خاتون پروفیسر سے بدسلوکی کی تحقیقات کرنے والے پرنسپل کا تبادلہ

ایس ایم سائنس کالج کے پرنسپل کالج کوسندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی جاری تحریک میں بھی پیش پیش تھے.


Safdar Rizvi April 29, 2013
محکمہ تعلیم نے پہلے ہی ممتاز اجن کواوپی ایس پرریجنل ڈائریکٹرکالجز کاچارج دے رکھاہے،باقی تمام اوپی ایس افسران ہٹائے جاچکے. فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ تعلیم نے گریڈ19کے جونیئرترین افسرممتازاجن کوپہلے ہی اوپی ایس پرریجنل ڈائریکٹرکالجز کاچارج دے رکھا تھا اب ایس ایم گورنمنٹ سائنس کالج کوسندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے حوالے کرنے کے خلاف جاری تحریک میں سرفہرست متعلقہ کالج کے پرنسپل کا ٹھٹھہ تبادلہ کردیاگیا۔

ایس ایم گورنمنٹ سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسرعشرت میاں جامعہ ملیہ گورنمنٹ کالج ملیرمیں ایک خاتون ٹیچرکے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ''انکوائری کمیٹی''کے سربراہ بھی تھے، صوبائی محکمہ تعلیم کے بعض افسران کاخیال ہے کہ انھی دووجوہات کی بناپرترقی کے بعدان کاتبادلہ کراچی ریجن سے باہرحیدرآباد ریجن میں کیاگیاہے اورانھیں گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج ٹھٹھہ بھیج دیا گیا ہے، ترقی پانے والے دیگرکالج اساتذہ کاپرموشن کے بعد شہرکے دیگر کالجوں میں تبادلہ کیاگیاہے۔

 



یاد رہے کہ سابق دورمیں لیاری ڈگری کالج کی پرنسپل پروفیسرپروین نظیرسومروکاکراچی سے اندرون سندھ کے کالج میں صرف اس لیے تبادلہ کردیاگیاتھاکہ وہ سابق وزیرتعلیم کی اہلیہ کوکالج میں کلاسز لینے کاپابند کرتی تھیں، ایک جانب توصوبائی محکمہ تعلیم ریجنل ڈائریکٹرکالجزحیدرآباد، سکھراورلاڑکانہ سمیت 300سے زائد افسران کوصرف اس لیے عہدوں سے ہٹاچکاہے کہ وہ اوپی ایس پرکام کررہے تھے دوسری جانب واحد افسرممتازاجن ایسے ہیں جوسندھ کے سب سے بڑے شہرکراچی کے سرکاری کالجوں کی سربراہی اوپی ایس پرکررہے ہیں۔

مقبول خبریں