جامعہ کراچی ایچ ای جے انسٹیٹیوٹ نے ملازمین کی ترقیاں روک دیں

ایگزیکٹوبورڈ کےفیصلےسےملازمین میں اضطراب ،عالمی معیار کے ادارے میں یونیورسٹی طرز پر ترقیاں نہیں ہوسکتیں، اقبال چوہدری


Safdar Rizvi May 06, 2013
ایگزیکٹوبورڈ کے فیصلے سے ملازمین میں اضطراب ،عالمی معیار کے ادارے میں یونیورسٹی طرز پر ترقیاں نہیں ہوسکتیں،اقبال چوہدری۔ فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے ایچ ای جے (حسین ابراہیم جمال) انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کی انتظامیہ نے یونیورسٹی قواعد وضوابط کے برعکس آرٹس کے شعبوں سے گریجویشن اورماسٹرز کرنے اورٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے ملازمین پر ترقی کے دروازے بند کردیے ہیں جس سے ملازمین میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

اس بات کا انکشاف ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو بورڈ کے منعقدہ آخری اجلاس میں ہوا،اجلاس میں تعلیمی قابلیت کی بنیادپرملازمین کی یونیورسٹی اور انسٹی ٹیوٹ انتظامیہ کودی گئی درخواستوں کا معاملہ زیر بحث آیا تو ایگزیکٹو بورڈ نے اسے ملازمین کی ریپڈ پروموشن کی اصطلاح سے تعبیرکرتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کردیا،بورڈ کا اجلاس جمعہ کو کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرکی زیرصدارت ہوا جس میں کہا گیاکہ ترقی کے لیے صرف ایسے معاملات پر غورہوگاجس میں زیرملازمت شخص کی قابلیت انسٹیٹیوٹ کے ضابطوں سے مطابقت رکھتی ہو۔



اس سلسلے میں ایک سہ رکنی کمیٹی جی اے میانہ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جو ایسے معاملات حل کرنے کے علاوہ ملازمین کو ہونے والی شکایات کا ازالہ کرے گی،واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ ملازمین کی شکایت پر اس سے قبل ایچ ای جے انسٹی ٹیوٹ پر واضح کرچکی ہے کہ ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جامعہ کراچی کے زیرانتظام ہے اور یہاں جامعہ کراچی کے قوانین ہی لاگو ہیں،ایچ ای جے کی پالیسیوں کے خلاف ملازمین نے شیخ الجامعہ، یونیورسٹی چانسلر اورگورنرسندھ سے مداخلت کی اپیل کی ہے،اس سلسلے میں ایچ ای جے کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ ایک عالمی معیارکا ادارہ ہے، ادارہ اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتاکہ یونیورسٹی کی طرزپریہاں بھی ترقیاں دی جائیں۔

مقبول خبریں