مصنوعی ذہانت، تعلیم، تحقیق اور گورننس کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

گوگل جیمنی کارنر طلبہ کو عالمی معیار کی مصنوعی ذہانت کی مہارتیں سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا


ویب ڈیسک July 01, 2026

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) تعلیم، تحقیق اور گورننس کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، جبکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوگل جیمنی کارنر طلبہ کو عالمی معیار کی مصنوعی ذہانت کی مہارتیں سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جامعات میں تحقیق، جدت اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، جبکہ این ای ڈی یونیورسٹی جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی تعلیم میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور صنعت کے باہمی اشتراک سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل انقلاب سے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ہر ضلع میں یوتھ سینٹرز کے قیام کے حوالے سے جلد خوشخبری دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت جدید لیبارٹریز اور ٹیکنالوجی مراکز کے قیام پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جبکہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق گوگل جیمنی کارنر جیسے منصوبے طلبہ کو عالمی معیار کی تحقیق سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور حکومت تعلیمی اداروں کو صنعت سے منسلک کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید تعلیم کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، اس لیے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ سندھ کے نوجوان بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت ایک اہم ٹول ضرور ہے، لیکن یہ انسانی فیصلہ سازی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اے آئی کے استعمال میں احتیاط، تنقیدی سوچ اور معلومات کی تصدیق کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے، مگر اس پر مکمل انحصار نہ کیا جائے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آئی ٹی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ گزشتہ سال آئی ٹی اقدامات پر 1.4 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، نوجوانوں کو صرف مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ ڈیجیٹل مراکز کے قیام سے انہیں عالمی منڈی سے جوڑا جا سکے گا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاق سے سندھ کو 175 ارب روپے ملنے تھے، تاہم اب تک 91 ارب روپے موصول ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 83 ارب روپے ابھی بھی واجب الادا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام موجود ہے اور اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، تاہم صوبہ کسی دوسرے صوبے کا بلدیاتی نظام اپنانا نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہبودِ آبادی کے شعبے کی ایگزیکٹو اتھارٹی صوبوں کے پاس ہے۔

سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ فی الحال کوئی مخصوص خطرہ موجود نہیں، تاہم انٹیلی جنس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئے ادارے قائم کیے گئے ہیں اور حکومت ہر ممکن تیاری کر رہی ہے۔

توانائی کے شعبے سے متعلق انہوں نے کہا کہ سندھ میں 12 سے 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت صوبے کو سولر اور ونڈ پاور منصوبے لگانے کی اجازت نہیں دے رہی۔