بھارتی کھیل دشمنی معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ

کھلاڑیوں کوویزے جاری نہیں کررہا( پی او اے)بیلٹ ریسلنگ ایونٹس کے انعقاد کا حق پاکستان کی فیڈریشن کومل گیا


Sports Reporter January 31, 2017
کھلاڑیوں کوویزے جاری نہیں کررہا( پی او اے)بیلٹ ریسلنگ ایونٹس کے انعقاد کا حق پاکستان کی فیڈریشن کومل گیا. فوٹو: فائل

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے بھارت میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شرکت کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہ کرنے کا معاملہ آئی او سی اور انٹرنیشنل فیڈریشن کے پلیٹ فارم پر اٹھانے کا اعلان کر دیا، بیلٹ ریسلنگ کے قومی اور بین الاقوامی ایونٹس کرانے کی ذمہ دار پاکستان ریسلنگ فیڈریشن ہوگی۔

گزشتہ روز پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جنرل کونسل کے 2017ء کا پہلا اجلاس صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عارف حسن کی زیر صدارت ہوا۔ اس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری نے قومی جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت کیلیے ویزے جاری نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ جو ملک بھی کسی بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کے لیے کسی ملک کے کھلاڑیوں یا ٹیم کو ویزے جاری نہ کرے تو آئی او سی اس ملک پر پانچ سال تک بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کرنے پر پابندی عائد کرے، اس پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر سید عارف حسن نے یقین دہانی کرائی کہ ایسے ممالک کے خلاف آواز انٹرنیشنل فیڈریشنز اور آئی او سی کے پلیٹ فارم پر اٹھائی جائے گی۔

دوسری جانب پاکستان شوٹنگ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی بین الاقوامی ایونٹ کے لیے ویزے جاری نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے کہاکہ اس مسئلے پر 2 ہفتوں میں رپورٹ حاصل کی جائے گی۔ اجلاس میں بیلٹ ریسلنگ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر پاکستان جوجسٹو فیڈریشن کا موقف سننے کے بعد ہاؤس کی منظوری کے بعد بیلٹ ریسلنگ کے قومی و بین الاقوامی مقابلے کرانے کا حق رائے شماری کے بعد پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کو دیدیا گیا۔

ادھر اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیاگیا کہ واڈا قوانین اور آئی او سی پالیسی کے تحت انسانی اسمگلنگ کے واقعات کی روک تھام کیلیے تمام کھیلوں کی فیڈریشن، ایسوسی ایشنز، ڈپارٹمنٹس اور سروسز اپنے ایونٹس اور انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی تفصیلات پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو فراہم کرنے کی پابند ہوں گی تاکہ ملکی سطح پر ہونیوالے کسی بھی ایونٹس کے موقع پر پی او اے، پی ایس بی، اینٹی ڈوپنگ پاکستان کے نمائندے بھی موقع پر موجود ہوں۔

اجلاس میں دسمبر 2016 تک کی آڈٹ رپورٹ کی منظوری کیساتھ 2016-17 کیلیے آڈیٹر کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ اجلاس میں رواں سال ہونیوالے بین الاقوامی مقابلوں ایشین ونٹر گیمز، چوتھی اسلامک سالیڈیریٹی گیمز، کامن ویلتھ یوتھ گیمز، پانچویں ایشین انڈور مارشل آرٹ گیمز کے دستوں کی منظوری لی گئی۔ اس موقع پر پی او اے ہیڈ کوارٹر میں اولمپک اکیڈمی بنانے کی منظوری دی گئی جہاں مختلف کورسز کی ورکشاپس، سیمینارز، اسپورٹس میڈیسن کورس کے انعقاد کی منظوری دی گئی۔