کراچی:
سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے دورہ کراچی میں ایک دفعہ پھر 9 مئی جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش کی، سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور پرچہ نہیں کاٹا، ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دیں گی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند دن پہلے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلٰی یہاں آئے، اطلاع ملی تو سندھ حکومت نے ان سے رابطہ کیا، سکیورٹی اور سہولیات کی یقین دہانی کروائی، اس سے پہلے تھریٹ الرٹ آیا تھا ہم نے اس لیے نہیں بتایا کہ کوئی اس کا فائدہ نہ لے، سید ناصر حسین شاہ نے پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کیا، پہلے اچھے ماحول میں گفتگو ہوتی رہی، سعید غنی نے ان کا استقبال کیا، پہلے دن بات چیت ہوئی تھی کہ کچھ علاقوں میں جائیے گا اور کچھ علاقوں میں مت جائیے گا وہاں سکیورٹی خدشات ہیں مگر ہمارے منع کرنے کے باوجود وہ ضلع سینٹرل میں گئے، کچھ گھنٹے اگر آپ پھنس گئے تو اس سے حکومت سندھ کو کیا ملنا تھا؟ آپ کو چار گھنٹے ٹریفک میں پھنسا کر ہمیں کیا ملے گا؟
سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت مانگی گئی زبانی طور پہلے ہی اجازت دی گئی تھی، اجازت نامہ ملنے کے پانچ منٹ کے اندر پی ٹی آئی رہنماؤں کا بیان آیا کہ وہ باغ جناح میں جلسہ نہیں کریں گے، سڑک پر کریں گے، باغ جناح میں جلسے سے پہلے ٹریفک پولیس پلان بناتی ہے ، ناصر شاہ نے وزیر اعلی کے پی کو آفر کی تھی کہ کسی چیز کی کمی ہے تو ہم دیں گے، اگر لوگ بھی چاہئیں تو ہم دے دیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ان لوگوں نے ایک دفعہ پھر 9 مئی جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش کی، حکومت سندھ نے تحمل کا مظاہرہ کیا کوئی پرچہ نہیں کاٹا، پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، میڈیا کی گاڑیاں توڑی گئیں، خواتین صحافیوں سے بدتمیزی کی گئی جو کہ ان کی روایت ہے، ساری اس ذہن کی عکاسی ہے آپ کے لیڈر نے آپ کے ذہن میں صرف انتشار اور بغاوت کو پیدا کیا، ان سب باتوں کے باوجود سندھ حکومت نے ان کے خلاف پرچہ نہیں کاٹا، پی ٹی آئی کی انتشار اور ہمارے سیاست جمہوری ہے، ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا، حکومت نے صبر و تحمل سے کام لیا، حکومت نے مقدمہ درج نہیں کیا، یہ لوگ پاکستان اور اداروں کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں، ہم نے دل سے مہمان نوازی کی، ہم نے کہا کہ ان کی اور ہماری سیاست الگ ہے مگر ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا، ہم واضح کردیں کہ سندھ حکومت 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دیں گے۔
وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہم نے ان کو وہ عزت دی جو یہ کبھی خود ہمیں نہیں دیتے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا شیڈول پہلے سے طے تھا، ہم نے پیغام دیا کہ اگر وہ نہیں آ سکتے تو ہم آنے کو تیار ہیں، جن جن جگہوں اور روٹس سے منع کیا گیا، انہوں نے جان بوجھ کر وہی راستے اختیار کیے، جن علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی، وہیں جانے کی کوشش کی گئی، پابندی کے باوجود مخصوص مقامات اور روٹس کا انتخاب کیا گیا، سوال یہ ہے کہ آخر وہ کس مشن پر نکلے تھے، اس کا علم تو خدا ہی کو ہے، انتظامیہ کی ہدایات کے برخلاف وہی راستے استعمال کیے اور بعد میں شور مچادیا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں یہ یاد نہیں کہ طالبان کے دفاتر پاکستان میں کھولنے کی بات کی جا رہی تھی، کیا آپ ہمیں یہ بتائیں گے کہ وہ طالبان رہنما جو پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں گرفتار کیے گئے تھے، وہ کس کے حکم پر رہا کیے گئے؟ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور طالبان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی تھیں، جب عمران خان کی حکومت آئی اور شاہ محمود قریشی وزیرِ خارجہ تھے تو انہی طالبان رہنماؤں کو باعزت بری کیا گیا، سزا یافتہ افراد اور قیدیوں کو بغیر عدالت میں جائے، بغیر قانونی طریقہ کار کے رہا کروایا گیا، اگر حکومت سزا یافتہ افراد کو رہا کروانا چاہتی ہے تو قانون اور عدالت کا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے مگر اس دور میں عدالت کو بائی پاس کر کے طالبان رہنماؤں کو رہا کیا گیا۔