بڈھ بیر ایئر بیس کیمپ پر حملہ کرنیوالے فون پر کابل میں مسلسل رابطے میں تھے سرتاج عزیز

تحقیقات کی جارہی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی فون کال کون آپریٹ کررہاتھا؟ سرتاج عزیز


INP September 21, 2015
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکا، افغانستان اورچین کے حکام سے دہشت گردی کے معاملات پربات ہوگی، سرتاج عزیز۔فوٹو: فائل

KARACHI: مشیر خارجہ سرتاج عزیزنے کہاہے کہ بڈھ بیرمیں پاک فضائیہ کے کیمپ پرحملہ کرنیوالے دہشت گردٹیلیفون کالزپرکابل میں مسلسل رابطے میں تھے.

اپنے ایک انٹرویو میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ افغانستان میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ملک دہشت گردی کے خلاف اپنی اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل حملے کے بعد ہم پرالزام لگائے گئے جس کے شواہد اورثبوت مانگے ہیں۔ بڈھ بیرمیں پاک فضائیہ کے کیمپ پرحملہ کرنیوالے دہشت گردٹیلیفون کالزپرکابل میں مسلسل رابطے میں تھے، تحقیقات کی جارہی ہے کہ وہاں یہ کال کون آپریٹ کررہاتھا؟ تحقیقات مکمل ہونے کے بعدافغان حکومت سے معلومات شیئرکریں گے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکا، افغانستان اورچین کے حکام سے دہشت گردی کے معاملات پربات ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ بڈھ بیرمیں افغانستان سے پلاننگ کیے جانے کا یہ کوئی پہلاواقعہ نہیں، آرمی پبلک اسکول پرحملے کی پلاننگ بھی افغانستان میں ہوئی تھی اور جب آرمی چیف وہاں گئے توافغان حکومت نے مثبت جواب دیاتھا۔ سب جانتے ہیں ٹی ٹی پی کی لیڈرشپ افغانستان میں ہے، اس لیے یہ کوئی ناقابل یقین بات نہیں کہ سانحہ بڈھ بیرکے دہشتگرد افغانستان سے آپریٹ کیے جارہے تھے۔

مقبول خبریں