دوستو سسٹم کو چلانے میں ہی ملک کی بہتری ہے
اگر نواز شریف کی پالیسی کو غور سے دیکھا جائے تو وہ بھی سسٹم کو چلانے کے حق میں نہیں ہیں۔
KARACHI:
ویسے تو چھوٹے پیر پگاڑ ا کی وہ بات نہیں ہے جو بڑے پیر پگاڑ ا کی تھی۔ یہ مانا جاتا تھا کہ بڑے پیر پگاڑا کی سیاسی پیشین گوئیاں درست ہوتی تھیں اور انھیں آنے والے حالات کا پہلے سے علم ہو تا تھا۔ یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بڑے پیر پگاڑا پاکستانی سیاست کا اسکرپٹ لکھنے والوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے تھے اس لیے ان کو پہلے سے اسکرپٹ کا علم ہو تا تھا۔ تا ہم بڑے پیر پگاڑا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے چھوٹے پیر پگاڑا نے بھی پیشین گوئی کر دی ہے کہ انھیں 2018ء میں انتخابات نظر نہیں آرہے بلکہ وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ 2018ء میں انتخابات ہو گئے تو بہت خون خرابہ ہو گا۔
دوسری طرف اپنے سراج الحق بھی کہہ رہے ہیں کہ انتخابات سے پہلے احتساب کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ اس طرح یہ تو صاف بات ہے کہ پاکستان کے موجود قوانین کے تحت احتساب ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس لیے اگر احتساب کو اگلے انتخابات سے پہلے مکمل کرنا ہے تو انتخابات کو ایک لمبے عرصہ کے لیے ملتوی کرنا ہو گا۔ ایسے میں براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ کہیں نہ کہیں سراج الحق بھی مجوزہ ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ بھی مقررہ مدت پر انتخابات کے حامی نظر نہیں آرہے۔ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کو تو اس سے بھی زیادہ جلدی ہے اور انھوں نے تو موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ فوری پارلیمنٹ توڑ دیں۔
اگر نواز شریف کی پالیسی کو غور سے دیکھا جائے تو وہ بھی سسٹم کو چلانے کے حق میں نہیں ہیں۔ مجھے ان کے بیان کی بھی سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان میں سات میں سے پانچ حکومتیں ان کی ہیں۔ اور وہ اپنی ہی حکومتوں کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ بتایا جائے کہ نواز شریف اگر اپنے ہی چہیتے وزیر داخلہ سے پوچھ لیتے کہ بھائی احسن اقبال میرے بندے کیوں پکڑے ہیں تو وہ بتا دیتے کہ ان کے خلاف 19 اکتوبر کو ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ لیکن انھوں نے اغوا کا بیان داغ دیا ہے۔ وہ بھی ملک میں ایسا ماحول بنا رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سسٹم ٹوٹ جائے اور انھیں شہید بننے کا موقع مل جائے۔
جہاں تک آصف زرداری کی بات ہے وہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے نرغے میں ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ روٹھی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو منا لیا جائے۔ ٹوٹے ہوئے اعتماد کے رشتے دوبارہ بنا لیے جائیں۔ اسی لیے وہ نواز شریف پر گولہ باری کر رہے ہیں۔ ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے وہ روٹھی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو منا سکیں۔ ان کی کوششیں کتنی کامیاب اور کتنی ناکام ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن وہ ہرگزرتے دن کے ساتھ نواز شریف سے اپنے فاصلے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر آخر میں اسٹیبلشمنٹ سے ان کی بات نہ بن سکی۔ سب کچھ کر کے بھی وہ اعتماد نہ جیت سکے تو کیا ہو گا۔ کیا وہ بھی سسٹم کو خیر باد کہنے والوں کی لائن میں لگ جائیں گے۔ یا وہ یہ کہیں گے کہ چاہے مجھے کچھ ملے یہ نا ملے سسٹم چلنا چاہیے۔
عمران خان کو بھی کچھ پتہ نہیں کہ کس طرٖف کھڑے ہیں۔ نااہلی کی تلوار کی وجہ سے ان کی چابی دوستوں کے پاس ہے۔ یہی چابی انھیں بار بار یو ٹرن لینے پر مجبور کرتی ہے۔ کبھی ایم کیو ایم کے دفتر بھیج دیتی ہے۔ کبھی سندھ بھیج دیتی ہے۔ ان کو خود نہیں پتہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی اندھی خواہش نے ان کو سیاسی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ انھوں نے ہر محاذ پر لڑائی شرع کر دی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی اپنی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ان کی اپنی دوستوں اور دشمنوں کی بھی کوئی لسٹ نہیں ہے۔ جو کہا جا رہا ہے وہ کہہ رہے ہیں۔ لیکن جب سسٹم کا بستر گول ہو گا وہ کہاں ہو نگے۔ کیا تب بھی وہ دوستوں کے ساتھ ہونگے۔ میں سمجھتا ہوں تب بھی وہ دوستوں کے ساتھ ہونگے۔ کیونکہ دوست انھیں سمجھا لیں گے بس دو سال کی بات ہے گند صاف کر رہے ہیں پھر آپ کی باری ہے۔ اور وہ مان جائیں گے۔
لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ دوست کیا چاہتے ہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے دوستوں کو حیران پریشان کر دیا ہے۔ یہ تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ نواز شریف اس طرح آگے سے لڑ پڑیں گے سب کا خیال تھا کہ وہ چلے جائیں گے۔سسٹم کو بچانا نواز شریف کی مجبوری ہو گا۔ ان کی پانچ حکومتیں ہیں۔ اتنی بڑی جماعت ہے۔ سب جیتنے والے گھوڑے ان کی جماعت میں ہیں۔
اگلا انتخاب جیتنے کا بھر پور موقع ہے۔ وہ باہر بیٹھ کر بھی حکومت کے مزے لے سکتے ہیں۔اسی لیے نااہلی کے بعد انھیں دوبارہ حکومت بنانے کا بھر پور موقع دیا گیا۔ خواجہ آصف کووزیر خارجہ اور احسن اقبال کووزیر داخلہ قبول کر لیا گیا۔ حالانکہ تب بھی نواز شریف کا ندازہ تھا کہ دوست ان دونوں کو اتنی اہم وزارتوں پر قبول نہیں کریں گے۔ لیکن جس طرح یوسف رضاگیلانی کی نااہلی اور مخدوم شہاب الدین کے وارنٹ گرفتاری کے بعد راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنا کر آصف زرداری کہتے تھے کہ میں نے بدلہ لیا ہے۔ اسی سوچ کے تحت نواز شریف نے بھی ان دونوں کو لانچ کر کے اپنی طرف سے دوستوں سے بدلہ ہی لیا تھا کہ اب سسٹم چلا کر دکھاؤ۔ لیکن دوستوں کو اندازہ تھا کہ بڑے اہداف کے حصول کے لیے چھوٹی چھوٹی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
آپ دیکھ لیں کہ خواجہ آصف نے گھر صاف کرنے والی بات کر کے دوستوں کو مشکل میں ڈال دیا لیکن دوستوں نے برداشت کر لیا۔ احسن اقبال نے بھی احتساب عدالت کے باہر گفتگو میں ریڈ لائن عبور کی تو براداشت کر لیا گیا۔ قومی اسمبلی سے رینجرز کو ہٹا لیا گیا تو برداشت کر لیا گیا۔ حتیٰ کے براہ راست ڈی جی آئی ایس پی آر پر تنقید کی گئی اس کو بھی برداشت کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی ہر موقع پر نواز شریف کو اپنا وزیر اعظم کہنے لگے۔ دوستوں نے برداشت کیا۔ اسحاق ڈار کو نیب ریفرسنز کے باوجود وزیر خزانہ رکھا گیا دوستوں نے برداشت کیا۔ بلکہ دوستوں نے بند دروازے کھولے۔ قومی سلامتی کی کمیٹیوں کے اجلاس شروع کر دیے۔ فوج نے سول حکومت کے ساتھ اپنے رابطے بڑھا دیے۔ ابھی جب ملکی معیشت کے حوالہ سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تو بعد میں پھر حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معیشت پر بات کی گئی۔
مجھے ایسا لگ رہا کہ دوستوں کی خو اہش ہے کہ جیسا بھی نظام ہے چلتا رہے۔ یہ جمہوریت پاکستان کا ایک خوبصورت چہرہ ہے۔ ٹیکنو کریٹ حکومتوں نے نہ ماضی میں دوستوں کو کوئی نیک نامی دی ہے اور نہ آگے دیں گی۔ ایسی حکومتوں کے خلاف سیاسی اتحاد فطری بات ہے۔ جمہوریت کی بحالی کے نام پر سیاستدان اپنے گناہ دھو لیتے ہیں۔ اور دوست مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ امریکا اور مغرب پہلے ہی سی پیک سے خوش نہیں ہیں۔ پھر جمہوریت کی بحالی کے نام پر وہ بھی پاکستان کے سیاستدانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیں گے۔