خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام پر واقع جھیل سیف اللہ میں سیاحوں کی کشتی ڈوب گئی جس میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سوات کے علاقے مہوڈنڈ سے دو گھنٹے مسافت پر واقع سیف اللہ جھیل میں ایک ہی خاندان کے 8 جبکہ ملاح سمیت 9 افراد کشتی میں سوار ہوئے، اس دوران اچانک حادثہ پیش آیا۔
حادثے کے نتیجے میں تمام افراد ڈوب گئے جس کے ملاح کو شدید زخمی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ 5 سیاحوں کی لاشیں مہوڈنڈ کے مقام سے نکال لی گئیں۔
پولیس کے مطابق کشتی میں سوار تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہیں جبکہ برآمد کی گئی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کیلیے کالام کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کالام سیف اللہ جھیل کشتی حادثہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن مزید مؤثر بنایا جائے، متعلقہ ادارے لاپتہ افراد کی تلاش تک سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات اور کشتی رانی کے قواعد پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اُدھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کالام کی سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹنے کے افسوسناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعلیٰ نے غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت، ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے، اس مشکل گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر اعلی نے واقعے میں لاپتہ بچی کی بازیابی کے لیے ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مکمل ذمہ داری اور تیزی سے جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔