خود ساختہ سنسر اور امریکی افغان پالیسی

افغان جنگ کےبعدروسی جرنیلوں نےتواپنےتمغےماسکوکے فٹ پاتھوں پررکھ کربیچ دیے تھے،خدا نہ کرےامریکی جرنیلوں پریہ وقت آئے۔۔۔


Abdul Qadir Hassan July 02, 2013
[email protected]

ان دنوں سب سے دلچسپ خبر لندن سے آ رہی ہے لیکن ہماری تو مجال بھی نہیں کہ اس خبر پر تبصرہ تو کجا اس کا کھل کر ذکر بھی کر سکیں سوائے شعیب بن عزیز کے اس مشہور شعر کے کہ

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

لیکن ہم ان کاموں کی طرف اشارہ کرنے کی جرات بھی نہیں کر سکتے جن کی وجہ سے لندن کی شامیں بھی اداس ہو گئی ہیں۔ میں پہلے بھی یہ ذکر کر چکا ہوں کہ رپورٹنگ کے دوران استاد نے جن خبروں سے منع کیا تھا ان میں عدلیہ اور فوج کی خبریں تھیں، اس پر ہم نے اپنی اس رپورٹنگ کو خیر باد کہہ دینے کے برسوں بعد از خود اضافہ کیا ہے کہ کراچی کے ایم کیو ایم کی خبر بھی نہیں دینی وجہ بھی ناقابل بیان ہے۔ ایم کیو ایم کاروباری دنیا کے سر پر بیٹھی ہے اور کسی کی جرات نہیں کہ اس کی خواہشات سے سرتابی بھی کرے بلکہ ان خواہشات سے بھی جن کے بارے میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابھی صرف دل میں ہیں زبان پر نہیں آئیں لیکن ہم لوگ اس قدر ہوشیار ہو گئے ہیں کہ دل کی بات بھی سمجھ جاتے ہیں اور زبان سے بیان کے محتاج نہیں ہوتے اس لیے ہماری احتیاط کی کوئی حد نہیں ہے چنانچہ ان دنوں اخباروں میں اس بارے میں طویل خبریں چھپ رہی ہیں طرح طرح کے انکشاف ہو رہے ہیں بلکہ حیرت انگیز انکشافات بھی کہ پاکستان کے مشہور دولت مند بھی ان کا پانی بھرتے ہیں لیکن میں یہ سب اخباروں کی خبروں کے حوالے سے عرض کر رہا ہوں اپنی طرف سے کسی گستاخی کا مرتکب نہیں ہو رہا۔

ایک بار کراچی کے ایک سرکردہ شہری نے گلہ کیا کہ میں کراچی کے بارے میں کچھ نہیں لکھتا جواب میں عرض کیا کہ آپ لکھنے دیں تو لکھیں اس پر بھی وہ ناراض ہو گئے تو عرض کیا کہ اب آپ اپنی بات سے خود ہی غور فرما لیں کہ کراچی کے بارے میں کیا لکھا جا سکتا ہے سوائے سمندر کی لہروں کے ان پر جھومتی ہوئی بادبانی کشتیوں کے حضرت پیر آف پگاڑا کے اور اس طرح کے دوسرے غیر سیاسی موضوعات کے اور یہ غیر سیاسی موضوعات صرف کراچی تک محدود نہیں اب تو ہر جگہ سے ہر قسم کی خبر آ رہی ہے، انسانی جانوں کا ضیاع اگر خبر ہے تو اس کی یہاں بھی افراط ہے۔

کراچی کی اجارہ داری نہیں رہی۔ مدتوں بعد کراچی کے بارے میں لندن سے آنسوؤں بھری خبر آئی ہے تو ہم خاموش ہیں۔ اتنا بڑا تاریخی موضوع ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور ہم قلم ابھی کان پر لگائے بیٹھے ہیں، ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم۔ ایسی پابندی تو سخت مارشل لاؤں میں بھی نہیں گزری جب مضمون اور خبریں اخبار کے صفحات سے اکھاڑ دی جاتی تھیں۔

یہ خود ساختہ سنسر زندگی میں اب تک پہلی بار دیکھا ہے بلکہ کر رہے ہیں بس یہی خواہش ہے کہ اللہ خیر کرے، میں ایک دیہاتی ہوں اور ایسی وارداتوں کے نتائج سے واقف ہوں۔ ہمارے ہاں جب پولیس انگریزی حکومت کے ماتحت ہوتی تھی تو اس کا دبدبہ خدا کی پناہ۔ خلاف قانون کسی حرکت کا ہر ایک کو پتہ ہوتا تھا اور اس کی نیندیں حرام ہو جاتی تھیں، اس کے آنسو کیا چیخیں نکلتی تھیں، یہ تو ایک غلام ملک کی پولیس کا ذکر ہے، لندن میں تو اصلی انگریزی پولیس ہوتی ہے جو پیچھے پڑ جائے تو جان نہیں چھوڑتی۔ اس کے سوا کیا عرض کریں کہ ع

اس طرح تو ہوتا ہے اسی طرح کے کاموں میں۔ چونکہ شعیب نے یہ شعر شاید اسی موقع محل کے لیے کہا تھا یا ہم نے اسے اسی موقع پر لاگو کر دیا ہے، اس لیے شاعر کسی حکمران کے ساتھ بھی کراچی مت جائیں۔ اس کے لیے وہ ریڈ زون ہے اور وہ بھی ایم کیو ایم کی۔

ایک خبر ہے کہ ہمارے مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز اب ایک دوسرے ملک میں ایک تقریب میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کریں گے۔ کیری صاحب پاکستان کے ادھر ادھر گھومتے پھر رہے ہیں لیکن وہ افغانستان کے حوالے سے اہم ترین ملک پاکستان نہیں آئے اور اب ہمارے نمایندے سے سر راہے کہیں ملاقات کریں گے۔ ہم اتنے بے وقعت ہیں نہیں جتنا ہم نے اپنے آپ کو بنا لیا ہے، افغان اب بھی وہی ہیں جو روس کے وقت موجود تھے، ان کی روایات بالکل وہی ہیں، اس لیے امریکا کسی غلط فہمی میں نہ رہے بلکہ زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ افغان اب پہلے سے کہیں زیادہ تجربہ کار ہو چکے ہیں اور ایک تمغہ سینے پر سجائے پھرتے ہیں جو انھوں نے خون سے خریدا ہے۔

افغان جنگ کے بعد روسی جرنیلوں نے تو اپنے تمغے ماسکو کے فٹ پاتھوں پر رکھ کر بیچ دیے تھے، خدا نہ کرے امریکی جرنیلوں پر یہ وقت آئے لیکن امریکا کو افغانستان سے بڑی فراست کے ساتھ معاملہ کرنا ہو گا۔ رعونت کے ساتھ نہیں، روس کی طرح ان کے پاس بھی افغانستان میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں اور امریکی سپاہ کی بددلی کی خبریں بھی موصول ہوتی رہتی ہیں۔ انسان اب بہت بدل گئے ہیں، تاریخ بھی نئی نئی کروٹیں لے رہی ہے، ہم اس دور میں امریکا کی غیر اعلانیہ کالونی ہیں اور اس کے ساتھ ہمارے بہت سارے مفادات وابستہ ہیں، افغانستان کا ملبہ ہم پر بھی پڑے گا، اس لیے ڈر کے مارے بھی امریکا سے عرض کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں بہت احتیاط کریں اسلحہ اور سپاہ روس کے پاس بھی بہت تھی۔

مقبول خبریں