کراچی:
شہر قائد کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کے تحت عمارت کی چھت سے گاڑیاں اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مزید ہیوی مشینری موقع پر پہنچا دی گئی، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے عملے نے کرینز کے ذریعے مرحلہ وار گاڑیوں کو نیچے اتارنا شروع کر دیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 32 گاڑیاں محفوظ طریقے سے نیچے اتار لیے گئے ہیں۔
اتاری جانے والی گاڑیوں میں 16 کاریں، 4 سوزوکی، 12 موٹر سائیکل اور 1 رکشہ شامل ہے۔
اتاری جانے والی گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے گاڑیاں خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیں۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے اور آپریشن مکمل ہونے تک ہیوی مشینری اور متعلقہ عملہ موقع پر موجود رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ چھت مکمل طور پر کلیئر ہونے کے بعد مزید تفتیش اور معائنہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب گل پلازہ میں موجود تین شورومز کے مالک تاجر عامر نے بتایا کہ عمارت میں تین شوروم تھے جو آتشزدگی کے نتیجے میں جل کر خاکستر ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ حیران کن طور پر ان کی دو گاڑیاں محفوظ حالت میں مل گئیں، جبکہ چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک تھیں۔ تاجر عامر کے مطابق ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق ریسکیو اور کلیئرنس کا عمل مسلسل جاری ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔