طوفانی بارشیں منصوبہ بندی کی ضرورت

ملک بھر میں طوفانی اور موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سیلابی ریلوں نے پنجاب، خیبر پختو نخوا، اور...


Editorial August 03, 2013
سیلابی ریلوں نے پنجاب، خیبر پختو نخوا، اور بلوچستان میں تباہی مچا دی، ندی نالوں میں طغیانی کے پیش نظر لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ملک بھر میں طوفانی اور موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سیلابی ریلوں نے پنجاب، خیبر پختو نخوا، اور بلوچستان میں تباہی مچا دی، ندی نالوں میں طغیانی کے پیش نظر لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، متعدد افراد جاں بحق جب کہ سیکڑوں زخمی ہو گئے، چترال، باغ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ندی نالے بپھر گئے، پشاور میں کئی علاقے زیر آب آ چکے ہیں، کراچی سمیت سندھ میں بھی زبردست بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم نے صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ابر تو رب کی رحمت سے برستے ہیں پیاسی زمین سیراب ہوتی ہے، ہر طرف ہریالی ہوتی ہے لیکن وطن عزیز میں بارشوں سے ہونے والی تباہی و بربادی کی خبریں پڑھ کر دل دہل سا جاتا ہے، شدید بارشوں سے نمٹنے کے لیے کوئی پلاننگ نہ ہونے کے سبب صورتحال ہر برس انتہائی گمبھیر ہو جاتی ہے۔ ملکی معیشت کو وسیع پیمانے پر نقصان ہوتا ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کا اندازہ ملک بھر سے ایکسپریس کے نمائندگان کی مرتب کردہ رپورٹس سے لگایا جا سکتا ہے، مختلف شہروں میں طوفانی بارش کے دوران چھتیں گرنے، پہاڑی علاقوں میں تودے گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہنے سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے میگا سٹی کراچی میں بھی ابرکھل کر برسا، کئی نشیبی علاقے زیر آب گئے، بچوں سمیت بعض افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے اور حسب دستور مون سون کی پہلی بارش کے ساتھ ہی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے 102 فیڈرز ٹرپ کر گئے، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرینوں اور فضائی پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے، شہروں کی شاہراہوں پر پانی کھڑا ہونے سے شدید ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو گھنٹوں اذیت برداشت کرنی پڑی۔ انتظامیہ کے ندی نالوں کی صفائی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ یہ تو ایک دن کی بارش کا احوال ہے۔ چترال میں سیلابی ریلے میں پانچ افراد ڈوب گئے، سیلاب کے باعث سب سے زیادہ تباہی چترال میں ہوئی 60 گھر ملیا میٹ، چترال سے بونی کا رابطہ منقطع ہو گیا، سیکڑوں مویشی ہلاک ہو گئے ۔

لاہور، گجرات، سیالکوٹ، اسلام آباد، راولپنڈی، کھاریاں، مری، سوات، مینگورہ سمیت متعدد شہروں میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی، مختلف سڑکیں اورگلیاں کئی فٹ پانی ڈوب گئیں، سڑکوں گلیوں میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید بارشوں کے باعث دریائوں میں پانی کی سطح میں اضافہ بھی آنیوالے خطرات کا پیش خیمہ ہے، دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ، نالہ ڈیک بھی بپھر نے لگا پانی کا بہائو 28 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔ ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا بہائو1 لاکھ ، 37 ہزار 320 کیوسک تک پہنچ گیا۔ پانی کی سطح میں اضافہ کے پیش نظر دریائے چناب کے ارد گرد واقع دیہی علاقوں کے رہائشی خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ پسرور کے قریب بہنے والے نالہ ڈیک میں بھی مسلسل بارشوں کے باعث پانی کا بہائو 28 کیوسک تک پہنچ گیا ہے، نالہ ڈیک کا پانی پسرور کے قریبی دیہات میں داخل ہو گیا ہے، تحصیل پسرور کے دیہات جبوکے، نوادے اور چک مچھانہ میں نالہ ڈیک کا پانی دوبارہ داخل ہونے کی اطلاع ہے۔

خیبر ایجنسی میں موسلادھار بارش سے حیات آباد اور ناصر باغ کے برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی، اور پانی حیات آباد میں کئی گھروں، مارکیٹوں میں داخل ہو گیا اور کئی سڑکیں زیر آب آ گئیں۔ پشاور کے ورسک روڈ پر سیلاب آنے سے بابو گڑھی، خوشحال باغ اور دیگر متعدد دیہات زیر آب آ گئے جب کہ لوگوں کو نکالنے کے لیے جانے والی فلاحی ادارے کی گاڑی ڈوب گئی۔ دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں کے باعث دریائے تلی میں 20 ہزاراور دریائے ناڑی میں 50 ہزارکیوسک پانی کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، سبی تلی شاہراہ مختلف مقامات پر بہہ گئی۔ پسرور کے نالہ ڈیک میں طغیانی سے 12دیہات کا راستہ بند ہو گیا۔ ادھر دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ، چشمہ،گڈو اور سکھر بیراج۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب اور راوی میں بھمبر، بھندر، پالکو، ہسکری، دیگ، بسنتار، دولتی اور بین کے مقامات پر اور دریائے کابل میں ڈی جی خان، مشرقی بلوچستان کے نالوں میں آئندہ دو روز کے دوران درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

پشاور مرکز کے مطابق دریائے پنجکوڑہ میں دیر، دریائے سوات میں چارسدہ روڈ پر خیالی کے مقام اور دریائے ادے زئی میں ادے زئی پل کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ گو کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج، ایف سی اور لیویز کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے بھی صورتحال کا نوٹس لیا ہے لیکن حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو ہم صرف ٹائم پاس ٹائپ پالیسیوں پر چل رہے ہیں۔ بارشوں کے نتیجے میں کروڑوں کیوسک پانی قدرت ہمیں وافر مقدار میں فراہم کرتی ہے لیکن ہم بحیثیت قوم نفاق اور تفریق کا شکار ہیں، ہم کالا باغ ڈیم پر لڑتے جھگڑتے رہے اور قومی اتفاق رائے پیدا نہ کر سکے۔ ملک توانائی کے بحران کا شکار ہو چکا ہے سرکلر ڈیٹ کے اربوں روپے ادا کرنے کے باوجود لوڈ شیڈنگ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ہم انتہائی مہنگے داموں فی یونٹ بجلی نجی کمپنیوں سے حاصل کر رہے ہیں، ہمیں بہت سے ڈیموں کی آج ضرورت ہے۔

دنیا میں سستی ترین بجلی پانی سے ہی پیدا کی جاتی ہے اگر ہم نے پانی کو ذخیرہ کرنے کی اہمیت کا تسلیم کیا ہوتا کوئی پلاننگ کی ہوتی تو آج توانائی کا بحران بھگت نہ رہے ہوتے، بھارت تو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان آنیوالے دریائوں سے سیکڑوں میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ اپنی صورت کو بگاڑ لیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارشوں کا سلسلہ جاری رہیگا اب ضرورت اس بات کی ہے ملکی سطح پر بارشوں سے ہونے والے ہولناک نقصانات کا تدارک کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، ڈیموں کی تعمیر کے تنازعات کا قومی مشاورت سے کوئی حل ڈھونڈا جائے، کروڑوں کیوسک سیلابی پانی کے چاروں صوبوں میں ذخیرہ کرنے کے منصوے بنائے جائیں، چھوٹے ڈیمز کی طرف توجہ دی جائے۔ اور آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کا کلچر مستحکم کیا جائے۔ تب ہی بارشیں زحمت کی بجائے رحمت ثابت ہوں گی۔