ڈالر کی قدر میں اضافہ اور معیشت

روپے کی گرتی ہوئی قدرسے پاکستانی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں


Editorial September 20, 2013
روپے کی قدر میں کمی کے باعث یہ قرضے پھر بڑھ جاتے ہیں۔فوٹو:آئی این پی.فائل

ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے اور روپے کی گرتی ہوئی قدرسے پاکستانی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ درآمد کنند گان نے اس صورتحال سے گھبرا کر اربوں روپے کے درآمدی آرڈرز منسوخ اور بڑی تعداد میں ڈالرز کی خریداری شروع کر دی ہے جس سے مارکیٹ میں ڈالر کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ آیندہ تین ہفتوں تک جاری رہے گا ۔ چند ہی روز میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث یہ 107 روپے کا ہو گیا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے حکومتی قرضوں کے بوجھ میں خود بخود اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

حکومت اربوں روپے قرضے اور سود کی مد میں ادا کرتی ہے مگر روپے کی قدر میں کمی کے باعث یہ قرضے پھر بڑھ جاتے ہیں اور ملکی معیشت میں جو بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے وہ پھر نا امیدی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہونا لازمی امر ہے۔حکومت کو درآمدی اشیا پر بھی پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال سے حکومت کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں میں بھی عدم توازن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آخر ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی بحران پیدا کرکے قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اگر کوئی مافیا اپنے دولت کے ذخائر میں مزید اضافے کے لیے ڈالر کا مصنوعی بحران پیدا کر رہا ہے تو یہ تشویش کی بات ہے حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینا چاہیے۔ اگر ڈالر کی قیمت یونہی بڑھتی رہی جیسا کہ اس کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تو اس سے حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہونے سے ان کی تکمیل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے ساتویں ایس ایم ایز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کی تردید کی کہ ملک میں ڈالرائزیشن نہیں ہو رہی' دنیا میں مختلف ممالک کی کرنسی کی قدر میں10 سے 12 فیصد کمی ہوئی ہے جب کہ پاکستانی روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ مارکیٹ فورسز کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھی ہے۔

اس وقت ملکی معاشی صورتحال کو بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا' زرمبادلہ کے ذخائر میں خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں دبائو کے باعث حکومت بیرونی ادائیگیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ غیر ملکی قرضے وقتی سہارا تو ثابت ہو سکتے ہیں مگر جب تک ملکی معیشت کی سمت کو درست نہیں کیا جائے گا معاملات قابو میں نہیں آ سکتے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ بہتر ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرے اور چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو فروغ دے ملکی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لائے تاکہ ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہو سکے۔