اقتصادی بریک تھرو ایک آبگینہ رنگ خواب
سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیپرا کی سفارش کے بغیر ...
برس ہا برس سے ہر محب وطن پاکستانی کی یہ دیرینہ خواہش اور دلی تمنا رہی ہے کہ ملکی سالمیت، جمہوریت اور قومی خود مختاری پر کوئی آنچ نہ آئے۔ خطے میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو اور داخلی امن بحال ہو جائے۔ ہر وہ ہم وطن جس کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اس بات کے انتظار میں ہے کہ اسے مکمل معاشی آسودگی مل جائے۔ ہماری جوان نسلیں ایک آزاد، باوقار اور مستحکم معاشرے کی نمایندگی کرتے ہوئے عالمی برادری کی صف میں شامل ہوں جب کہ ایک نظریاتی اور کثیر القومی ایٹمی اسلامی ملک کی حیثیت میں پاکستان کے مفادات پر کسی کو حملہ کرنے کی جرات نہ ہو اور قومی امور میں فیصلے عوام کے جمہوری و معاشی حقوق کی روشنی میں کیے جائیں۔
یہ وہ آبگینہ رنگ خواب ہیں جنھیں اس ملک کے کروڑوں عوام شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق عوام کے معاشی شب و روز ہنوز اندوہناک ہیں، وہ ریلیف تو درکنار دو وقت کی روٹی اور امن و انصاف کو ترستے ہیں۔ ہر طرف موت رقصاں ہے، ٹارگٹ کلنگ نے خوف کا سماں باندھ دیا ہے۔ اندھیرے سانپوں کی طرح ڈستے ہیں۔ ڈرون حملوں اور انتہا پسندی کی وارداتوں کے باعث معاشی ترقی رکی ہوئی ہے۔ ادھر سیاسی رہنمائوں نے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو سول نافرمانی پر مجبورکر رہی ہے۔
اس گمبھیر صورتحال میں سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیپرا کی سفارش کے بغیر حکومت از خود بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کرنے کی مجازنہیں، نوٹیفکیشن دائرہ اختیار کے باہر ہوا تو اس کو کالعدم قرار دیدیا جائے گا، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے کیس کو سب سے پہلے سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غریبوں کی قیمت پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، نادر شاہی نظام نہیں چلنے دیں گے، عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے مگر ہمارے ہاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، ادھر سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں شدید کمی کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیکر اس کی وجوہات بتانے سے معذرت کر دی۔ کمیٹی کے سامنے ان کا یہ انکشاف کسی ٹائم بم سے کم نہیں کہ یومیہ 25 ملین کا غیر ملکی زر مبادلہ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور کوئٹہ سے بیرون ملک اسمگل ہو رہا ہے جس کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے سے ایم او یو پر دستخط کیے جا رہے ہیں تا کہ وہ اسے کنٹرول کرے۔ کمیٹی کی متفقہ رائے تھی کہ تین سال قبل ڈالر مافیا کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے سخت کارروائی کی گئی تو ڈالرکی قیمت میںاستحکام قائم رہا لیکن موجودہ حکومت کی دیر سے کی گئی مداخلت کی وجہ سے ڈالرائزیشن کے ذریعے کھربوں روپے صرف تین گھنٹوں میںکما لیے گئے، ڈالرکی قیمت میں کمی کے باوجود مہنگی ہونے والی اشیاء بدستور پرانے نرخوں پر فروخت ہو رہی ہیں جس سے قوم ذہنی مریض بن گئی ہے۔
ادھر روس نے پاکستان سے تمام زرعی مصنوعات کی درآمد پر یکم اکتوبر سے غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد روس کی 150 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی برآمدی منڈی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین کے مطابق روس پاکستانی آلو اور کینو کی بڑی منڈی ہے روس کو سالانہ 150 سے 170 ملین ڈالر کا کینو اور آلو برآمد کیا جاتا ہے، پابندی لگنے سے پاکستانی پھل اور سبزیوں کی 625 ملین ڈالر کی برآمدات میں 150 سے 170 ملین ڈالر کمی کا سامنا ہو گا۔ ملک بھر میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے جب کہ ٹرانسپورٹروں نے مختلف روٹس پر کرائے از خود بڑھا دیے جس پر مسافروںکے ساتھ جھگڑے کے واقعات بھی پیش آئے۔ کراچی سمیت دیگر ٹرانسپورٹ تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرینگے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے 20 کلو آٹے کے تھیلے پر32 روپے تک اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
عام دکانداروں، پرچون فروشوں، سبزی اور پھل بیچنے والوں نے بھی من مانے نرخ لگانے شروع کر دیے، لاہور میں عوامی رکشہ یونین نے پریس کلب پر مظاہرہ کیا، آل پاکستان ٹرک ٹرالر مو ٹر اونرز ایسوسی ایشن کے تحت گڈز ٹرانسپورٹرز نے سبزی منڈی راوی روڈ کو تمام ٹریفک کے لیے بند کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا' مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری واپس لے ورنہ احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائیگا۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی بھی جعلی نکلی۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق اوگرا نے ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے اضافے کی سفارش کی، وزارت خزانہ نے خود ہی قیمت 6 روپے 69 پیسے فی لیٹر بڑھا دی اور پھر 2 روپے سبسڈی ظاہر کر کے قیمتوں میں 4 روپے 69 پیسے اضافہ کر دیا۔ اگر اوگرا کی سفارش پر سبسڈی دی جاتی تو ڈیزل کی قیمت میں صرف 63 پیسے کا اضافہ ہوتا۔ حکومت نے بھی دعویٰ کر دیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر 2 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، جب کہ لیوی میں کمی کے ذریعے سبسڈی دینے کا دعویٰ محض اعداد و شمار کا ہیر پھیر نکلا ۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت لیوی کی مد میں ماہانہ 10 سے 12 ارب روپے کما رہی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت سے عوام کو اگر توقعات کچھ زیادہ ہی ہیں تو اس کا سبب ان پر گزرنے والی وہ شب ہجراں ہے جو جمہوریت ایک بہترین انتقام ہے کے نعرے سنتے ہوئے گزری۔ عوام انتخابی عمل سے بیزار تھے، ووٹرز کا ٹرن آئوٹ زوال پذیر تھا تاہم جمہوریت سے انمٹ کمٹمنٹ کے باعث عوام نے نئے انتخابات میں نواز حکومت کو تیسری بار اقتدار دلا دیا، یوں اس حکومت سے عوامی امیدوں اور خواہشات کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری نظام کو بہر قیمت عوام کو ریلیف مہیا کرنا ہو گا اسی سے سماجی اور اقتصادی تبدیلی کا عمل شروع ہو گا، حکمران عوام سے جڑے رہیں تب ہی جمہوریت کامیاب رہے گی، اربابِ اختیار احساس کریں کہ ملکی تاریخ کی بدترین لوڈ شیڈنگ ہوئی، بدامنی، بیروزگاری، دہشت گردی کا تسلسل، ٹارگٹ کلنگ اور اسلحہ کا وحشیانہ کلچر جمہوری عمل سے شکست نہیں کھا سکا۔
یہ بازی اب پلٹنی چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ بلند بانگ دعوئوں کے باوجود قوم معاشی ریلیف کے بند دروازے پر کھڑی ہے۔ امن، روزگار اور مستحکم اقتصادی صورتحال کا تصوراتی سفینہ کسی صورت غیر ملکی قرضوں کے خوش نما اور دلفریب جال سے نکل کر خوشحالی، خود کفالت، داخلی وسائل پر انحصار اور معاشی اطمینان کے ساحل پر لنگر انداز ہوتا نظر نہیں آتا۔ افراط زر، ڈالر کی بالادستی، بجلی، گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ، قتل و غارت گری اور بجلی کی بندش سے اقتصادی بریک تھرو کی کوئی کرن نہیں پھوٹتی۔ قوم یہ تقابل تو کر سکے کہ کس حکومت نے اس کے درد کے درماں کا کبھی سوچا تھا۔ ایسا کیوں ہے؟ حکمرانوں پر اس سوال کا جواب ایک قرض ہے۔