صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ہمیں مصنوعی ذہانت چاہیے مگر ایسی مصنوعی ذہانت نہیں جو صرف طاقتور اداروں اور بڑی کمپنیوں کو مزید طاقتور بنادے۔
عہد جوانی رورو کاٹا، پیری میں لی آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا
پی ٹی آئی کو اپنے بانی کی رہائی سے دلچسپی ہے اور جے یو آئی کو اس معاملے میں دلچسپی نہیں ہے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960میں عالمی بینک کی ثالثی سے وجود میں آیا تھا
پاکستان میں نیم جمہوری حکومتوں کی عجیب تاریخ ہے۔ دو سے تین برس مکمل ہونے پر حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جانے لگتی ہیں۔
جب ہم جان بوجھ کر سیاست کے دروازے ایک دوسرے کے لیے بند کر رہے ہیں تو اس کا مطلب تو واضح ہے کہ ہم سیاست اور جمہوریت کی اصلاح نہیں چاہتے
جدوں تیری دنیا توں پیار ٹُر جائے گا دس فیر دنیا تے کیہہ رہ جائے گا
تانبے کی سب سے بڑی عالمی سپلائی بحرالکاہل کے مشرقی ساحل پر قائم جنوبی امریکا کے ملک چلی سے آتی ہے۔
جب دو ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر ہر دو فریق کی فوجیں مدمقابل ہوتی ہیں۔
ایوب خان کے ابتدائی برسوں میں جی ڈی پی میں تیز اضافہ ہوا، زرعی پیداوار بڑھی، صنعتی شعبے میں توسیع ہوئی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ہوئی
ایران کے خلاف امریکی اعلان میں معاشی شریانوں اور مالیاتی چینلز کو کاٹنے کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
ایران کی مشکل یہ ہے کہ اسے بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی بقا کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
اصلیت کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ منفی سلسلہ جاری وساری ہے
صدر ممنون حسین مرحوم کو آذر بائیجان جانا تھا اور سوال یہ تھا کہ صدر الہام علی ایو کے لیے کیا تحفے منتخب کیے جائیں۔
یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ کر جس اندھی تقلید میں جی رہے ہیں، اس کا انجام یہی کوٹ ریک کے ساتھ ہونے والا خاموش اور بے ثمر رقص ہے۔
یہ ویسا ہی دھوکہ تھا جو ان قبروں میں دفن غلاموں کے ساتھ ہوا تھا۔ انھیں آزادی کی امید دلا کر ایک نئے اہرام کی تعمیر میں لگا دیا تھا۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکمرانوں کے خلاف ہمارے نوجوانوں کا غصہ ، بوجوہ، روز افزوں ہے ۔
پاکستان میں سیاسی اختلاف کو دشمنی کا آغاز ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا، محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ سب جانتے ہیں۔
وزیراعظم کو پیش کی گئی عبوری تحقیقاتی رپورٹ نے اس واقعے کو محض ایک بدقسمت حادثہ قرار دینے کی گنجائش تقریباً ختم کر دی ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سبھی معاہدوں میں یہ سب سے کامیاب اور با اثر معاہدہ ہے
یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے
انھوں نے ابھی ماں کی گود کو پوری طرح محسوس نہیں کیا تھا
ان لوگوں کے حال پر رونا چاہیئے جن کی آمدن پانچ اور خرچ دس ہو
حادثے کے بعد پبلک پریشر بڑھتا ہے، تو دکھاوے کے لیے پرچے درج ہوتے ہیں
اب لگتا ہے مودی حکومت کے دن پورے ہو گئے ہیں
موت برحق ہے، ہم سب کو اس دنیا کو ایک نہ ایک دن خیرباد ضرورکہنا ہے
صحت کے ایسے ہی غیر ذمے دار وزیروں کو یہ دیس دہائیوں سے دیکھتا چلا آرہا ہے
کرنسی کی اصل حیثیت اس چیز کی نہیں بلکہ اس کے کردار کی ہے
انھوں نے اپنے شوق و ذوق کے نتیجے میں افسانے لکھے لیکن انھیں شائع نہیں کرایا
یہ ایک بڑی تشویش ناک صورت حال سامنے آ رہی ہے لوگوں کے رویے اب بدل رہے ہیں
پاکستان کی دفاعی قوت بھی اس نئی سفارتی پوزیشن کا ایک اہم عنصر ہے
طالب علم آج ایک نیا سیاسی بیانیہ اور حکمت عملی آپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جس کا نام ہے ’’میثاقِ پاکستان۔‘‘ آپ نے میثاق جمہوریت کا نام تو سن رکھا ہے۔
79 ویں یوم آزادی پر قوم کو حکومت پاکستان نے یاد دلایا کہ آزادی کی نعمت سے ہی قومی اتحاد اور مستقبل روشن ہے۔
اگست کے وسط میں امریکا نے شام کو دھشت گرد ممالک کی فہرست سے باضابطہ خارج کر کے ملک میں امریکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر دی۔
آگ لگنا اﷲ کی قدرت نہیں ہے یہ ڈاکٹروں کی بناء پر ہوا۔ کسی ڈاکٹر یا نرس کو خراش تک نہیں آ
بہادروں سے مت خوف کھا مگر اس سے ضرور خوف کھا جو خدا سے نہیں ڈرتا۔
بے شک ہم آزاد ہیں لیکن ہم درآمدی معیشت کے قیدی کیوں بن گئے؟
حکومت کو تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں نومولود اور انتہائی نگہداشت کے مراکز کا فوری آزادانہ حفاظتی جائزہ کرانا چاہیے
کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا اور کچھ تلخیٔ حالات نے دل توڑ دیا دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہے عشق کی ایسی روایات نے دل توڑ دیا
چینی ایک ایسی میٹھی چیز ہے جس نے ہماری معاشی پالیسی میں کبھی مٹھاس پیدا نہیں کی۔
اِس سانحہ نے سارے ملک کو سوگوار کررکھا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے ۔ عیدِ میلادالنبی کی خوشیاں اور مسرتیں بھی اِسی سانحہ کی نذر ہو گئیں۔
جس نے سوباردل کو توڑا ہے ہم ابھی تک ہیں اس کے دیوانے
پہلے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران گئے۔ اس کے بعد عمان کے وزیر خارجہ ایران گئے۔
زندگی،جذبات،احساسات، خیالات، تجربات، مشاہدات کا خوبصورت اور بامعنی اظہار ہے۔
ٹرمپ کا یہ موقف کہ ایران پر معاشی اقدامات اور فوجی حملے دونوں موثر ہیں
آج بلاشبہ پروفیسر انور مسعود صاحب کے بعد مزاحیہ شاعری میں سب سے بڑا نام انعام الحق جاوید کا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ نشیب و فراز، بحرانوں اور اقتدار کی رسہ کشی کی ان گنت کہانیوں سے عبارت ہے۔
عورت کے بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ صرف پاکستانی عورت کا مسئلہ نہیں ،یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے۔ پولیس جدید ٹیکنالوجی کے باوجود انھیں تلاش نہ کرسکی
پارلیمان میں متحدہ اپوزیشن بن گئی ہے۔ بالاآخر مولانا فضل الرحمٰن اور تحریک انصاف کے درمیان اکٹھے چلنے کی کوئی راہ نکلتی نظر آرہی ہے۔