ملیریا کا مکمل خاتمہ عالمی برادری کی ذمے داری ہے

پاکستان میں ملیریا موجود ہے اور ہر سال اس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔


Editorial April 20, 2018
پاکستان میں ملیریا موجود ہے اور ہر سال اس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں ٹی بی اور پولیو کے ساتھ ساتھ ملیریا پر بھی تقریباً قابو پا لیا گیا ہے اور پاکستان ملیریا کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم اس کے ساتھ ہی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ ملیریا کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے جس طرح اس سے پہلے کئی مہلک بیماریوں کے خاتمہ کے لیے عالمی برادری نے کم وسائل والے ممالک کی مدد کی اور انھیں کئی جان لیوا امراض سے نجاعت دلا دی۔

لندن میں انسداد ملیریا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پچھلے برسوں میں 44 ہزار لوگ ملیریا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے، ہم نے بہت سے اقدامات کیے جس کی وجہ سے 2013ء سے لے کر 2017ء تک تقریباً ملیریا کے شکار افراد کی تعداد میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملیریا کے دنیا بھر سے خاتمے کے لیے 2030ء کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لیکن پاکستان اس سے بہت پہلے ملیریا کے انسداد کی خواہش رکھتا ہے اور اس ضمن میں کوشش جاری رکھے گا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی برادر ی کئی ممالک سے مختلف مہلک بیماریوں کے خاتمے کے لیے ان کی مدد کرتی رہی ہے ورنہ ان ممالک سے ان بیماریوں کا خاتمہ ممکن نہ ہوتا۔ بہرحال اب بھی ایسی بیماریاں موجود ہیں جن کا علاج بھی موجود ہے لیکن پسماندہ ممالک میں ان بیماریوں سے مسلسل اموات ہو رہی ہیں' ان میں ملیریا بھی شامل ہے۔

پاکستان میں ملیریا موجود ہے اور ہر سال اس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ براعظم افریقہ' ایشیا اور لاطینی امریکا کے غریب اور پسماندہ ممالک میں وبائی اور دیگر امراض پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مقبول خبریں