کراچی:
پاک بحریہ کی سالانہ مشق سی گارڈز کے دوسرے روز سمندری فیز کے دوران بحیرہ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو،انسداد منشیات و انسداد انسانی اسمگلنگ آپریشن کےعملی مظاہرے کیے گئے، مشقوں میں ہیلی کاپٹرز، ہوائی جہازوں کے علاوہ بحری جہازوں اور فاسٹ رسپانس بوٹس سمیٹ دیگربحری اثاثوں نے حصہ لیا،سمندری مشق 9 فروری تک کھلے سمندر میں جاری رہے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 840 ناٹیکل مائل طویل ساحلوں کی حفاظت پر مامور پاک بحریہ کی تیسری مشق سی گارڈز کے سمندری فیز کے دوران منگل کو بحیرہ عرب میں پیشہ ورانہ تربیت کی مختلف مشقیں کی گئیں۔
مشق کے ابتداء میں فرضی ماحول کے دوران کھلے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیاگیا جس کے دوران مشکل صورتحال سے دوچار ماہی گیر کشتی کی جانب سے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر(جے ایم آئی سی سی) کو مدد کی کال موصول ہونے پر پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے ہوائی جہاز ڈیفینڈر نے سطح سمندر پر انتہائی نچلی پرواز میں فضائی جائزہ لینے کے بعد معلومات آپریشن ٹیمز کو منتقل کیں جس کے بعد پاکستان نیوی کے ایلوٹ ساختہ ہیلی کاپٹرز اورفاسٹ رسپانس بوٹس نے سمندر میں ڈوبنے والے 7 ماہی گیروں کو گہرے سمندر سے پی ایم ایس ایس کشمیر نامی بحری جہاز پر منتقل کیا، ان ماہی گیروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
دیگر مشقوں کے دوران انسداد انسانی اسمگلنگ اور انسداد منشیات کے خلاف مشترکہ آپریشنز کا عملی مظاہرہ کیا گی۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈی جی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کموڈر سید نعمان علی کا کہنا تھا کہ سی گارڈز مشقوں میں ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس فورس، پاکستان کوسٹ گارڈ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، پاکستان کسٹمز، سندھ و بلوچستان پولیس، صوبائی فشریز کے محکموں کے علاوہ فلاحی اداروں سمیت 53 ملکی ادارے شریک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مشق عملی منظر ناموں پر مشتمل ہے جن میں بندرگاہوں کا تحفظ، سمندر میں بحری جہازوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت انسداد منشیات و اسمگلنگ آپریشن اور گوادر کی ٹاسک فورس 88کی تیاری اور عملی صلاحیتوں کی جانچ کی جائےگی۔
سید نعمان علی کے مطابق گزشتہ 5 برس کے دوران میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی نے2 ہزار انسانی جانوں کو بچایا، سی گارڈز مشق 9 فروری تک تواتر سے جاری رہے گی۔