مفاہمت اور مزاحمت کی سیاسی کشمکش

مائنس بانی پی ٹی آئی کی باتیں اور، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے بارے میںحکمران جماعت کا سخت لب و لہجہ مفاہمت کے امکان کو ختم کرتا ہے


سلمان عابد January 13, 2026

قومی سیاست قیاس آرائیوں اور سیاسی چہ مگوئیوں کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تجزیاتی تقسیم اور ٹکراؤ کی سیاست کے کھیل نے ہمیں آگے بڑھنے کے عمل سے روک دیا ہے۔دوسری طرف شخصیت پرستی اور پالیسی میں تضادات نے مجموعی طوراہل دانش کہلانے والے طبقے کومدلل اور حقائق پر مبنی تجزیے کرنے سے روک رکھا ہے ۔

ایک طرف یہ منطق دی جاتی ہے کہ سیاست اور معیشت میں مکمل استحکام ہے اور ہم معاشی ترقی کے نئے امکانات کی طرف بڑھ رہے ہیں اوریہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی اور ٹکراؤ کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ ادھر حکمران طبقہ مختلف حوالوں سے مذاکرات اور مفاہمت کی بات بھی کررہا اور اپنے سیاسی مخالفین کو بات چیت کی دعوت بھی دے رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کنفیوژن کا منظر ان کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہا ہے۔

پچھلے دنوں سینیٹر رانا ثنا اللہ جو حکومتی ٹیم کے اہم رکن ہیں ان کے بقول اگر ملک کے پانچ بڑے طاقت ور افراد مل کر بیٹھ جائیں تو حالات کی بہتری کا درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔ان کا اشارہ نواز شریف اور شہباز شریف سمیت آصف علی زرداری ، عمران خان اور فوجی قیادت کی طرف تھا ۔ویسے تو اصل میں ان پانچ فریقوں میںنہیں بلکہ صرف بانی پی ٹی آئی کی سیاست ٹکراؤ کی علامت بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کو چھوڑ دینے والے سیاسی رہنما فواد چوہدری جو اب بھی خود کو پی ٹی آئی میں شامل ہی سمجھتے ہیںلیکن پی ٹی آئی انھیں اپنا نہیں سمجھتی ‘ان کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس میں یہ  اعلامیہ جاری ہوا ہے کہ ملک کی سیاسی اور غیر سیاسی قیادت مل بیٹھ کر نہ صرف سیاسی مسائل کا حل تلاش کرے بلکہ اس عمل میں ایک بڑی پہل حکومت کو جیلوں میں بند پی ٹی آئی کے سزا یافتہ قیدیوں کی رہائی کی صورت میں دکھانی ہوگی۔یہ الگ بات ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس کے اصل فریقین جن میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت سمیت پی ٹی آئی کی جانب سے اس میں عدم شرکت تھی جس سے اس کانفرنس کا وہ مقصد نہیں سامنے آسکا جو آنا چاہیے تھا۔لیکن کیونکہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد مفاہمت کی سیاست کو قریب لانا تھا تو اس عمل کی یقینی طور پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کا موقف الگ ہے جب کہ حکومت کا مفاہمت کے حوالے سے اپنا موقف ہے۔

حکومت ایک ہی جملے میں قومی مفاہمت اور بات چیت کی طرف اشارہ کرتی یا اس کی حمایت کرتی  ہے تو دوسری طرف ان کی بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کے بارے میں سخت گیر پالیسی ہے۔بانی پی ٹی آئی کو سیکیورٹی تھریٹ کہنا‘دو متوازی حکمت عملیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

 مائنس بانی پی ٹی آئی کی باتیں اور، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے بارے میںحکمران جماعت کا سخت لب و لہجہ مفاہمت کے امکان کو ختم کرتا ہے۔لہٰذا ان سب میں مفاہمت کی باتیں فی الحال سیاسی نعروں تک ہی محدود ہیں اور ہمیں مذاکرات کی سیاسی بیٹھک کے بارے میں کسی امید کے پہلو کم نظر آتے ہیں ۔

ملک کے بعض تجزیہ نگار یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی پی ٹی آئی کے بارے میں اب تک کی پالیسی نے وہ نتائج نہیں دیے جو ان کو درکار تھے کیونکہ پی ٹی آئی میںکوئی الگ دھڑا سامنے نہیں آ سکا۔ اس ناکامی کی بنیاد پر ہی مفاہمت کی باتیں سامنے آئی ہیں ۔ کیونکہ مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے میں بنیادی نوعیت کا فرق یہ ہوتا ہے اور ہم سب فریق اس نقطہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا جان بوجھ کر اس اہم نقطہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے کہ مذاکرات کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔

حکمران طبقہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی اب تک کی بانی پی ٹی یا پی ٹی آئی کے بارے میںپالیسی واضح نہیں ہے۔اسی بنیاد پر سیاسی پنڈت یہ اعتراف بھی کررہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی یا پی ٹی آئی مخالف بیانیہ وہ نتائج نہیں دے رہا جو دینے چاہئیں۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کے بقول موجودہ حالات میں ملک میں مفاہمت کی سیاست خود سیاسی فریقین کی مجبوری بن گئی ہے لیکن اصل مسئلہ معاملات کو لے کر آگے چلنے کے طریقے کا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے بانی یا پارٹی کی مزاحمت نے جہاں ان کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں‘وہاں  حکومتی مشکلات میں اضافہ کردیا جو خود حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔کیونکہ حکومتی طبقہ سمجھتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مفاہمت کے امکانات محدود ہیں۔اس لیے مسلم لیگ ن یا حکومت کی مفاہمت کی سنجیدگی پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں ۔خود پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست میں ہمیںقومی مسائل اور ا س کی حکمت عملی کی سطح پر مختلف تضاد دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں بھی بانی پی ٹی آئی کے بارے میں کوئی نرم گوشہ دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔

پی ٹی آئی کی اصل طاقت بانی پی ٹی آئی ہی ہیں اورپی ٹی آئی کے اندر فی الحال ان کو نظرانداز کرکے مفاہمت کے عمل کو لے کر چلنے کی کسی میںطاقت اور قوت نظر نہیں آ رہی۔ ادھرحکمران سیاسی جماعتوں اور سسٹم کی جانب سے پی ٹی آئی اور بالخصوص اسیران پی ٹی آئی جو جیلوں میں قید ہیں ان کے لیے کسی قسم کی کوئی نرمی نظر آ رہی ہے ۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی بھی اتنی ایفیکٹ نظر نہیں آ رہی جتنا کہ اسے نظر آنا چاہیے تھا۔ اس کی بات کو بھی کسی نے پذیرائی نہیں دی ہے۔

پی ٹی آئی کے اندر لوگوں نے بھی اسے پذیرائی نہیں دی ہے۔اسی طرح جو لوگ یہ مشورہ دیتے ہیںکہ بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کا علاج مفاہمت سے نہیں بلکہ طاقت کی حکمت عملی سے ہی جڑا ہوا ہے وہ بھی زمینی حقائق کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ اصولی طور پر جہاں حکومت یا اسٹیبلیشمنٹ کو مفاہمت کا طرز عمل اختیار کرنا ہے وہاں خود بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کو بطور جماعت اپنی مزاحمت،سیاسی تلخیوں،سخت گیر سطح کی بیان بازی اور شخصیات کو ٹارگٹ کرنے کی پالیسی سے گریز کرکے خود کو بھی مفاہمت کی سیاست میں مثبت طور پر پیش کرنا ہوگا۔کیونکہ مسئلہ جہاں حکومت کی طرف سے دیکھنے کو مل رہا ہے وہاں پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اور مفاہمت پر مبنی ایجنڈے کے مسائل بھی مفاہمت کی سیاست کو کمزور کررہے ہیں۔

سیاست میں مفاہمت کا کھیل درمیانی راستے اور لچک دار رویے یا کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اسی لیے جب تک فریقین میں ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی تلخی،شخصی کشیدگی اور بداعتمادی کا ماحول سمیت ایک دوسرے کے بارے میں سنگین الزامات جیسے ریاست دشمنی کے ختم نہیں ہونگے بات آگے نہیں بڑھ سکے گی۔یہ جو ہم نے سیاسی اختلافات کو سیاسی دشمنی یا کسی کے وجود کو ختم کرنے کی پالیسی سے گریز نہ کیا تو تب بھی معاملات بہتری کی طرف نہیں بڑھ سکیں گے۔

قومی مفاہمت کی اس سیاست کو محض چند فریقین یا سیاسی جماعتوں تک محدود ہوکر نہ دیکھا جائے بلکہ مفاہمت کی یہ پالیسی ہمارے پورے سیاسی ڈھانچہ کے مفاد میں ہے اور اسی مفاہمت کی پالیسی سے سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کا استحکام جڑا ہوا ہے ۔کیونکہ ٹکراؤکی پالیسی کسی کے حق میں بہتر نہیں ہے۔معاملات کو طے کرنے کا بہترین طریقہ مذاکرات ہی ہے۔اس لیے قومی سیاست میں ایک بڑا اتفاق رائے اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے کی حکمت عملی ہی مجموعی طور پر ریاست کے مفاد میں ہے ۔یہ کام سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں اور اس میں سب فریقین کو اپنے اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ایک بڑے ریاستی اور عوام کے مفادات کے تابع ہوکر سوچنا ہوگا،یہ ہی ہمارے مفاد میں ہے۔

پاکستان میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور یہ کہ اس کا احتساب نہیں ہونا چاہیے‘ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے بھی بہتر ہے کہ وہ ایسا بیانیہ بنانے سے گریز کی پالیسی اختیار کرے جو ملک کے وائٹل انٹرسٹ کے اگینسٹ سمجھا جائے۔ملک کے تجزیہ کاروں کو بھی چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو دیکھ کر اور پرکھ کر اپنا تجزیہ اختیار کریں کیونکہ غیر حقیقی تجزیے پراپیگنڈے کے زمرے میں ہی سمجھے جائیں گے۔ بہر حال مفاہمت ایک ایسا لفظ ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں کرتا لیکن مفاہمت کی منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی فریقین کو اپنے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں