نسخہ زہر

فیکٹری سے خام مال، پیکنگ میٹریل اور بڑی تعداد میں تیار شدہ گولیاں برآمد ہوئیں



حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر منشیات اسمگلنگ کی نوعیت یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اب یہ سرگرمی صرف سرحدی راستوں، روایتی اسمگلرز یا خفیہ نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہی بلکہ بظاہر قانونی، منظم اور معتبر سمجھے جانے والے شعبوں کے اندر خاموشی سے سرایت کرچکی ہے۔

فارماسیوٹیکل انڈسٹری (Pharmaceutical Industry)، جسے انسانی جان بچانے، علاج معالجے اور صحت کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے، بعض مخصوص معاملات میں عالمی منشیات نیٹ ورک کے لیے ایک محفوظ پردہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹراما ڈول (اوپیائیڈز''Opioids''کی ایک قسم) جیسی کنٹرولڈ درد کش دوا کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اب محض طبی یا انتظامی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ ایک سنگین عوامی، سماجی اور قومی سلامتی کے مسئلے کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔

اوپیائیڈز (Opioids) ایسی کیمیکلز یا دوائیں ہیں جو دماغ اور اعصاب پر اثر ڈال کر درد کو کم کرتی ہیں اور بعض اوقات خوشی یا سکون کا احساس پیدا کرتی ہیں۔

ٹراما ڈول (Tramadol) بھی ایک مصنوعی اوپیائیڈ دوا ہے جو درد کم کرنے میں مؤثر ہے، مگر اس کے غلط اور اضافی استعمال یا طویل مدت استعمال کی صورت میں نشے اور جسمانی انحصار (Dependency) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان میں ٹراماڈول کی غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی (High Dose) شکلیں مارکیٹ میں پائی گئی ہیں اور بہت سی بڑی اسمگلنگ کارروائیاں بھی سامنے آئی ہیں جن میں کروڑوں کی تعداد میں ٹیبلیٹس (Tablets) بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کی گئی، جس سے اس نشے کی مانگ اور غلط استعمال کا رجحان نمایاں ہو رہا ہے۔ سرکاری ڈیٹا اور دستیاب ریکارڈز اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹراماڈول کے خام مال اور تیار شدہ ادویات کی پیداوار، درآمد اور نقل وحرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

یہ اضافہ اس قدرغیر متوازن اور غیر منطقی تھا کہ ملکی طبی ضروریات، اسپتالوں کی طلب اور رجسٹرڈ مریضوں کے استعمال سے اس کا کوئی براہِ راست تعلق بنتا نظر نہیں آتا۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ اضافی پیداوار واقعی مریضوں کے علاج کے لیے تھی یا اس کے پیچھے کوئی منظم اور منافع بخش غیر قانونی مقصد کارفرما تھا۔تحقیقی شواہد بتاتے ہیں کہ ٹراما ڈول ایک ایسی دوا ہے جسے دنیا کے کئی ممالک میں سخت کنٹرول یا براہِ راست منشیات کے زمرے میں رکھا گیا ہے، کیونکہ اس کا غلط استعمال نشے، تشدد، جرائم، سماجی بگاڑ اور ذہنی انحطاط کو فروغ دیتا ہے۔

افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ٹراما ڈول ایک سنگین سماجی بحران کی صورت اختیارکرچکا ہے، جہاں نوجوان نسل اس کی لت میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنی صحت بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہی ہے، جس کی وجہ سے جاپان ، انڈونیشیا، مصر اور متحدہ عرب امارات میں ٹراماڈول کی فروخت پر پابندی عائد ہے۔

ایسے میں جب پاکستان کا نام اس دوا کی پیداوار، خام مال کی درآمد اور برآمدات کے تناظر میں بار بار سامنے آتا ہے تو یہ محض ایک خبر نہیں رہتی بلکہ ایک قومی تشویش اور بین الاقوامی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق جنوری 2024 سے جنوری 2025 کے دوران پاکستان میں تقریباً 26.1 میٹرک ٹن اس دوائی کا خام مواد، یعنی Active Pharmaceutical Ingredient (API)، درآمد کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق اگر اسی مقدارکو عام 50 ملی گرام یا 100 ملی گرام کی گولیوں میں تقسیم کیا جائے تو یہ تقریباً 215 ملین 50 ملی گرام اور 105 ملین 100 ملی گرام گولیوں کے برابر بنتی ہے، جب کہ ملک میں درد کے مریضوں، سرکاری اسپتالوں اور رجسٹرڈ طبی استعمال کی مجموعی طلب اس کا صرف ایک محدود حصہ بنتی ہے۔

یہی واضح فرق اس پورے معاملے کی بنیاد بنتا ہے اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں تیار یا درآمد ہونے والی دوا آخر کہاں گئی،کس نے استعمال کی اورکن راستوں سے اس کی ترسیل ممکن بنائی گئی۔

یہ غیر معمولی مقدار اس امرکی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ کچھ کمپنیوں یا منظم نیٹ ورکس نے اس خام مال کو اضافی خوراک والی گولیوں، مثلاً 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام کی تیاری کے لیے استعمال کیا۔

یہ وہ خوراکیں ہیں جو پاکستان میں ممنوع یا سختی سے محدود کردی گئی تھیں، مگر بعض افریقی اور دیگر غیر ملکی منڈیوں میں ان کی طلب زیادہ اور نگرانی کم ہونے کے باعث یہ اسمگلنگ کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہیں۔

ایک بڑی کارروائی میں کراچی سے 5.6 ملین گولیاں ضبط کی گئیں جن کی عالمی مارکیٹ ویلیو تقریباً 2.8 ارب روپے بتائی گئی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ اسمگلنگ ایک منظم اور سوچے سمجھے طریقہ واردات کے تحت کی جا رہی تھی۔

اسی سلسلے میں ایک اورکارروائی کے دوران 21 ملین سے زائد ٹراما ڈول گولیاں اور ہزاروں کیپسولز ایک ویئر ہاؤس سے برآمد ہوئے، جن پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی رجسٹریشن موجود نہیں تھی۔

یہ امر واضح کرتا ہے کہ یہ ادویات یا تو جعلی تھیں یا غیر قانونی طور پر تیارکی گئی تھیں یا پھر انھیں دانستہ طور پر قانونی نظام سے باہر رکھا گیا تھا تاکہ ان کی اصل منزل اور مقصد چھپایا جا سکے۔

یہ تمام شواہد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسمگلنگ محض ایک وقتی یا اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک مربوط اور طویل المدتی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

نومبر 2025 میں بھی نوری آباد(جامشورو)میں حکومتی معائنہ چھاپہ مار ٹیم کی طرف سے ایک فارماسیوٹیکل فیکٹری کو بند کیا گیا جہاں 225 ملی گرام جیسی بھاری خوراک والی ٹراماڈول گولیاں غیر قانونی طور پر تیارکی جا رہی تھیں، حالانکہ ان کی رجسٹریشن پہلے ہی منسوخ کی جا چکی تھی۔

فیکٹری سے خام مال، پیکنگ میٹریل اور بڑی تعداد میں تیار شدہ گولیاں برآمد ہوئیں، جو اس بات کا ثبوت تھیں کہ ایک منظم غیر قانونی آپریشن طویل عرصے سے جاری تھا۔

ان تمام حالات کے پیش نظر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے 225 اور 250 ملی گرام ٹراماڈول گولیوں کی رجسٹریشن منسوخ کردی اور قانونی طور پر صرف 50 اور 100 ملی گرام کی گولیوں کی اجازت دی، تاکہ اسمگلنگ، غلط استعمال اور غیر قانونی برآمدات کو روکا جا سکے۔

2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ میں ممنوعہ ادویات اور اوپیائیڈز سے متعلق ضبطیوں میں 57 فیصد سے زائد حصہ ٹراماڈول کا تھا اور ان میں سے بڑی تعداد ایسی کھیپوں پر مشتمل تھی جو جنوبی ایشیا سے نکل کر افریقی ممالک تک پہنچی تھیں۔

اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ صرف قومی نہیں بلکہ عالمی نوعیت اختیارکرچکا ہے۔تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ اسمگلنگ کے لیے کاغذی دائرہ کار، فارما کمپنیوں کے نام، جعلی لیٹرہیڈز،غیر مستند این او سیز اور تیسرے ممالک کے ذریعے دوبارہ روٹنگ جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ اصل ذریعہ اور ذمے دار عناصرکو چھپایا جا سکے۔

یہ تمام حربے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات اسمگلنگ اب ایک پیچیدہ، دستاویزی اور بین الاقوامی نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ٹراماڈول جیسی دوا جب علاج کے بجائے نشے کے لیے استعمال ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف بیرون ملک نہیں رہتے بلکہ بالآخر ہمارے اپنے معاشرے میں بھی جرائم، تشدد،گھریلو بگاڑ اور صحت کے بحران کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، جن کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب ایسے اسکینڈلز سامنے آتے ہیں تو اکثر ایماندار اور قانون کی پابند فارماسیوٹیکل ادارے بھی شک کی زد میں آجاتے ہیں، حالانکہ وہ انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔

اسی لیے ضروری ہے کہ احتساب کا عمل اندھا نہ ہو بلکہ شواہد پر مبنی، منصفانہ اور شفاف ہو، تاکہ قصور وار اور بے قصور کے درمیان واضح فرق قائم رکھا جا سکے۔مختلف رپورٹ سے حاصل ہونے والی معلومات نے ان خامیوں، تضادات اور غیر معمولی اعداد وشمارکو بھی بے نقاب کیا ہے جنھیں عام حالات میں شاید نظر اندازکردیا جاتا، لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معلومات تک رسائی صرف ایک قانونی حق نہیں بلکہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جو ریاست اور معاشرے دونوں کو جوابدہ بناتا ہے۔

مزید برآں یہ کہ اس جائزے کا مقصد کسی ایک ادارے یا شعبے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایک اجتماعی، معاشرتی اور نظامی مسئلے کی نشاندہی کرنا ہے۔ اگر واقعی پاکستان کو ٹراماڈول یا کسی بھی کنٹرولڈ دوا کی عالمی اسمگلنگ کے تناظر میں ایک ’’حب‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔

اس کا حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ اصلاحات، مؤثر نگرانی، شفافیت اور سخت قانونی عملدرآمد میں پوشیدہ ہے۔ یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ فارماسیوٹیکل سیکٹر، ریگولیٹری ادارے، قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور سول سوسائٹی مل کر ایسا نظام قائم کریں جہاں دوا صرف علاج کے لیے ہو، منافع اور اسمگلنگ کے لیے نہیں،کیونکہ اگر قانون کی اوٹ میں چھپا یہ زہر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات دوسروں کے ساتھ ساتھ ہمیں خود بھی آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لیتے رہیں گے۔

مقبول خبریں