پر بھارت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔سید علی گیلانی جس مقصد کے لیے جیے، اسی مقصد کے لیے سزا کاٹتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، مگر آخری دم تک انھوں نے کشمیر پر بھارتی تسلط کو تسلیم نہ کیا۔

مقبول خبریں