قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر سعودی عرب بھیجا جائے گا جہاں وہ روضہ رسولﷺ پر حاضری دے کر عوام کی طرف سے حضور اقدس ﷺ کو سلام پیش کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی کی صدارت میں ہوا جس میں روضہ رسولﷺ پر عوام کا سلام پیش کرنے کے لیے سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد بھیجنے کا مطالبہ کیا، جس کو مان لیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے شرکا کو بتایا کہ حاضری کے لیے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے گا جو پاکستانی عوام کی طرف سے روضہ رسولﷺ پر سلام پیش کرے گا، نوافل بھی ادا کرے گا، وفد پہلے بھی پاکستانی عوام کی طرف سے سلام کرنے جاچکا ہے،
پارلیمانی وفد ہر برس مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائے گا، وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ہمراہ جاسکیں گے, عوام کی طرف سے وفد مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرے گا، اسپیکر کی عدم موجودگی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی وفد کی سربراہی کریں گے۔
رکن کمیٹی اعجاز الحق نے بتایا کہ وفد کے ارکان کی تعداد 7 سے بڑھا کر 10 کرنے کی تجویز دیتا ہوں۔ رکن ثمینہ گھرکی نے کہا کہ وفد کی تعداد کم ہونے پر باقی ارکان میں غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفد کے لیے تعداد کی شرط 7 کے بجائے 10 کی جائے، اسپیکر ہی وفد کے ارکان نامزد کریں گے، اسپیکر کی غیر موجودگی میں چیئرمین بھی وفد کی سربراہی کر سکیں گے۔
رکن کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہا کہ اسپیکر صاحب 15,15 لوگوں کے وفود لے کر جاتے ہیں، اس پارلیمانی وفد کے اخراجات قومی اسمبلی اٹھائے، اگر ہم خرچ خود اٹھاتے ہیں تو اسے ڈیلی گیشن کا نام نہیں دے سکتے خود تو ہم کبھی بھی جاسکتے ہیں۔
کمیٹی ارکان نے حمایت کی اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں قومی اسمبلی یہ خرچ اٹھائے، پاکستان ہاؤس کی سعودی عرب میں تعمیر تک وفد کو سرکاری خرچ پر ہوٹل میں ٹھہرایا جائے، وفد کو قومی اسمبلی کی چھتری تلے لانا چاہتے ہیں۔
شگفتہ جمانی نے کہا کہ اگر وفد کے شرکا اپنی بیوی شوہر یا کسی رشتہ دار کو لے جانا چاہتے ہیں تو؟ اس پر کمیٹی نے کہا کہ رشتے داروں کو سرکاری وفد میں لے جانے پر خود اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفد کو اسٹیٹ گیسٹ ڈکلیئرڈ کرنے کے لیے دفتر خارجہ کے نمائندے کو بلایا جائے۔
وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ وزارت مذہبی امور وفد کو ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی، مکہ و مدینہ منورہ میں میڈیکل اور دیگر سہولیات کا اہتمام ہوگا۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستانی حکومت حج ڈائریکٹ جدہ ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرے گی، وفد کے لیے لائژن افسر بھی تعینات کیا جائے گا، زیارت، آداب بارگاہ نبویؐ اور عمرہ طریقہ کار پر وفد کی رہنمائی کی جائے گی، وزارت مذہبی امور دورے کی بھرپور میڈیا کوریج کرے، اہلِ خانہ سرکاری وفد میں ساتھ لانے پر اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، پاکستان ہاؤس کی تعمیر تک ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا جائے۔
چئیرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اسپیکر کے نام وفاقی وزیر مذہبی امور خط لکھیں، خط میں اسپیکر سے وفد کے تمام اخراجات اٹھانے کی درخواست کی جائے۔
وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کمیٹی کی تجاویز کی حمایت کردی۔ سردار یوسف نے کہا کہ قومی اسمبلی وفد کا اہتمام کرے اور اس کے لیے وزارت مذہبی امور پر ممکن سہولت فراہم کرے گی، وفد کا جانا اعزاز کی بات ہے، وفد کے سرکاری خرچ پر جانےمیں کیا حرج ہے، وفد قوم کی طرف سے سلام کرنے جائے گا، روضہ رسولﷺ پر وفد درود و سلام پیش کرے۔