سزا یافتہ کرکٹرز کی واپسی آئی سی سی نے گیند پاکستانی کورٹ میں ڈال دی

دارومدار پی سی بی پر ہے، کردار میں تبدیلی کومدنظر رکھنا ہوگا، کرکٹ کو کرپشن سے پاک کردیں گے،اے سی ایس یوچیف


Sports Desk September 24, 2015
دارومدار پی سی بی پر ہے، کردار میں تبدیلی کومدنظر رکھنا ہوگا، کرکٹ کو کرپشن سے پاک کردیں گے،اے سی ایس یوچیف فوٹو : فائل

سزا یافتہ کرکٹرز کی واپسی کے حوالے سے آئی سی سی نے گیند پاکستانی کورٹ میں ڈال دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ سر رونی فلینگن نے ایک انٹرویو میں کہاکہ اسپاٹ فکسنگ میں پاکستان کے تینوں پلیئرز کوعدالتوں سے سزا ہوچکی جسے انھوں نے پورا بھی کرلیا، اب ان کی کرکٹ میں واپسی کا معاملہ ملکی بورڈز کے سپرد ہے، معاملہ صرف صلاحیت کا نہیں بلکہ کردار میں تبدیلی کو بھی مدنظر رکھا جائیگا، 15 برس قائم ہونیوالے اس یونٹ کو ابتدائی10 برسوں میں لارڈ پال کنڈن نے سنبھالے رکھا، جسکے بعد اب فلینگن سربراہی کررہے ہیں۔

مسائل کو حال کرنے کیلیے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سردست ہمارے پاس معقول وسائل ہیں، ہماری ٹیم بھی کافی مضبوط ہے۔ہمارے پاس خاصے تجربہ کار تفتیش کار اور معلومات کا بہترین تجزیہ کرنیوالے افراد موجود ہیں، ہم کرپشن کے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلیے بہتر پوزیشن میں ہیں، اے سی ایس یو پر بھی اس حوالے سے بھی خاصی تنقید ہوتی ہے کہ اس نے 2000 میں قیام کے بعد سے پلیئرز کیخلاف خاطرخواہ قانونی کارروائی نہیں کی۔

اس پر ادارے کے چیف نے کہا کہ میرا پس منظر پولیس کا رہا ہے، ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش رہتی ہے کہ کھیل کو کرپشن سے بچانے کیلیے اقدامات اینڈ سیکیورٹی پر زور دیں، اسکے بعد تفتیش اور پراسیکیوشن کا مرحلہ آتا ہے۔ یہی ہماری ترجیحات بھی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم بالکل درست سمت میں گامزن ہیں، جرائم کی بیخ کنی سے زیادہ تعلیم پر دھیان دینے کے الزام کا دفاع کرتے ہوئے فلینگن نے کہا کہ میرے خیال میں پلیئرز کو اس بابت آگاہی دینا بہت اہمیت رکھتا ہے، ہم ظاہری طور پر سیکیورٹی انتظامات سے کرپشن کا سدباب نہیں کرسکتے۔

ہم نوجوان پلیئرز کو سٹے باز عناصر کے ہتھکنڈوں سے بچنے کی بابت آگاہ کرکے بچا سکتے ہیں، اے سی یو پولیس فورس کی طاقت نہیں رکھتی، ایسے میں آپ کا آپریشن متاثر نہیں ہوتا، اس سوال پر انھوں نے کہا کہ ہماری طاقت آئی سی سی بورڈ کا دیا ہوا اختیار ہے۔

ہمارے پاس کوئی پولیس فورس موجود نہیں، انھوں نے کہا کہ رواں برس ورلڈ کپ میں چلنے والا تعلیمی پروگرام انتہائی موثر رہا، ہم بطور اینٹی کرپشن یونٹ پلیئرز کو اس دلدل میں پھنسنے سے بچانے کیلیے کام کرتے ہیں، اسی طرح ورلڈ کپ کے موقع پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی پولیس فورس سے بھی ہمیں خاطرخواہ تعاون ملا تھا۔

مقبول خبریں