القاہرہ
شاید ہی کوئی پاکستانی جماعت یا سیاست دان ایسا ہو جس نے فوج کی بھرپور اطاعت نہ کی ہو .
قاہرہ سے خبر نہیں، اطلاع آئی ہے کہ وہاں کی اسلامی حکومت کو برطرف کر دیا گیا ہے اور اس کے لیڈروں کو ظاہر ہے کہ جیل میں ڈال دیا گیا ہے یعنی وہ سب کچھ ہوا ہے جو کسی فوجی ''انقلاب'' میں ہوا کرتا ہے۔ فوجی انقلاب والی کتاب جس کا اصل نسخہ راولپنڈی پاکستان کے جی ایچ کیو میں محفوظ ہے اس کی نقول تمام مسلمان ملکوں کے فوجی سربراہوں کو بھجوائی جا چکی ہیں تا کہ انھیں دِقت نہ ہو اور وہ جلد از جلد فیصلے کرتے جائیں۔
عالمِ عرب کے ثقافتی سیاسی اور علمی مرکز قاہرہ میں جب مسیحی اور یہودی مشترکہ سامراج کی پسند کے خلاف حکومت قائم ہو گئی تو یہ طے تھا کہ وہ ختم کر دی جائے گی لیکن اس قدر جلدی کی توقع نہ تھی، معلوم ہوتا ہے کہ مرسی صاحب حالات اتنے خراب کر رہے تھے کہ انھیں فوری طور پر روکنا ضروری تھا چنانچہ روک دیا گیا۔ غیر مسلم سامراج نے بھی فوجی حکومت کے نفاذ کی طرح کی ایک کتاب اپنے پاس رکھ چھوڑی ہے اور وہ جب بھی کوئی مسلمان ملک گستاخی پر اترتا ہے تو اس کو فوراً سزا دینے کے تمام مناسب طریقے اس بائبل میں درج ہیں۔ مغربی سامراج جو کل تک مسلمانوں کے ملکوں پر براہ راست حکومت کر رہا تھا، اس نے اس زحمت سے نجات پانے کے لیے ان محکوم ملکوں میں دو طبقے پیدا کر دیے، ایک فوج اور دوسرے اشرافیہ۔ یہ دونوں اپنے اپنے مقام پر رہ کر سامراج کے مقاصد کی خدمت کرتے ہیں۔
برطانوی اور فرانسیسی سامراج جب مسلم دنیا سے باہر نکلا تو اس نے اس کی عملداری بعض شرائط کے تحت امریکا کے سپرد کر دی۔ ہم اپنے ہاں دیکھتے ہیں کہ برطانیہ نے اپنی اس بہت ہی مفید اور اہم کالونی کو امریکا کے سپرد کر دیا یہاں تک کہ فوج کا اسلحہ بھی رفتہ رفتہ امریکی ہو گیا اور ان ملکوں میں امریکا برطانیہ کی طرح ولائت بن گیا۔ تعلیم، کاروبار اور دوسری جدید ضروریات کے لیے امریکا کا رخ کیا جانے لگا اور اس محکوم قوم کا نیا لیڈر اور آئیڈیل امریکا بن گیا۔ امریکا ہر اس ازم اور نظریے کے خلاف ہے جو اس کی سامراجی پالیسیوں کو پسند نہیں کرتا۔ مسلمان ملکوں پر تو اس نے براہ راست قبضہ کر لیا لیکن روس کے اشتراکی نظریے پر اس نے طاقت نہیں حکمت عملی سے کام لیا۔ روسیوں نے اپنی حماقت کی وجہ سے اس کی تائید کی اور اس کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے۔ روسیوں نے مسلمان ملکوں کو وسط ایشیاء کی مسلمان ریاستیں سمجھ لیا اور وہ اسی پرانے زعم میں دریائے آمو کے دوسرے کنارے افغانستان پر چڑھ دوڑے۔
زمانہ بدل چکا تھا، آزادی پسند افغانوں نے روسی قبضہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس طرح بالآخر اشتراکیت اور سوویت یونین سب کا خاتمہ ہو گیا، یہ سب تاریخ کا گرد آلود حصہ بن گئے۔ روس سے فارغ ہونے کے بعد امریکی سامراج نے اپنی تمام تر سیاسی فراست اور حکمت عملی کا میدان مسلمان دنیا کو بنا لیا اور انھیں خود مختار اور آزاد ہونے کی اجازت نہ دی، الجزائر میں الیکشن ہوا اور امریکا کی ناپسندیدہ پارٹی کی حکومت بن گئی جس کا تختہ فوج نے الٹ دیا۔ اب مصر میں یہی کچھ ہوا ہے۔ ہم پاکستانی بارہا اس امریکی پالیسی کا نشانہ بن چکے ہیں اور اپنے شکاری کو خوب جانتے ہیں مگر ہم مسلمان عوام کی طاقت فوج کے ہاتھ میں رہے یا پھر اشرافیہ کے پاس جو فوراً ہی فوج کو سویلین حمائت فراہم کر دیتا ہے۔
شاید ہی کوئی پاکستانی جماعت یا سیاست دان ایسا ہو جس نے فوج کی بھرپور اطاعت نہ کی ہو جو کچھ پاکستان میں ہے کم و بیش یہی کچھ دوسرے مسلمان ملکوں میں بھی ہے اور امریکا فوج اور معززین کی مدد سے ان پر حکمران ہے، جب کوئی سیاسی جماعت بغاوت کی کوشش کرتی ہے اور کسی حد تک کامیاب ہو جاتی ہے تو امریکا ذرا سی دیر نہیں کرتا اسے خطرہ نہیں بننے دیتا اور ''گُربہ کُشتن روزِ اول'' والا پرانا طریقہ استعمال کرتا ہے اور اسے فوج کے ذریعہ فوری طور پر اور پھر اپنی تابعدار اشرافیہ کے ذریعہ فوج کے منصوبے کو جاری رکھتا ہے۔ یہی سب ہوتا رہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔ مسلمان دنیا کسی مرکزی قیادت سے محروم ہے۔ ہر مسلمان ملک ایک لیڈر ہے جو دوسرے بھائیوں سے برسرپیکار ہے اگر کسی مسلمان ملک کو صحیح اسلامی کردار کی مالک قیادت مل بھی گئی ہے تو اسے قدم قدم پر امریکی مزاحمت کا سامنا کر رہا ہے امریکا اسے سُکھ کا سانس نہیں لینے دیتا۔
عالم اسلام میں دو ملک بلاشبہ سب سے اہم ہیں مصر اور پاکستان۔ مصر نے اپنی علمی و ادبی اور تہذیبی برتری کے ساتھ عرب دنیا میں خاص مقام بنا لیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی عرب دنیا میں تو اخبارات بھی قاہرہ کے پڑھے جاتے ہیں۔ قاہرہ میرا خوابوں کا شہر رہا چنانچہ میں بچث کر کے اس کے سفر کے قابل ہو گیا۔ اور قاہرہ کے ایک عام سے ہوٹل میں ٹھہر گیا۔ ظاہر ہے کہ اس صحافی نے اپنے سفارت خانے کا راستہ تلاش کیا اور وہاں جا پہنچا، ان دنوں سید احمد سعید کرمانی ہمارے سفیر تھے، یہ مشہور سیاستدان ایک صحافی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فوراً ہی اس گھٹیا سے ہوٹل سے میرا سامان اٹھا کر اپنے ہاں لے گئے، ان کی قیام گاہ سر آغا خان کا بنگلہ تھی جو انھوں نے پاکستان کو فروخت کی تھی۔ دریائے نیل کے کنارے تھی لیکن صدر ناصر نے بیچ میں سڑک بنا کر قاہرہ کے اس پوش علاقے کو دریا سے دور کر دیا۔
ہمارے سفیر نے اپنے شعبہ اطلاعات کے سربراہ کو بلا کر کہا کہ ہمارے ہاں کوئی پاکستانی صحافی شاذ و نادر ہی آتا ہے اس لیے ان کی قاہرہ سے ملاقات کرائیں۔ میں نے ہفتہ دو ہفتہ کے اس مفت اور پر تکلف قیام میں سرکاری خرچ پر قاہرہ کے علمی مراکز دیکھے اور اس 'عرب دارالحکومت' کی خوب سیر کی۔ اخوان المسلمین تو تب بھی تھے اور قابل ذکر تھے لیکن ابتدائی حالت میں مگر قاہرہ شہر ایک زندہ شہر تھا، پر ہجوم اور علوم و فنون کا مرکز۔ سیاسی بحثوں اور نائٹ کلبوں کا شہر جس کے ساتھ ہی ہزاروں برس پرانی فرعونی تہذیب جڑی تھی اور عمر بن عاص کی کامیاب حکومت کے کارنامے بھی اس کے خزانے میں محفوظ تھے، ان سب نے اس شہر کو عرب دنیا کا مرکز بنا دیا۔ مشہور ہے کہ قرآن مکہ و مدینہ میں نازل ہوا، استنبول میں لکھا اور چھاپا گیا اور قاہرہ میں پڑھا گیا۔ برصغیر کے علماء کا مطالبہ ہے کہ اس میں یہ اضافہ بھی کیا جائے کہ قرآن کو برصغیر میں سمجھا گیا۔ میں اپنے اس سفر میں جامعہ ازہر کے اساتذہ کی خدمت میں بھی حاضر رہا لیکن وہ اپنی علوم کے فہم میں بس واجبی سے تھے۔ بہر کیف قاہرہ ہر حال میں قاہرہ ہے لیکن اپنے آپ کا ایک بالکل نئے ملک پاکستان سے تقابل بھی کرتا ہے مگر اپنی برتری پر مُصر ہے۔ شاید اسی لیے قاہرہ کے حکمران شہزادہ فاروق نے پاکستان سے خُندک کھا کر کہا تھا کہ اسلام تو 1947ء میں نازل ہوا ہے۔
اب قاہرہ ایک بار اپنی ذہنی آزادی سے محروم ہے لیکن وہ اس کا صدیوں سے عادی ہے، پھر بھی عربوں کے علمی و ادبی میدانوں کا قائد ہے ،کوئی امریکا اس سے یہ قیادت نہیں چھین سکتا، اس شہر میں اخوان کا وجود ہی قاہرہ کی برتری کی ایک مضبوط علامت ہے جس کے خلاف آج کی دنیا برسر پیکار ہے اور سچے نظریات زندہ رہتے ہیں۔