چیپل کوکرکٹ میں پاکستانی تنہائی کھٹکنے لگی

مستقبل قریب میں بڑی ٹیموں کوملک کے دورے پر راضی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا، ای ین چیپل


Sports Desk September 25, 2015
صورتحال برقرار رہی توباصلاحیت پلیئرزسامنے آنا بند ہوجائینگے، سابق آسٹریلوی قائد فوٹو: فائل

ISLAMABAD: آسٹریلیا کے سابق کپتان ای ین چیپل کوکرکٹ میں پاکستانی تنہائی کھٹکنے لگی، انھوں نے اسے کھیل کیلیے بہت بڑا خطرہ قرار دے دیا،ان کا کہنا ہے کہ صورتحال برقرار رہی تو وہاں سے باصلاحیت کرکٹرز سامنے آنا بند ہوجائیں گے۔ ٹوئنٹی 20 لیگز کی بہتات سے کھیل کا منظر نامہ تبدیل ہوجائے گا۔

ایک ویب سائٹ شو میں چیپل نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل قریب میں بڑی ٹیموں کو اپنے ملک کے دورے پر راضی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا، اس سے ایشیائی سپر پاور کی جانب سے باصلاحیت کرکٹرز سامنے نہ آنے کا خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان بڑی ٹیموں کو اپنے ملک بلانے میں مشکل کا شکار ہے، اگرچہ ٹی وی پر کرکٹ دیکھی جاتی لیکن کھیل کے فروغ اور مقبولیت کیلیے ضروری ہے کہ لوگ اسٹیڈیم کا رخ کریں۔

جب بچے اپنے والد کے ساتھ کسی گرائونڈ میں پہنچتے ہیں تو پھر ان کو اس کھیل سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے، وہ اپنے ہیروز بناتے اور پھر ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے میں اسے پاکستان کرکٹ کیلیے ایک بہت بڑا مسئلہ سمجھتا ہوں۔ 71 سالہ سابق ٹاپ آرڈر بیٹسمین نے کہاکہ اب ٹوئنٹی 20 لیگز کی فہرست میں پاکستانی ایونٹ بھی شامل ہونے والا ہے۔

اس قسم کی لیگز عالمی کرکٹ کیلیے تشویش کا باعث ہیں، ایک تو یہ الگ الگ وقت میں منعقد ہوتی ہیں جس سے پورا سال بے تحاشا کرکٹ کھیلی جاتی ہے، دوسرا ان تمام لیگز کا دارومدار کیون پیٹرسن اور کرس گیل جیسے چند ہی کرکٹرز پر ہوتا ہے، یہ بات شائقین کیلیے اکتاہٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

ممالک اس قسم کی لیگز کو دولت کمانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے کھیل کے دیگر 2 فارمیٹس کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اگر شائقین کی ٹوئنٹی 20 فارمیٹ میں بھی دلچسپی ختم ہوگئی تو پھر کیا ہوگا؟ چیپل نے مزید کہا کہ اس قسم کی لیگز میں تفریح لازمی جزو اور کرکٹ دوسرے نمبر پر رہتی ہے، یہ اب بیس بال جیسا کوئی کھیل بنتا جارہا ہے جس میں گیند پھینکی جاتی اور بیٹسمین اسے گرائونڈ سے باہر ہٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مقبول خبریں