آئین سے کھلواڑ ہو رہا ہے حکومت بلدیاتی الیکشن کی حتمی تاریخ دے سپریم کورٹ

قبضہ برقرار رکھنے کیلیے الیکشن نہیں ہونے دیے جا رہے، حکم پر عمل نہ کیا تو خمیازہ بھگتنا پڑیگا،عدالت


Monitoring Desk/Numainda Express February 27, 2015
قبضہ برقرار رکھنے کیلیے الیکشن نہیں ہونے دیے جا رہے، حکم پر عمل نہ کیا تو خمیازہ بھگتنا پڑیگا،عدالت۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے عدم انعقاد پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکومتوں کی وضاحت مسترد کردی اور آج الیکشن کی حتمی تاریخ طلب کرلی۔

جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ رہنمائی کریں تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف کیا آرڈر جاری کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈز کیلیے قانون سازی نہ کرنے پر اٹارنی جنرل کو وضاحت کیلیے طلب کرلیا اور قرار دیا کہ عدالت مطمئن نہ ہوئی تو مجاز اتھارٹی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔

چیف سیکریٹری پنجاب نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو تمام مطلوبہ مواد فراہم کر دیا ہے، ہماری تیاری مکمل ہے، الیکشن کمیشن جو شیڈول دے گا اسکے مطابق بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں گے، جسٹس جواد خواجہ نے کہا یہ تو عوام اور آئین کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے پنجاب کہہ رہا ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری مکمل کرلی ہے، خیبر پختونخوا میں تمام عمل مکمل ہوچکا ہے لیکن الیکشن کمیشن حتمی تاریخ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

اصل مسئلہ الیکشن کمیشن کے اندر ہے۔ اس میں اہلیت نہیں، بتا دیں آئین پر عمل کرنا ہے یا نہیں؟ آئین کے تقاضے پورے نہ کرنے والے حکومت کرنے کے اہل نہیں، آئین کے اطلاق کیلیے عدالت کے پاس کچھ اختیارات ہیں اور ہم ان اختیارات کے استعمال میں سنجیدہ ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا میں انتخابات کی حتمی تاریخ دیں، اکرم شیخ نے کہا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ شیڈول اپریل میں جاری ہوجائے گا، عدالت نے ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن عبدالرحمان کو حتمی تاریخ دینے کو کہا جس پر انکا کہنا تھا کہ انکو ہدایات لینا پڑیں گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کہ آئین پر عمل نہیں ہو رہا اور الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں، بلدیاتی ادارے نہ ہونے سے پولیس کی ایذا رسانیوں کے شکار افراد کا مداوا نہیں ہوسکتا کیونکہ پبلک سیفٹی کمیشن غیر فعال ہے اور لوگ پولیس کے رحم و کرم پر ہیں،اس صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن آج بتادیں کہ آئین پر مکمل عمل درآمد کیسے اور کب ہوگا اور تاخیر کے ذمے داروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکتی ہے۔

جسٹس سرمد عثمانی نے کہا کہ دراصل قبضہ برقرار رکھنے کیلئے الیکشن نہیں ہونے دیے جا رہے، جسٹس جواد نے کہا کہ ہم ذات یا انا کی تسکین کیلئے نہیں بیٹھے لیکن جو امانت ہمیں سونپی گئی ہے اس میں خیانت نہیں کرسکتے۔ حکومتیں اگر آئین کی پابند ہیں تو پھر10 سال سے آئین کی خلاف ورزی کیوں ہورہی ہے،کیا آئین کی کچھ شقیں بہ امر مجبوری بالائے طاق رکھی جا سکتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہی لاقانونیت ہے جو خود حکومت کر رہی ہے، یہ نہ کہیں کہ ہم سیاستدان ہیں اور ہماری مجبوریاں ہوتی ہیں، ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں سیاسی اختلافات نہیں ہوتے ،کل ترک پارلیمنٹ میں دو جماعتوں کے منتخب ارکان گتھم گتھا تھے لیکن اختلاف کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آئین کو غیر مؤثر کیا جائے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل اکرم شیخ نے تمام ذمے داری صوبائی حکومتوں پر ڈالی اورکہا کہ سندھ تو بالکل الیکشن نہیں چاہتا۔ آن لائن کے مطابق فاضل بنچ نے قرار دیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کروانے پر صوبوں کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتاہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ صوبے جان بوجھ کر عدالت کو مجبوریوں اور مسائل کی بھول بھلیوں میں ڈالنا چاہتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا بلدیاتی انتخابات سے کیوں خائف ہیں، کیا وہ عام لوگوں کو ملنے والے اختیارات سے خوفزدہ ہیں، بادی النظرمیں حکومتیں اہل نہیں کہ آئین پر عمل کر سکیں، نجی ٹی وی کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب تحریری یقین دہانی کرائیں کہ وہ الیکشن کمیشن کی تاریخ پر انتخابات کرائیں گے۔

مقبول خبریں