ایران کے خلاف امریکی سازش اور عالمی نتائج

چین کا پھیلتا ہوا اثر و رسوخ اور وینز ویلا میں بگڑتی ہوئی صورتحال نے ان حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے


صابر کربلائی January 18, 2026

ایران میں اسلامی انقلاب 1979ء میں کامیاب ہوا۔ تقریبا گزشتہ سینتالیس برس سے زائد عرصے میں امریکا ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی کی راہ میں ایک مرکزی رکاوٹ سمجھتا آیا ہے، لٰہذا امریکا نے اپنے لیے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ایران کے خلاف سازشیں جاری رکھی ہیں۔

امریکا نے ایران کے خلاف پابندیاں، خفیہ کارروائیاں، سائبر حملے اور فوجی دھمکیاں سب کچھ آزمایا ہے مگر کوئی بھی فیصلہ کن نتیجہ نہیں دے سکا۔ ہمیشہ امریکا کو ناکامی کا سامنا رہا ہے۔

اس کے برعکس، ان اقدامات نے امریکا کے لیے ہمیشہ نئے چیلنجزکو جنم دیا ہے۔ آج واشنگٹن صرف یہ نہیں سوچ رہا کہ ایران کو کیسے شکست دی جائے، بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہے کہ آیا اس کوشش کے نتائج کو وہ خود برداشت کر سکے گا یا نہیں۔

یہ ایران کے موجودہ نظام کی کامیابی کی دلیل ہے۔ اس وقت جب ایران میں امریکا ملک کے نظام کو گرانے کی کھلم کھلا کوشش کر رہا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے تو ایسے ماحول میں یہ بات زیادہ سنگین ہے کہ کئی دباؤ ایک ساتھ جمع ہوگئے ہیں۔

یعنی ایران میں اندرونی بے چینی کے بیانیہ اور دوسری طرف ایران سمیت خطے میں امریکی ایجنٹوں کی موجودگی کے خلاف بڑھتی ہوئی علاقائی مخالفت، پھر اسی طرح چین کا پھیلتا ہوا اثر و رسوخ اور وینز ویلا میں بگڑتی ہوئی صورتحال نے ان حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکا نے اپنی طاقت کو بہت زیادہ محاذوں میں پھیلا دیا ہے۔

اس لیے سوال پیدا ہو رہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانیوالی سازشوں کے عالمی نتائج کیا ہوں گے؟اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا کے ہاتھ میں کیا ہے؟

کیا واقعی وہ ایران کے خلاف کامیاب ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ امریکا نے وینز ویلا میں کوشش کی لیکن صدر مادورو کے اغوا کے بعد حکومت اور نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔

اب امریکا کے پاس ایران میں ایک انتہائی آپشن یہ ہے کہ ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کردیا جائے، جس میں ممکنہ طور پر سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای کا قتل اور اہم فوجی و شہری انفرا اسٹرکچر کی تباہی شامل ہو سکتی ہے۔

یہی امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کا حصہ ہے، لیکن کیا آیت اللہ خامَنہ ای محض ایک سیاسی شخصیت ہیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ وہ دنیا کے ایک بڑی مذہبی رہنما ہیں۔

ان کے دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں پیروکار موجود ہیں، اگر امریکا ان کے قتل کا منصوبہ عملی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ان کا قتل غالباً ایک تہذیبی حملے کے طور پر دیکھا جائے گا، جس کے نتیجے میں وسیع عوامی mobilization، غیر متوازن جنگ اور عراق، لبنان، یمن، خلیج اور اس سے آگے تک امریکا کے خلاف جوابی کارروائیاں ہوں گی۔

یہ سب کچھ امریکا برداشت نہیں کرپائے گا۔ امریکا کے ایران کے خلاف کسی بھی طرح کے اقدام جس میں ایران کو غیر موثر بنانے کی کوشش کی جائے گی سب ناکام ہو سکتی ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف ایران پر نہیں بلکہ عالمی اثرات ہوں گے۔

امریکی حکومت کا یہ احمقانہ اقدام ایک علاقائی جنگ کو جنم دے گا جس کے نتیجہ میں توانائی کی منڈیوں میں جھٹکے، بحری راستوں میں خلل، اور مالی عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔

یہ بھی امریکا برداشت نہیں کر پائے گا۔ امریکا کے پاس ایران کے خلاف ایک اور آپشن ایران کے شہری اور معاشی انفرا اسٹرکچر، تیل کی ریفائنریاں، بجلی کے گرڈز، بندرگاہیں، پائپ لائنز اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اور اندرونی بے چینی کو ہوا دینا ہے۔

جہاں تک اندرونی بے چینی کا تعلق ہے تو امریکا اس میں ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ باقی اہم مقامات کو امریکا گزشتہ 21 روزہ جنگ میں نشانہ بنا کر دیکھ چکا ہے لیکن ایران کو روکنے میں ناکام رہا ہے، اگر امریکا نے اس مرتبہ بھی ایسے ہی حملوں کا سہارا لیا تو پھر یہ جارحیت نہ صرف ایران کے خلاف بلکہ پورے خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف جوابی کارروائی کو جائز ہدف قرار دے گی۔

اس کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈے، سفارت خانے، لاجسٹک مراکز اور کارپوریٹ اثاثے کھلے اہداف بن جائیں گے، لٰہذا امریکی حکام ایران کے خلاف اس طرح کے اقدامات کرنے سے گریزکریں گے کیونکہ اس سے بحران صرف تہران تک نہیں رہے گا بلکہ آگے بحرانوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو امریکا کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکا کے پاس ایک اور راستہ جسے آج کل ایران میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یعنی خفیہ عدم استحکام۔ اس طریقہ میں امریکا نے مسلح گروہوں کی حمایت کی ہے تاکہ وہ ایران کے شہروں میں تخریب کاری انجام دیں اور شہریوں سمیت سرکاری عہدیداروں کا قتل کریں تا کہ اس کے ذریعے اندرونی تشدد کو بڑھاوا دیا جا سکے۔

یہ حکمتِ عملی بھی بڑی حد تک ناکام رہی ہے۔ ایسے گروہوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ ایرانی عوام نے ان کالی بھیڑوں کو پہچان لیا ہے۔ اس کے برعکس، سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں نے اکثر اندرونی یکجہتی کو مضبوط کیا اور ریاستی جواز کو تقویت دی۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکا کی اس حکمت عملی نے ایران کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے بجائے، خفیہ عدم استحکام نے غیر ارادی طور پر انھی ڈھانچوں کو مضبوط کیا جنھیں کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ یعنی امریکا اس طریقہ واردات میں بھی ناکام ہوگیا۔

امریکا کی تمام تر جارحانہ کارروائیوں اور سازشوں کے جواب میں ایران نے بھی اپنی حکمت عملی واضح کردی ہے یا یہ کہہ لیجیے کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ کسی بھی امریکی فوجی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ ردِعمل صرف امریکی اڈوں تک محدود نہیں ہوگا۔ شاید اس سے زیادہ ہو۔ امکان ہے کہ اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے، جہاں امریکی افواج کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات اور انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ تہران کے نقطہ نظر سے اسرائیل محض تماشائی نہیں بلکہ کسی بھی ایران مخالف مہم کا مرکزی فریق ہے۔ کوئی بھی امریکی حملہ کثیر محاذی جنگ کو چھیڑ سکتا ہے، جس سے کشیدگی کی قیمت کئی گنا بڑھ جائے گی۔

ایران کے ساتھ جنگ دو طرفہ نہیں، بلکہ ایک علاقائی اور نظامی تصادم کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔اسی طرح عالمی نتائج میں ایران کے ساتھ جہاں چین متاثر ہوگا وہاں ساتھ ساتھ روس کو بھی جھٹکا لگے گا۔

اس صورتحال سے روس کمزور ہوگا اور ایک بڑا توازن کار ختم ہوجائے گا اور پورے یوریشیا میں مغربی دباؤ مرکوز ہو جائے گا، لٰہذا ایران اکیلا نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔

اس تمام صورتحال میں بیجنگ امریکی کامیابی کو اختتام نہیں بلکہ خود چین پر دباؤ بڑھانے کی ایک ریہرسل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ایران کے خلاف جاری امریکی سازش کو چین اپنے لیے بھی سنگین سمجھتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین خود بخود براہِ راست تصادم میں کود پڑے گا، بلکہ یہ کہ ایران کے انہدام کو روکنا بیجنگ کے لیے نظریاتی وابستگی کے بجائے خطرے کے تدارک اور خود بقا کا معاملہ بن سکتا ہے۔

یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ امریکا کا ایران پر حملہ امریکی اور اسرائیلی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو جنم دے گا۔

مقبول خبریں