اسلام آباد:
پی ٹی آئی کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اراکین اسمبلی کے احتجاج کی کال ناکام ہوگئی۔
گزشتہ رات اجلاس میں تمام پارلیمنٹیرنز کو آج دس بجے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم صرف چھ پارلیمنٹیرینز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے جن میں علی محمد خان، سینیٹر مشعال خان یوسفزائی، سینیٹر فلک ناز چترالی، شفقت اعوان اور جنید اکبر شامل تھے۔
سلمان اکرم راجہ بھی کچھ دیر کے لئے ہائیکورٹ کے باہر پہنچے اس کے بعد وہ بھی روانہ ہوگئے، ہائیکورٹ کے باہر پولیس کی نفری اور قیدی وینز بھی موجود تھیں۔
احتجاج کی کال کے باوجود ہائیکورٹ نہ پہنچنے پر سلمان اکرم راجہ اپنے ہی اراکین اسمبلی پر پھٹ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گڑگڑا کر ان سے التجاء کی تھی کہ ہائیکورٹ کے باہر پہنچیں، کہاں ہیں یہ سارے لوگ؟ کیوں نہیں آئے؟، میں سب کے نام سامنے لائوں گا۔
دوسری جانب جنید اکبر نے احتجاج کی ناکامی ذمہ دار سلمان اکرم راجہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ رات 12 بجے جب پارلیمنٹیرینز سو چکے ہوں حکم جاری کردیا جائے کہ صبح سب ہائیکورٹ پہنچیں؟ پارلیمنٹیرینز کو اس طرح نہیں بلایا جا سکتا۔
جنید اکبر نے کہا کہ پارلیمنٹرینز کا کوئی قصور نہیں، اِن کو معلوم ہی نہیں پارٹی کیسے چلانی ہے، خدا کے واسطے اب تو سیاست سیکھ لیں۔
سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ رات کے 12 بجے بتایا گیا تھا کہ کل عمران خان صاحب کا کیس ہے، کم سے کم 24 گھنٹے پہلے پارلیمنٹیرین کو بتانا چاہئے۔