US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
سیاسی انتشار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ انجام کا سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک مسئلہ اور بھی ہے، حقائق چھپانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے
کہا جاتا ہے کہ پنجاب و کے پی میں غیر مقبولیت کے بعد صدر آصف زرداری کو اندازہ ہو گیا تھا کہ آیندہ وفاق میں پی پی اقتدار میں نہیں آ سکے گی
جناب سہیل آفریدی نے لاہور میں تین دن بھرپور گزارے اور واپس تشریف لے گئے ۔ خیبر پختونخوا موجودہ ایام میں نازک حالات سے گزر رہا ہے
' وہ علم ہی کیا جو آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔'
نیتن کمار جی نے اقتدار و اختیار کے زعم میں آ کر جو حرکت کی وہ بھارت کی بین الاقوامی بدنامی کا باعث ہوگی
چائینہ میں اس وقت 98ہزار ڈیم موجود ہیں ۔ بڑے بڑے ڈیمز دریائے یانگ سی پر ہیں ۔ جو چائینہ کا سب سے بڑا اور دنیا کا تیسرا بڑا دریا ہے ۔
دریائے چناب، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے تین مغربی دریاؤں میں شامل ہے
نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا
زماں و مکان کا سنگم ہے یہ وقت۔ جو گزر گیا وہ مکاں اور جو چلا وہ زماں
اس نے تو بنگلہ دیش سے ملحق بھارتی چھ ریاستوں کو بھی بنگلہ دیش میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا تھا
لوگ تھک گئے ہیں سوال کر کے اور انھیں اندازہ ہے کہ ان کو اپنے کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا
پی آئی اے کے ساتھ زوال کا حادثہ تین چار دہائیوں سے پرورش پا رہا تھا
سوشل میڈیا پر غصہ ہے، طنز ہے، چیخ ہے مگر حقیقی مکالمہ ناپید
کسی کے موٹے، ناٹے، سفید، سانولے یا سیاہ ہونے میں ان کا کوئی کمال نہیں ہے
پاکستان کی زمین قدرتی جڑی بوٹیوں کے معاملے میں خاصی زرخیز ہے
دنیا کی بقا کا ایک بنیادی اصول ہے’’ کچھ لو اور کچھ دو ‘‘ یعنی حقوق اور فرائض
مغربی پولیٹیکل ڈکشن میں سوشلسٹ حکومتوں کو آمرانہ حکومتیں کہا جاتا تھا
پاکستان تو خیر حاصل کر لیا گیا‘ مگر وہ سوچ ‘ طرز حکمرانی اور انتقال اقتدار کا مہذب طریقہ ‘ جو جمہوریت کا اصل حسن ہے
قرض لینے سے زیادہ اس پر بڑھتے ہوئے سود کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ حکومت یہ ریکارڈ توڑتی ہے تو اس کے ساتھ ہی بوڑھے پنشنرز کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے
اسرائیل اور امریکا نے ان وارنٹس کی واپسی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا مگر اب تک کامیابی نہیں ہوئی
محمود خان اچکزئی نے 80ء کی دہائی میں ایم آر ڈی کی آئین کی بحالی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ انھیں طویل عرصے تک زیرِ زمین رہنا پڑا
تم پوچھو ہم نہ بتائیں ایسے تو حالات نہیں اک ذرا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
ہندوستان کو عادت پڑ گئی تھی کہ فالس فلیگ آپریشن کر کے،اپنے لوگوں کو مار کر پاکستان پر الزام دھرے
یہ جو سیاسی ،سماجی اور معاشی یا طبقات کی بنیاد پر تفریق ہے اس نے بھی انسانی زندگی کو ایک مشین کی طرح بنا ڈالا ہے
بشریٰ بی بی کو کیا کبھی ان کے شوہر نے نہیں بتایا ہوگا کہ وہ جیل میں کیسے وقت گزار رہے ہیں
بین الاقوامی حالات اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش سنگین حالات پر بھی حافظ نعیم الرحمن صاحب کی نظر رہتی ہے۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں حالانکہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اہل وطن 25 دسمبر کو قائد اعظم کا جشن ولادت مناتے ہیں تو دوسری جانب 16 دسمبر کو مشرقی بازو کٹ جانے کا دکھ اور برسی بھی مناتے ہیں
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
پاکستان کو درپیش سلامتی کے چیلنجز نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی معمولی نوعیت کے۔
وزیراعلیٰ بِہار نتیش کمار نے دراصل ہندوستان کے چہرے سے سیکولرازم کا نقاب نوچ ڈالا جو بھارت کے مکروہ چہرے کا منہ بولتا ثبوت ہے
تحقیق و تربیت سے اور تجارتی شعبوں کو مزید ترقی دے کر باہمی تجارت کو کئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے
چین کے تعاون سے سی پیک کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا، اس منصوبے کے تحت بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کو چین کے صوبے سنکیانگ سے منسلک کر دیا گیا
سیاسی لوگوں کا اقتدار میں آنے کے بعد پروٹوکول برسوں سے تنقید کی زد میں رہا ہے جو گھٹنے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے
محض الزام تراشیوں کی بنیاد پر مسائل کا حل ممکن نہیں اور اس سے مزید شدت پسندی پر مبنی رجحانات جڑ پکڑیں گے
اپنی بچوں کو بچپن سے ہی مختصرلباس، چھوٹے جہانگیہ چست پینٹ یا نیکر اور بغیر آستیوں کے لباس نہ پہنائیں
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا سلسلہ نہ رکنے کا نام لے رہا ہے اور نہ ہی تھمنے کے آثار نظر آتے ہیں
کیا کریں دسمبر آتے ہی زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ جسدِ ملّت پر لگا ہوا زخم اتنا گہرا ہے کہ قیامت تک نہ بھر سکے گا۔
ابتدائی چند مہینوں میں کابل اور بعض دوسرے شہروں میں خواتین کو تعلیم اور روزگار کی محدود اجازت دی گئی
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ تاریخ فاتحین نے لکھی اور انھوں نے اور ان کی سوچ نے انسان کو ایک عدد میں بدل ڈالا
اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا بخال ہندوش بخشم ثمر قندو بخارا را
میں عدالت کی برہمی سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن عدالت کو بھی عوام کی برہمی سمجھنی ہوگی۔ میں قانونی نکا ت پر بحث نہیں کرنا چاہتا
روز بروز بگڑتے سیاسی اور معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک میں سیاسی مفاہمت کا آغاز کیا جائے
بنگلہ دیش اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ بحران محض حکمران طبقات تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہم سب ہی جذباتیت کی بنیاد پر معاملات کو دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں
بھارت 10 مئی کے حملے کو ساری زندگی نہیں بھول سکتا
یہی ماڈل تھوڑی بہت سفارتی لیپا پوتی کے ساتھ غزہ پر بھی منطبق کرنے کی کوشش ہو رہی ہے
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اٹھائے کیوں
جس جماعت کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہ ہو، اس سے کیا بات ہو سکتی ہے
بہرکیف سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ انسانی جدت اور سہولت،کسی انسان کی طرح جذبات رکھنے سے عاری ہے