افغان طالبان کی حکومت اپنے وعدوں کے برعکس افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
دی ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق، تاجکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے ملحقہ سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے تین افغان دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی مقدار میں منشیات بھی برآمد کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس سے قبل 18 جنوری کو بھی تاجک سیکیورٹی فورسز نے سرچا شمہ بارڈر پر افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے چار افغان دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ نومبر سے اب تک تاجکستان میں افغانستان کی سرحد سے منسلک علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
دی ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق، گزشتہ برس افغانستان سے ہونے والے دو الگ الگ دہشت گرد حملوں میں پانچ چینی مزدور بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی طرح دسمبر 2025 میں سرچاشمہ بارڈر پر افغان دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران دو تاجک سیکیورٹی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی اب خطے کے ہمسایہ ممالک کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے مؤثر تدارک کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے ٹھوس شواہد عالمی اداروں کے سامنے متعدد بار پیش کر چکا ہے، تاہم عالمی برادری کی جانب سے مؤثر اور عملی اقدامات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کو نہ صرف افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے بلکہ اسے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔