ایران میں بیرونی مداخلت کی اخلاقی طور پر اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن وہاں پر نوجوان نسل کی حکومت کے خلاف مزاحمت کو اگر سازش کہا جائے تو یہ دراصل حقیقت کا انحراف ہوگا۔
یہ درست ہے کہ یہ مزاحمت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جس کا بھرپور فائدہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچ رہا ہے لیکن ایسا ہونا ناگزیر تھا، وہ اس لیے کہ ہم ایران کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے کے لیے فارسی تہذیب، فارسی زبان اور اس ثقافت کے تاریخی پہلوؤں کو پرکھنا ہوگا۔
صدیوں پہلے بھی ایران کی تہذیب بہت ایڈوانس تھی۔ اس وقت فلکیات، فنِ تعمیر، انفرا اسٹرکچر اور دیگر مترادفات میں اپنی مثال آپ تھا اور اس وقت عرب دنیا قبیلائی رسم و رواج اور ثقافتی پسماندگی کا شکار تھی۔
ایران میں شاعری کا ایک بلند درجہ تھا۔ آج سے تیرہ سو سال یعنی ساتویں صدی میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایران کو فتح کیا اور اسلامی حکومت نافذ کی، وہ آگے جا کرکربلا کے فدائی بنے ۔
بغداد اور عہدِ عباسیہ مسلمانوں کی بھرپور تہذیب کا عظیم مرکز رہا ہے اور یہ تہذیب ایرانی تہذیب و تمدن کا ثمر تھا، جو بغداد میں منتقل ہوا۔ عہد عباسیہ مسلمانوں کی ایک سیکولر تہذیب تھی۔
قاضی اور ملا کے سامنے جنید بغدادی، منصور و حلاج اور رابعہ بصری جیسے صوفیانہ اور فکر انگیز راز تھے، ایسے راز جنھوں نے آگے جا کر مولانا جلال الدین رومی جیسے مفکر پیدا کیے۔
بارہویں صدی میں عطار، تیرہویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی، ان سے پہلے عمرِخیام اور تیرھویں اور چودھویں صدی میں سعدی۔ یہ وہ شاعر ہیں،جنھوں نے سب سے پہلے برِصغیر میں بھگتی تحریک میں اپنا قدم رکھا اور وہ ہی نقوش بھگت کبیر کی شاعری میں ملتے ہیں۔
پھر بلا ، باہو، فرید اور سچل سرمست کے ادوار آئے۔ بقول عائشہ جلال برِصغیر کے سب سے بڑے صوفی و شاعر شاہ عبداللطیف نمایاں ہوئے،وہ فارسی بھی بولتے تھے، مگر بھٹائی نے اپنی شاعری کے لیے سندھ کی مادری زبان کو منتخب کیا، یعنی وہاں کے لوگوں کی عام زبان میں بھٹائی نے اپنی شاعری تحریرکی۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے لیے ایسا مشہور ہے کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں مثنوی رکھتے تھے، جس طرح رومی کہتے ہیں کہ ان کی شاعری قرآن سے ماخذ ہے۔
اگر ایران میں اسلامی حکومت قائم نہ ہوتی تو بغداد کبھی بھی علم وادب، سائنس و فلسفہ کا گہوارہ نہ بنتا، ایک عظیم تہذیب نہ بنتا۔
بغداد کو بارہویں صدی میں چنگیزخان اور ہلاکو خان نے تباہ کیا۔ بغداد کی عظیم لائبریری کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے اس تہذیب کی تحقیق سے انسان استفادہ حاصل نہ کرسکے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ تھا۔
ایران کی ثقافت کا پہلوی دور جو 1925 -1979سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔ اس دور میں ایرانی تمدن نے اپنی شناخت بنائی۔ ایران نے یورپین تہذیب کے اطوار اپنائے۔
پہلوی دورکے آخر میں اقرباء پروری عروج کو پہنچی۔ ایران میں غربت و افلاس میں اضافہ ہوا۔ شہنشاہ ایران پر جو حملہ آور ہوئے ان میں وہ لوگ شامل تھے جن کی باقیات سلطنتِ صفوی سے تھیں مگر ان کے باقی اتحادی تودا پارٹی کے کمیونسٹ تھے۔
کمیونسٹ پارٹی کی تحریک دوسرے اسلامی ممالک کے مقابلے میں ایران میں سب سے زیادہ مضبوط تھی۔ آیت اللہ خمینی اور تودا پارٹی نے مل کر شہنشاہ ایران کو ایران چھوڑنے پر مجبورکیا۔
امریکا میں اس وقت جمی کارٹر کی حکومت تھی۔ جمی کارٹر امریکی تاریخ کے انتہائی شریف صدر تھے، جس سے سی آئی اے ہمیشہ نالاں رہتی تھی۔ شہنشاہ ایران اپنی ناکامی کے لیے امریکا کے صدر جمی کارٹرکو ذمے دار ٹھہراتے رہے۔
جمی کارٹر براہِ راست مداخلت کی مخالفت کرتے رہے، وہ شاہ ایران کو مزید ریفارمز لانے پر مجبورکرتے رہے۔ سرد جنگ کے پسِ منظر میں جمی کارٹر بہ حیثیت امریکی صدر انتہائی نامناسب قرار دیے گئے۔ اس طرح ایران مذہبی انقلاب کے زیرِ تسلط آ گیا۔
سب سے پہلے انھوں نے ایران میں اپنے اتحادی کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ کیا۔ غداری کے الزامات، لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ عورتوں کو حجاب پہنائے گئے۔ فارسی ادب اور شاعری نئے دور سے شدید متاثر ہوئے۔ لاکھوں لوگوں نے ایران سے ہجرت کی۔ اس حکومت کے خلاف چھوٹی موٹی تحریکیں سر اٹھاتی رہیں۔
اسرائیل کو ایران سے بہت خطرات تھے۔ حزب اللہ، حماس، یمنی حوثی ، شام و لبنان پر ایران کے اثرات تھے۔ عراق میں بھی ایران لازمی فیکٹر ہے۔ امریکا نے ایران کے انقلاب کو ناکام بنانے کی سخت کوشش کی اور یہ آج بھی جاری ہے۔
ادھر اب سعودی عرب ماڈریٹ بن رہا ہے۔ ایسا کرنا ایران کے لیے مشکل تھا،کیونکہ ایران میں ان کا بیانیہ ہی طاقتور ذریعہ تھا کہ ایران ہی امریکا کو شکست دے گا اور ایران ہی اسلام کو مشرقِ وسطیٰ تک پھیلائے گا، اگر ایران یہ جواز چھوڑ دیتا تو ان کا حکومتی دعویٰ اندر سے ختم ہو جاتا، جب کہ سعودی عرب کا بیانیہ مذہبی ضرور تھا، وہاں بادشاہت تھی لیکن وہاں کے لوگوں کی تاریخ بنیاد پرستی کی نہ تھی۔ ان کے لیے ماڈریٹ بننا، ان کی بادشاہت کے لیے خطرہ نہ تھا۔
ایران کا یہ عزم تھا کہ وہ ایٹم بم ضرور بنائیں گے اور امریکا نے اس حوالے سے ایران پر سخت پابندیاں لگائیں۔ روس ایران کے قریب رہا۔
ادھر یوکرین پر حملہ کیا اور اس حملے کو مضبوط کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے لیے مشکلات پیدا کرنا شروع کردیں اور یہاں سے شروعات ہوتی ہے، ان حالات کی جس کے اثرات ہم آج دیکھ رہے ہیں۔
ان حالات کی بنیادیں 7-10-2023 کے دن سے پڑیں۔ ایران سے پہلے شام کے صدر کو ملک چھوڑنا پڑا،جب کہ وہاں روس کی فوج موجود تھی۔ اسرائیل نے حزب اللہ پر حملے کیے۔ حوثی فورسز نے اسرائیل پر حملے کیے۔
ان سب کی مدد ایران کر رہا تھا، آخرِکار اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، امریکی ایماء پر۔ چین ان سب معاملات میں دورکھڑا رہا۔ چین نے تب بھی کوئی موقف اختیار نہیںکیا، جب اسرائیل غزہ پر مظالم ڈھا رہا تھا۔
اسپین، یورپین یونین، برازیل اور دوسرے لاطینی امریکا کے ممالک بین الاقوامی فورمز پرغزہ کی حمایت میں کھل کر بولے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ نکالے۔
ایران میں شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔ پابندیاں ایران پر قائم ہیں، رپوٹس یہ سامنے آئی ہیں کہ ایران میں اس تحریک کی قیادت جنریشن زی کر رہی ہے، یعنی بیس سے پچیس سال تک کہ نوجوان اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، جن کا کوئی رہنما نہیں ہے۔
ایران میں آج جوکچھ ہو رہا ہے، ایسا ہی ہونا تھا۔ یہ ایران کا تاریخی پہلو ہے۔ اس قوم کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ یہ تبدیلی بین الاقوامی سطح پرکیپٹل ازم اور سامراجیت کو مستحکم کرے گی۔