بگ تھری بھارتی آخری کارڈ شو کرنے کے لیے پر تولنے لگا

میڈیا رائٹس کیلیے براڈ کاسٹرز کا پول بننے سے بھی نقصان متوقع


Sports Desk February 04, 2017
 نیا مالیاتی نظام آنے سے آمدنی میں 3000 کروڑکی کمی۔ فوٹو: فائل

بگ تھری کے معاملے میں بھارت آخری کارڈ شو کرنے کیلیے پر تولنے لگا۔

آئی سی سی بورڈ میٹنگ کا جمعے کو دبئی میں آغاز ہوگیا، بھارتی کرکٹ بورڈ 25سال میں پہلی بار خاموش تماشائی کی حیثیت سے شریک ہے،اس اجلاس میں ''بگ تھری'' کی اجاری داری ختم کیے جانے کے حوالے اہم پیش رفت کا امکان ہے لیکن تبدیلیوں کیلیے بنائی جانے والی5رکنی کمیٹی میں بھارت شامل نہیں، وسائل کی مساوی تقسیم کا متبادل مالیاتی نظام اپنا لیا گیا تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بھارت ہی ہوگا جس کو بھاری مال پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملتا ہے۔

بی سی سی آئی کے سابق اور آئی سی سی کے موجودہ سربراہ ششانک منوہر نے نئی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ''بگ تھری'' کو غیر منصفانہ قراردیا تھا، اس تبدیلی کی مخالفت کرنے والے بی سی سی آئی کو اپنے ملک میں عدالتی کارروائیوں نے کمزور کررکھا ہے، اجلاس میں سیکریٹری بورڈ امیتابھ چوہدری اور خزانچی انیردھ چوہدری کے ساتھ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹروکرم لمایا شریک ہیں تاہم اکثریت بگ تھری کیخلاف ہونے کی وجہ سے ان کی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی، اس صورتحال میں مالی قربانی سے گریزاں بی سی سی آئی کو انتہائی قدم اٹھانے پر اکسایا جارہا ہے۔

دوسری جانب ایک سابق ایڈمنسٹریٹر نے تو آخری کارڈ شوکرتے ہوئے چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا ہی مشورہ دیدیا، ان کا کہنا ہے کہ جون میں سالانہ کانفرنس سے قبل انگلینڈ میں ہونے والے ایونٹ میں بھارت کے شرکت نہ کرنے سے ہونے والا بھاری نقصان آئی سی سی برداشت نہیں کرسکتی، وہ بالآخر ہتھیار ڈال دیگی، بورڈ بھی اس پر غور کر رہا ہے، رپورٹ میں بتایا گیاکہ نیا مالیاتی نظام آنے سے بھارتی آمدنی میں 3000 کروڑ کی کمی ہوگی۔

اجلاس میں ہر سال ایک آئی سی سی ٹورنامنٹ لازمی قرار دینے کے سلسلے میں بھی بات چیت ہونی ہے، مصروف شیڈول آئی پی ایل کیلیے مناسب وقت باقی نہ رہنے کا مسئلہ کھڑا کرسکتا ہے،میڈیا رائٹس کیلیے براڈکاسٹرز کا پول بنائے جانے کا بھی سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہی ہوگا جس کے نشریاتی اداروں نے اجارہ دارہ قائم کررکھی ہے۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کا کہنا ہے کہ پانی پل کے اوپر سے گزر چکا، اب چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کی دھمکی ہی کارگر ثابت ہوسکتی ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے کیلیے تیار اور جانتے تھے کہ عالمی کرکٹ کا بھارت کے بغیر چلنا دشوار ہے جب کہ آئی سی سی کی سربراہی سنبھالتے ہی بھارتی مفادات کو زک پہنچانے والے ششانک منوہر کی تو شہریت ہی ختم کردینا چاہیے۔