ڈنگی اور خناق سے ہلاکتیں تشویش ناک

رواں سال کے دوران ڈنگی وائرس میں مبتلا 11مریض جاں بحق اور 3800 افراد وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔


Editorial December 23, 2015
صحت کے معاملات میں پیشگی منصوبہ بندی اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی مسئلہ ہلاکت خیزی کی جانب بڑھنے سے پہلے رفع کیا جاسکے۔ فوٹو: فائل

مخصوص مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والے ڈنگی وائرس کی ہلاکت خیزی جاری ہے۔ ڈنگی وائرس کنٹرول پروگرام سیل کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ڈنگی وائرس کی بیماری سے محض ایک ہفتے کے دوران 70 افراد متاثر ہو کر اسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں' رواں سال کے دوران ڈنگی وائرس میں مبتلا 11مریض جاں بحق اور 3800 افراد وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

ڈنگی وائرس کے پھیلنے کی وجوہات جاننے کے باوجود موثر انداز میں تدارک نہیں کیا گیا جس کے باعث یہ وائرس اب بھی پنپ رہا ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ڈنگی وائرس کی سرد موسم میں شدت دسمبر تک جاری رہے گی۔ دوسری جانب لاہور میں خناق سے ہلاکتوں کا سلسلہ بھی نہ رک سکا، دو روز کے دوران چلڈرن اسپتال لاہور میں مزید 3 بچے دم توڑ گئے، جب کہ روزانہ 5 سے چھ بچے وینٹی لیٹر نہ ہونے سے جاں بحق ہورہے ہیں۔

صوبے میں ادویات کی فراہمی کے باوجود خناق کا مرض پھیلتا جارہا ہے جس کے باعث ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزارت صحت کو اس جانب فوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ بلوچستان و خیبر پختونخوا پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ محکمہ صحت کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں ادویات فراہم کی جاچکی ہیں، جلد بیماری پر قابو پالیا جائے گا۔

لیکن حفاظتی اقدامات کے نتائج بھی ظاہر ہونے چاہئیں، بچوں کی ہلاکتیں تشویش ناک ہیں۔ محکمہ صحت کو مزید فعال ہونا پڑے گا۔ ڈنگی اور خناق کے ساتھ دیگر وبائی امراض کے خلاف بھی موثر اسٹرٹیجی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ ناگہانی سر پر آپڑنے کے بعد جاگنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ صحت کے معاملات میں پیشگی منصوبہ بندی اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی مسئلہ ہلاکت خیزی کی جانب بڑھنے سے پہلے رفع کیا جاسکے۔

مقبول خبریں