یہی فرق ہوتا ہے عامیوں اور دانا دانشوروں میں کہ عامی ہم جیسے لوگ تو کسی چیز کو دیکھ کر بغیر کسی غور وفکر کے گزر جاتے ہیں لیکن دانا دانشور ان چیزوں کو صرف دیکھتے ہی نہیں بلکہ ان پر’’تغور اور تفکر‘‘ بھی فرماتے ہیں۔
مثلا ہم کسی دیوار پر لگی پاتھیوں پر غور کیے بغیر اس دیوارکو دیوار سمجھ کر کوئی توجہ نہیں دیتے لیکن دانشور وہیں کھڑے ہوکر سوچنے لگتے ہیں کہ ’’گائے‘‘ نے کس طرح اس دیوار پر چڑھ کر اپنا گوبر پہنچایا ہوگا۔
اسی طرح ہم جیسا عامی تو جلبیاں کھا لے گا لیکن دانا دانشور اسے ہاتھ میں لے کر غور وفکر کرے گا کہ حلوائی نے ان نلکیوں میں یہ رس کیسے بھرا ہوگا اور اگر جلبیوں میں اس نے اتنی ہنرمندی دکھائی ہے تو دیگر مصنوعات میں ذہانت کے کیا کیا مظاہرے کیے ہوں گے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حلوائیوں میں بھی بڑے بڑے موجد اور سائنس دان پائے جاتے ہیں۔
اخباروں میں ہم اکثر ایسے دانا دانشوروں فیلسوف کے بیانات نگارشات اور کالمات پڑھتے رہتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ کون،کیا ہے اور کیا کرتا ہے۔کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہمارے یہ دانا دانشور اور فیلسوف خدانخواستہ نہ ہوتے تو ہم تو لنڈورے کے لنڈورے رہ جاتے بلکہ کبھی کبھی تو یہ خیال بھی آجاتا ہے کہ اگلے زمانوں میں بیچارے ہمارے بزرگ آخر کس طرح مشکل میں زندگی کرتے ہوں گے۔
ان حضرات کے بغیر۔لیکن ہم پر خدا کا بڑا فضل وکرم ہے کہ ہمیں سب کچھ پتہ ہے، ہمارے مہربان ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ ٹرمپوا کون ہے۔نتنوا کون ہے ، انھوں نے کہاں کہاں، کیا کیا ہے اور کررہے ہیں۔
کشمیری کون ہیں، فلسطینی کون ہیں اور سب سے بڑھ کر ’’یک جہتی‘‘کیا ہے؟ اور ہم اب تک کس کس کے ساتھ کتنی کتنی’’یک جہتیاں‘‘ کرچکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ’’شاپنگ‘‘کیا ہے، ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ ایک جنگ ہے جو بازاروں میں نہتے خریداروں اور ہر ہتھیاروں سے لیس دکانداروں کے درمیان برپا ہے اور
جو جاوے ہے کوچے سے ترے آوے ہے گھائل
تلوار کھچے ہے نہ کوئی تیر چلے ہے
لیکن پھر ہم نے ایک فیلسوف کا بیان پڑھا کہ’’شاپنگ‘‘ ایک بڑی تیربہدف دوا ہے جو خواتین کی ٹینشن دور کرنے کے لیے اکیسر ہے ،خیر یہ تو اس فیلسوف نے نہیں بتایا کہ وہ’’ٹینشن‘‘ خواتین سے اتر کر کہاں چلی جاتی ہے اور کس کو لاحق ہوجاتی ہے۔لیکن کوئی بات نہیں،کوئی فیلسوف تفکر نظر تغور کرکے یہ بھی معلوم کرے گا کہ
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ایک بہت بڑا فائدہ ہمیں یہ ہوا ہے کہ ان فیلسوف لوگوں سے سیکھ سیکھ کر ہم بھی کچھ کچھ فیلسوف ہوتے جارہے ہیں مثلا ہم نے معلوم کرلیا ہے کہ بڑی بڑی دکانوں،اسٹوروں اور ایجنسیوں اور اسٹاکسٹوں سے کچھ بھی نہ خریدا جائے بلکہ ٹھیلوں اور چھابڑی فروشوں سے خریدا جائے۔
ہم نے گھر میں بھی ہدایت کی ہوئی ہے کہ جو کچھ بھی خریدا جائے ، پھیری گروں سے خریدا جائے۔وجہ یہ ہے کہ بڑے بڑے اسٹورں دکانوں اور ایجنسیوں کے لیے خریدار ایک پرکاہ کی مانند ہوتا ہے، چھابڑی فروشوں اور پھیری گروں کے خریدار محدود اور گنے چنے ہوتے ہیں، اس لیے ہر خریدار ان کے لیے اہم ہوتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ بڑے بڑے سودا گروں کے پاس سرمایہ بھی بہت ہوتا ہے۔ گودام بھی ہوتے ہیں۔اور کوئی چیز اگر آج نہ بکے تو اگلے دن اور زیادہ مہنگی ہوچکی ہوتی جب کہ پھیری گروں کو تو اپنا مال آج ہی نکالنا ہوتا ہے ۔
جس زمانہ جاہلیت میں ہمیں یہ’’راز‘‘ معلوم نہیں تھا، ہم بھی ا س دھوکے میں مبتلا تھے کہ بڑی دکانوں سے خریدو تو فائدہ ہوگا۔ ایک دن جب ہم نے حسب معمول، حسب سابق اور حسب عادت ایک بہت بڑے اسٹور سے گھی کا ایک ڈبہ خریدا اور گھر لائے۔
تو گھروالوں نے ضرورت شدید ہونے کی وجہ سے وہی ڈبہ گاؤں کی چھوٹی سی دکان سے بھی خریدا تھا، قیمت کا پتہ کیا تو ہمارا بڑے اسٹور سے لایا ہوا ڈبہ تیس روپے مہنگا تھا۔
دوسرے دن ہم نے بڑے شہر کے بڑے اسٹور کے بڑے مالک سے شکایت کی تو بولا،اس گاؤں کے دکاندار کے پاس پرانے ریٹوں کا پرانا مال پڑا ہوگا۔ ہم تو مارکیٹ کے تازہ ترین نرخوں پر چلتے ہیں، اپ ڈیٹ ہیں۔
ایک مرتبہ بڑے شہر کے بڑے اسپتال کے بڑے ڈاکٹر نے ایک دوا لکھ دی۔ ہم نے بڑے اسپتال کے سامنے بڑی بڑی دکانوں میں سے ایک بڑی دکان سے پوچھا۔تو اس کے مالک نے کہا کہ یہ دوا تو شارٹ ہے۔
لیکن میں نے اپنے خریداروں کے لیے تھوڑی سی سنبھال کر رکھی ہے، پھر اس نے بڑی مہربانی کرکے وہ دوا ہمیں چوگنی قیمت پر دے دی۔گھر آئے تو ایک بچہ اچانک بیمار ہوگیا تھا۔ شہر کے بڑے اسپتال جانے کا وقت نہ تھا نہ کوئی گاڑی وغیرہ۔
اس لیے گاؤں کی ایک چھوٹی دکان سے رجوع کیا جو ایک کمپاونڈر چلا رہا تھا، وہ بچے کی دیکھ بھال میں لگ گیا اور ہم نے الماری میں دیکھا تو اسی دوا کی بوتلیں رکھی تھیں جو بڑے شہر کے بڑے اسپتال کے سامنے بڑی دکان میں شارٹ تھی اور ہم نے چوگنی قیمت پر خریدی تھی۔
قیمت پوچھی تو اصل قیمت پر مل گئی، تب سے ہم نے شاپنگ کا یہ راز دریافت کرلیا۔کہ بڑے شہروں کی بڑی بڑی دکانوں سے ہمیشہ دور رہوگے تو عافیت میں رہوگے کہ ان کے پاس تازہ ترین، تیزترین اور ظالم ترین نرخوں کے چھرے ہوتے ہیں جب کہ چھوٹے لوگوں کے چھوٹے ہتھیار کند ہوتے ہیں۔
دیکھا دانا دانشوروں اور فیلسوفوں کی برکات کا نمونہ ۔ آپ بھی ان کے فرمودات پر توجہ دیجیے، پھر آپ کو علم رہے گا کہ اسرائیل کون ہے؟ کشمیر کون ہے؟ اور یک جہتی کیا ہے۔ہم تو یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتے ہیں کہ ہم کم از کم دانا دانشوروں کی دولت سے مالا مال ہیں۔ یہ نہ ہوتے تو نہ جانے ہمارا کیا بنتا؟