اب میاں صاحب کی آزمائش… جنرل مشرف

وقت کی نہ رکنے والی گردش میں وہ مقام آ ہی گیا جب جنرل پرویز مشرف پر آئینی مقدمہ چلانے کا اعلان کر دیا گیا۔


Abdul Qadir Hassan June 25, 2013
[email protected]

وقت کی نہ رکنے والی گردش میں وہ مقام آ ہی گیا جب جنرل پرویز مشرف پر آئینی مقدمہ چلانے کا اعلان کر دیا گیا۔ مشرف مقدمے کے تین فریق ہیں، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف' میاں نواز شریف اور پاکستان کے عوام۔ عدالتیں پرویز مشرف کو سزا دیں یا باعزت بری کر دیں لیکن یہ قوم اس شخص کو نہ رہا کرے گی نہ اسے اپنی کسی مہربانی سے سرفراز کرے گی۔ مقدمے کے تیسرے فریق میاں محمد نواز شریف ان دنوں برسر اقتدار ہیں اور انھوں نے ہی قومی اسمبلی میں اپنے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ وہ پرویز مشرف پر مقدمہ چلائیں گے۔

اب وہ جانیں اور ان کا ملزم جانے لیکن اگر کوئی اس قوم سے پوچھے اور یہ ''اگر'' بس ایک اگر ہی رہے گا لیکن قوم کی خاموش عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے جمہوری ملک کو جس کسی نے پہلی بار طاقت کے بل بوتے پر جمہوری راستے سے ہٹایا ہے' سزا کا آغاز اسی سے کیا جائے اور اس قوم کی اشرافیہ پر ماتم کیا جائے جس نے ایوب خان کی حمایت کی تھی۔ پاک فوج کے جنرل محمد ایوب خان ترین نے اپنے اقتدار کے لیے اس جمہوری حکومت کو وہ جیسی بھی تھی، ختم کر دیا اور اپنے اس عمل میں ہر مخالفت سے بے فکر بھی رہا کیونکہ اس وقت کے موثر لوگ اس کے ساتھ مل گئے تھے۔ قائد اعظم کی مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے جتنے لوگ بھی زندہ تھے اور پاکستان میں تھے وہ سب اس لیگ میں شامل ہو گئے جو ایوب خان نے بنائی تھی اور کنونشن لیگ کہلائی۔

اس وقت مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک دھڑے نے اپنی تنظیم کے لیے پارٹی کی کونسل طلب کی اور وہ اس حوالے سے کونسل لیگ کہلائی جسے اصلی لیگ سمجھا گیا۔ اس کے مرکزی لیڈر دولتانہ تھے جب کہ ایوب خان نے اپنے لیگی دھڑے کا کنونشن بلایا اور یہ کنونشن لیگ کہلائی۔ ذوالفقار علی بھٹو اس کنونشن لیگ کے ایک سرگرم لیڈر تھے اور ایوب خان کو اپنا ''ڈیڈی'' کہتے تھے، وہ کنونشن لیگ کے سیکریٹری جنرل بھی رہے اور الیکشن میں ایوب خان کے چیف ایجنٹ بھی، مقابلے میں مادر ملت فاطمہ جنا ح تھیں۔ ایوب خان نے ڈٹ کر اور کئی شعبوں میں ترقی کر کے حکمرانی مکمل کی۔

ملک کی معاشی زندگی میں ایوب خان کا بڑا کردار تھا۔ صنعتوں کا فروغ اور زراعت میں ترقی ایک حقیقت تھی۔ ایوب خان برسوں حکومت کے بعد اپنے خلاف تحریک کو دیکھ کر خود ہی مستعفی ہو گئے یا اپنے جانشین فوجی جرنیل کے دباؤ میں آ کر ریٹائر ہو گئے۔ کنونشن لیگ کا ایک وفد مرحوم ملک محمد قاسم کی سربراہی میں ایوب خان سے ملا اور کہا کہ آپ دل چھوٹا نہ کریں' ہم مقابلہ کر سکتے ہیں، لیکن ایوب خان دل ہار چکے تھے۔ انھوں نے اپنے ان غیر فوجی ساتھیوں سے کہا کہ جب پاک فوج کا سربراہ کہہ دیتا ہے کہ ''نہیں'' تو پھر وہ نہیں ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ ایوب خان اسلام آباد میں اپنے گھر میں آخری وقت تک مقیم رہا۔ جن لوگوں نے ایوب خان کا ساتھ دیا تھا وہ بھی سب شریک جرم تھے لیکن اب وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔

ایوب کے بعد یحییٰ خان آئے جنہوں نے اور تو کچھ نہیں کیا، ملک کی تاریخ ہی بدل دی اور ملک دو ٹکڑے کر کے چلتا بنا لیکن پھر بھی باقی ماندہ پر حکمرانی کا دعوے دار تھا۔ کسی نے اس حماقت کی طرف توجہ دلائی تو اس نے پنجابی میں کہا ''میں نے کوئی کھوتی کو ہاتھ لگایا ہے۔'' یہ وہی یحییٰ خان تھے جن کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ بھٹو صاحب تھے۔ جن لوگوں نے ملک کی قسمت کو برباد کیا، ان میں مجیب الرحمٰن اور بھٹو سرفہرست تھے۔ یحییٰ خان کا جرم صرف آئینی ہی نہیں قومی' تاریخی بھی ہے۔ اس کا کوئی ساتھی ملے تو اسے بھی مقدمے میں شامل کر لیں۔ حالات کی کروٹ نے ایک طرف مجیب الرحمٰن اور دوسری طرف بھٹو صاحب میں اقتدار بانٹ دیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن مارا گیا' بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ جناب بھٹو صاحب نے اپنے اقتدار میں اس فوجی صنعتی ترقی کو قومیا کر ختم کر دیا جو ایوب نے شروع کی تھی۔

قصہ مختصر اس کے بعد جنرل ضیاء الحق آ گئے۔ وہ بھی جمہوریت کے مخالف اور عوام کی حکومت کے دشمن تھے۔ پوری طرح فوجی حکمران تھے۔ ان کی زندگی کی دو باتوں کا بہت ذکر کر کے آپ کی رائے کا طلب گار ہوں۔ ایک تو ملک توڑنے کے جرم میں بذریعہ عدالت بھٹو کی پھانسی۔ ملک توڑنے اور اسے دو حصوں پر تقسیم کرنے میں بھٹو کا کردار ناقابل تردید ہے۔ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ مجیب' اندرا گاندھی اور بھٹو یہ تینوں پاکستان توڑنے کے اصل ملزم ہیں۔ قدرت نے تینوں کو غیرقدرتی موت دے کر ان کو سزا دے دی اس پر بحث کر لیں۔ ضیاء الحق کا تاریخی کارنامہ اور تاریخی جرم سوویت یونین کا نام و نشان مٹانا ہے۔ اس جنگ میں جب اس کے سامنے ایک مشہور بے رحم سپر پاور تھی اس نے اس کی مخالف دوسری پاور سے مدد لی لیکن ہتھیار اپنے ہاتھ میں رکھا۔ سوویت یونین جیسی طاقت کا یہ انجام تاریخ کا ایک عجوبہ ہے۔

اسلحے' ایٹم بموں کے ڈھیر اور اس پر بہت بڑی تربیت یافتہ فوج یہ سب افغانستان اور ازبکستان کی سرحد پر دریائے آمو کے پل پر دھرے کے دھرے رہ گئے۔ روسی فوج کے بریگیڈیئر نے اس پل پر کھڑے ہو کر افغانستان کی طرف دیکھ کر کہا کہ ہم تو اپنی نسلوں سے بھی کہہ جائیں گے کہ ادھر کا رخ نہ کریں۔ ضیاء الحق بلاشبہ ایک فوجی آمر تھا اور چالاک شخص تھا' ملنسار' متواضع اور احترام کرنے والا لیکن وہ اول و آخر ایک حکمران آمر تھا جس سے ایک سے زیادہ کارنامے ہوئے۔ اب وہ افغانستان کے ''طالبان'' کشمیر کی طرف بھیجنے والا تھا کہ بھارت نے واویلا شروع کر دیا اور امریکی مصلحت بھی اس میں تھی۔

ضیاء کو ختم کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء نے اپنے اقتدار میں جس سیاسی طبقے کی سرپرستی کی بلکہ پیدا کیا وہ میاں نواز شریف کی قیادت میں تھا۔ میاں صاحب خود غرض اور مطلبی فوجیوں سے بچ بچا کر اقتدار میں گھس گئے لیکن ان سے نفرت کرتے رہے۔ لاہور کے گورنر ہاؤس میں امریکی صدر نکسن کی آمد پر ایک مختصر سی تقریب میں ان کو میں نے اپنے ڈرائیور کی پلاٹ کی درخواست کی۔ انھوں نے جنرل جیلانی کی طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ قادر صاحب انھیں جانے دیں اور پھر مجھے یہ درخواست یاد دلائیں۔ مجھے میاں صاحب کا فوجی گورنر کے سامنے ان کا یہ نفرت بھرا رویہ دیکھ کر تعجب ہوا۔ مجھے ان کے لہجے کی تلخی آج تک یاد ہے۔ سلسلہ شب و روز میں پھر ایک فوجی جنرل مشرف آ گیا۔ اس کی حکمرانی پر پھر عرض کریں گے فی الحال اس خوشی کا اظہار کہ قوم کو کہیں سے بھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تو آیا۔

آج صبح صبح گھر کے ملازم یکے بعد دیگرے آموں کی پیٹیاں اٹھا کر لا رہے تھے تو مجھے ان کی تعداد پر تعجب ہوا۔ اس رسم کے موجد نوابزادہ نصراللہ خان ایک پیٹی اور خاص مہربان رانا تاج نون ایک دو پیٹیوں تک محدود رہے لیکن زرداری صاحب نے تو میرے گھر میں آموں کا ڈھیر لگا دیا۔ خوبصورت پیٹیوں پر مطبوعہ نام تھا اور میٹھے خوشبودار آم۔ میں اپنے صدر کا شکر گزار ہوں۔

مقبول خبریں