دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم فیصلے

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے.


Editorial August 14, 2013
دہشت گرد ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں،فوٹو:فائل

حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جدید بنیادوں پر مشترکہ انٹیلی جنس سیکریٹریٹ قائم کرنیکا اعلان کر دیا ہے، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی سمیت تمام انٹیلی جنس اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہو گی۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نواز شریف نے وزارت داخلہ کا دورہ کیا اور اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے' دہشت گرد ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں' ان کا خاتمہ کیے بغیر ترقی و خوشحالی نہیں آئے گی' پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرتے ہوئے ان کی استعداد کار کو بڑھایا جائے گا۔

ملک کو دہشت گردی، سرحدی خلاف ورزیوں، انارکی، سیاسی افراط وتفریط، اسٹریٹ کرائم اور گردن تک قرضوں میں جکڑی معیشت، غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کے حوالوں سے جو اعصاب شکن چیلنجز درپیش ہیں ان کے پیش نظر مشترکہ انٹیلی جنس میکنزم کی جتنی ضرورت آج ملک و قوم کو ہے اس پہلے اس کی قدر و قیمت کسی حکومت نے محسوس نہیں کی، یہی بجا شکایت وفاقی وزیر داخلہ نے کی کہ بھارت کو نیشنل سیکیورٹی پالیسی بنانے میں 20 سال لگے، نائن الیون کے بعد پاکستان کو جنگ میں جھونک دیا گیا، مشرف کے آٹھ سالہ دور میں لوگ ذبح ہوتے رہے لیکن 13 سال ہو گئے کسی نے نیشنل سیکیورٹی کا نام تک نہیں لیا۔ پھر بھی یہ وقت ادراک حقیقت کا ثابت ہوا اور حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایک موثر انٹیلی جنس نظام کے قیام کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ نہ صرف ملکی سالمیت اور قومی یک جہتی و عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے بلکہ عالمی صورتحال، سیکورٹی کے بدلتے تصورات، عالمی طاقتوں کی جنگ زرگری، ان کے قومی وسائل پر مکمل تصرف کے لیے شورش، بغاوت اور داخلی خلفشار کو مہمیز دینے کی در پردہ جو کارروائیاں جاری ہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی سیکیورٹی پالیسی کی تیاری کی سمت پیش رفت ایک مستحسن قدم ہے۔

کیونکہ معاملہ داخلی سیاسی رقابتوں یا قومی سیاسی پارٹیز میں اتفاق رائے اور قومی ایشوز پر یکساں موقف رکھنے کے فقدان تک محدود نہیں ہے، اگرچہ ملک پر لاحق خطرات کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یکساں ایجنڈے پر عمل درآمدایک بنیادی شرط ہے جو سیاست دانوں اور ارباب حرب کو خود پر لاگو کرنی چاہیے تھی، دشمن چاہے وہ طالبان ہوں، کالعدم تنظیمیںہوں، مختلف ملیشیا یا مجرمانہ مافیاز یا القاعدہ کی جہادی، مسلکی، اہدافی اور اپنے خود ساختہ نظام کے مسلط کرنے کی جنگ کا ہو، قومی کاز یہی ہونا چاہیے کہ عوام، سیاست دان، حکومت اور فوج شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان تمام چیلنجز کا سامنا کریں اور ملک کو امن، جمہوریت اور انصاف و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے مشن کی تکمیل کریں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی اسی سمت اشارہ کیا ہے کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجزکا سامنا ہے، دہشت گردی کے آگے جھکنا کوئی حل نہیں، ہمیں کسی بھی حل پر قومی اتفاق رائے پیدا کر کے اس پر یکسو ہو کر جلد عمل کرنا ہو گا۔

جب تک قوم خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد نہیں ہوتی، ان پر قابو پانا مشکل ہے۔بلاشبہ یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سوچ ایک ہو، ایجنڈا ایک ہو اور عوام کو اس سارے عمل میں ایک بنیادی حقیقت کے طور پر شامل رکھا جائے، کیونکہ ملکی دفاع، سیکیورٹی، جمہوریت، اقتصادی ترقی، سیاسی استحکام، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تصور ملک کے کروڑوں عوام سے مشروط ہے، ریاستی تنظیم کا بنیادی مقصد جغرافیائی وحدت، شہریوں کا تحفظ اور ان کی اجتماعی فلاح و بہبود ہے، داخلی اقتصادی و معاشی استحکام ہو گا تو کوئی مادر وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کریگا۔ اس وقت دشمن کئی سر والے ہیں، عفریت نما ہیں، ان کے اہداف میں پاکستان کے جمہوری نظام کا خاتمہ اور امارت کا قیام ہے۔ اس لیے قومی سلامتی کی پالیسی عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جب کہ متحارب گروہوں، ٹارگٹ کلرز، اور سفاک دشمنوں سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ کا تیز ترین نظام جلد سے جلد قائم ہونا لازمی ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی کی تشکیل آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ قومی قیادت کو اس پالیسی کے حوالے سے اس ماہ کے آخر میں اعتماد میں لیا جائے گا اور جلد ہی ڈورن حملوں کے حوالے سے پالیسی کا اعلان بھی کیا جائے گا ۔ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی پالیسی کا اعلان کل جماعتی کانفرنس کے بعد کیا جائے گا۔ پنجاب ہائوس میں قومی سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 13 سال سے ملک میں اقتدار پر براجمان حکومتوں نے آج تک کوئی قومی سیکیورٹی پالیسی نہیں اپنائی تاہم اب موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے ہمیں سخت فیصلے بھی کرنا ہوں گے۔ اسلام آباد میں انٹیلی جنس سیکریٹریٹ بنایا جائے گا ، اس سیکریٹریٹ کو جدید و سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا، ہمیں اپنا انٹیلی جنس لیول بڑھانا ہو گا۔

ان کے بعض انکشافات حیرت ناک ہیں، مثلاً انھوں نے بارہ کہو میں دہشت گرد کی ہلاکت کے بارے میں انکشاف کیا کہ یہ 8 رکنی گروہ تھا جو پڑھا لکھا اور کلین شیو لڑکوں اور ایک لڑکی پر مشتمل تھا جن کے پاس لیپ ٹاپ کے علاوہ کیمروں والی عینکیں بھی تھیں جو گزرتے ہوئے ٹارگٹ کی تصاویر بھی بنا لیتی تھیں، دہشت گرد انٹیلی جنس اداروں سے بہت آگے چلے گئے ہیں، ایسے لوگوں سے نمٹنا کوئی مذاق نہیں۔ یہ اس درد انگیز حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ طالبان اور دیگر داخلی مجرمانہ گروہوں کے خلاف اعلان جنگ ہونا چاہیے۔ کراچی اور بلوچستان میں انسانیت اشکبار ہے، انسان گاجرمولی کی طرح کاٹے جا رہے ہیں، کائونٹر ٹیررازم ریپڈ فورس بنائی جا رہی ہے تو اسے موثر ترین فورس ثابت بھی ہونا چاہیے۔

یہ لڑائی بھی بلاشبہ صرف پولیس کے ذریعے لڑی جا سکتی ہے، اس لیے رینجرز اور دوسری فورسز کو بھی یکجا کیا جائے، حکومت کا یہ بھی صائب فیصلہ ہے جس کے تحت کل جماعتی کانفرنس میں چار سوالات رکھے جائیں گے کہ دہشت گردی کے خلاف مذاکرات کیے جائیں یا مضبوط آپریشن کیا جائے یا موجودہ پالیسی جاری رکھی جائے یا ملٹری آپریشن کیا جائے؟ جس بات پر سیاسی جماعتوں میں اتفاق ہوا اس پر ہر صور ت عمل درآمد کیا جائے گا، وزیر داخلہ کے مطابق ہمارا دشمن ایک نہیں جس کے خلاف لڑنا ہے، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مختلف گروپ برسر پیکار ہیں۔ اب تک دہشت گردی کی خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی اپر ہینڈ نظر نہیں آتا یہ تشویش ناک ہزیمت کے مترادف ہو گا۔ دشمن سے سائنسی بنیادوں اور عسکریت کے جدید ترین انٹیلی جنس اصولوں اور طریقہ کار کے تحت لڑنے کی ضرورت ہے۔ کنفیوشس کا قول ہے کہ ''اگر تم انتقام پر اتر آئے ہو تو دو قبریں بنا لو'' اس لیے طالبان یا دیگر انتہا پسند جنونی قوتوں سے نمٹنے میں استقامت اور تدبر اصل ہتھیار ہے۔ اس نازک مرحلے میں کائونٹر ٹیررازم فورس کومرکز اور بعد ازاں صوبوں تک وسعت دینا اہم فیصلہ ہے۔