کمپیٹیشن کمیشن کی چین و بھارت کی طرز پر اسٹیل کی علیحدہ وزارت کے قیام کی تجویز

قومی اسٹیل پالیسی نہ ہونے سے صنعت غیر یقینی اور بے ضابطگیوں کا شکار ہے


ارشاد انصاری November 03, 2025

اسلام آباد:

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے اسٹیل انڈسٹری کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اسٹیل انڈسٹری کی علیحدہ وزارت کے قیام کی تجویز دیدی ہے۔

یہ تجویز ’’پاکستان کے اسٹیل سیکٹر میں کمپٹیشن کی صورتحال‘‘ پر مرتب کردہ رپورٹ میں دی گئی ہے۔

رپورٹ میں اسٹیل کی صنعت کو درپیش مسابقتی مسائل، نئے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں شمولیت میں درپیش رکاوٹوں، قومی اسٹیل پالیسی کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر ملک کی مجموعی برآمدات کا 71فیصد اور ورک فورس کا تقریباً 15فیصد حصہ دار ہے۔ لارچ اسکیل انڈسٹری، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 69فیصد اور مجموعی قومی پیداوار کا 8.2فیصد ہے۔

مالی سال 2024 میں مقامی اسٹیل کی پیداوار 8.4ملین میٹرک ٹن رہی، جس میں 4.9ملین میٹرک ٹن لانگ اسٹیل (بلیٹس و انگوٹس) اور 3.5ملین میٹرک ٹن فلیٹ اسٹیل (کوائل و پلیٹس) شامل تھے۔ اسٹیل اسکریپ کی درآمدات 2.7 ملین میٹرک ٹن رہیں جو خام مال کے لیے بیرونی انحصار کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاکستان میں فی کس اسٹیل کھپت صرف 47 کلوگرام رہی جو صنعتی اور تعمیراتی سرگرمیوں کی سست رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیل کی بہتر طلب بنیادی طور پر انفرا اسٹرکچر کی ترقی، شہری آبادی میں اضافے، صنعتی نمو اور سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری جانب سپلائی کے مسائل میں خام مال کی کمی، توانائی بحران اور درآمدی انحصار شامل ہیں۔

پاکستان اسٹیل مل، جو ایک وقت میں 1.1ملین ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت اور اہم ایک قومی اثاثہ تھی، سال 2015 سے غیر فعال ہے اور اس پر 400ارب روپے کے واجبات ہیں۔ اس کے برعکس چین، بھارت اور روس جیسے ممالک نے اسٹیل کے شعبے میں حکومتی سرپرستی، تکنیکی جدت اور سرمایہ کاری کے ذریعے نمایاں ترقی حاصل کی۔

رپورٹ میں پاکستان کے لیے مقامی کوئلہ اور آئرن اوئر کے ذخائر کی تلاش اور مائنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور توانائی کے مؤثر پیداواری طریقوں کو اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں ریگولیٹری کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس شعبے میں نئے سرمایہ کاروں کو کاروباری آسانیاں حاصل نہیں جبکہ سیکٹر کو بار بار تبدیل ہونے ہونے ایس آر اوز کے ذریعے ریگولیٹ کرنے سے غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔ قومی اسٹیل پالیسی کو بھی از سر نو جائزہ کی ضرورت ہے۔ کمزور انفورسمنٹ کے باعث مارکیٹ میں دستیاب 50فیصد تک اسٹیل ناقص معیار کا ہے۔ 

مزید ازاں، سابق فاٹا/پاٹا علاقوں میں ٹیکس استثنا سے 1.5ملین ٹن بغیر ٹیکس اسٹیل، ملک کے سیٹلڈ علاقوں میں واپس منتقل ہو رہا ہے، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 40 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

رپورٹ میں شعبے کی بہتری کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ قومی اسٹیل پالیسی کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے ایک مستحکم اور دیر پا پالیسی ترتیب دی جائے، ٹیکسوں کی شرح کو معقول کیا جائے اور اینٹی ڈمپنگ کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں۔ وزارتِ صنعت و تجارت کو فعال بنایا جائے، معیاری اسٹیل کی پیداوار کے اسٹینڈرز کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور غیر رجسٹرڈ چھوٹے اسٹیل یونٹس کو رجسٹر کیا جائے۔

اس کے علاقہ سابق فاٹا/پاٹا کی ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے۔ معیاری اسٹیل کی پیداوار اور لاگت میں کمی کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال کر فروغ دیا جائے، آئرن اوئر کی مائننگ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ویلیو ایڈیشن اور گرین ٹیکنالوجیز کے استعمال کو بڑھایا جائے۔

کمپیٹیشن کمیشن تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اسٹیل سیکٹر میں پائیدار، شفاف اور مسابقتی اصلاحات کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا۔ رپورٹ کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

مقبول خبریں