اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات دگنا کر کے 4 برس میں 60 ارب ڈالر تک لے جانے کیلیے برآمدی ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پرغور کیلیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی ہے۔
یہ بات وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں بتائی۔ احسن اقبال کے مطابق کمیٹی کی سربراہی نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکرینگے، جو برآمدات میں اضافے سے متعلق تجاویزکا جائزہ لے کر آئندہ ہفتے وزیراعظم کو حتمی سفارشات پیش کرے گی۔
وفاقی وزیر نے بتایاکہ گزشتہ ماہ پلاننگ وزارت نے سول و عسکری قیادت کو آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کیلیے تفصیلی بریفنگ دی تھی،جس میں چارسال میں برآمدات 60 ارب ڈالر اوراگلی دہائی میں 100ارب ڈالرتک بڑھانے کی تجاویزشامل تھیں۔
انہوں نے کہاکہ ایف بی آرکی کمزورکارکردگی کے باعث وفاقی اورصوبائی حکومتیں مالی دباؤکاشکار ہیں، دسمبر میں 47 فیصدکم ریفنڈز اداکرنے کے باوجودایف بی آرکو 330 ارب کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا۔
اس کے نتیجے میں ترقیاتی بجٹ کے اجرامیں تاخیر ہوئی اورمالی سال کے پہلے نصف میں صرف 210 ارب روپے، یعنی سالانہ بجٹ کا 21 فیصدخرچ ہوسکا۔
احسن اقبال کے مطابق اگر برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہواتو پاکستان کو دوبارہ دوست ممالک یاآئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا، پاکستان اس وقت دوست ممالک سے لیے گئے تقریباً 13ارب ڈالرکے قلیل مدتی قرضوں کامقروض ہے۔
انہوں نے برآمدی صنعت کیلیے قومی تعطیلات کومزدوروں کی رضامندی سے اختیاری بنانے کی تجویز بھی دی،کیونکہ تعطیلات سے برآمدی سائیکل متاثر ہوکرکروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔
مزیدبرآں وزیراعظم کوسفارش کی گئی ہے کہ وہ اعلیٰ برآمدی صلاحیت رکھنے والی ٹاپ 200 کمپنیوں کی سرپرستی کریں۔
وزارت منصوبہ بندی نے بورڈآف انویسٹمنٹ کوخصوصی و صنعتی زونزکے تیزرفتار قیام، وزارت خارجہ اورتجارت کوسفارتی مشنزکوتجارتی مراکز میں بدلنے اور اوورسیز پاکستانیوں کوسرمایہ کاری و برآمدی ترقی میں شراکت دار بنانے کی ہدایات دینے کی بھی سفارش کی ہے۔
احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں،کاروبار معمول کے مطابق رکھ کر 2035 تک معیشت کو 600 ارب ڈالر تک لے جانا یا بلند اہداف اپنا کر ایک ٹریلین ڈالرزکی معیشت بننے کی کوشش کرنا، 24 برس میں پاکستان کی برآمدات صرف 4.1 گنا بڑھیں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ معیشت مستحکم ہوچکی ہے، پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.7 فیصدرہی،مہنگائی میں استحکام آیااور بڑے پیمانے کی صنعت نے مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں 5 فیصدترقی کی۔