دہشت گردوں کے انٹرنیٹ رابطوں کی بندش

ذرایع نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ان سروسز کی معطلی کی درخواست براہ راست پی ٹی اے سے نہیں کی جاسکتی۔


Editorial October 04, 2013
بلاشبہ ماضی میں بھی دہشت گردوں کا مواصلاتی ناطقہ بند کرنے کی کئی بار کوششیں کی گئیں جو شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنیں۔ فوٹو: فائل

حکومت سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے سوشل نیٹ ورک پر استعمال ہونے والے وائس میسنجرز اور وائس چیٹ ''ٹینگو، واٹز اپ ، سکائپ اور وائبر'' پر3 ماہ کی پابندی کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے جمعرات کو وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے قائم وزیراعلیٰ ہائوس میں کمیٹی کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ حساس اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے موبائل فون کے بجائے مذکورہ نظام استعمال کرنا شروع کیا ہے جس تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی نہیں ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رابطہ کرکے صوبے بھر میں غیر قانونی سمز کی بندش کے لیے پی ٹی اے سے اپیل کرے گی ۔

حقیقت یہ ہے کہ سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں اور شہروں کو دہشت گردی کی جس عذاب انگیز صورتحال کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے اس کے پیش نظر دہشت گردوں کے مقامی اوربین الاقوامی رابطوں کو روکنے کی ہر کوشش مستحسن کہی جاسکتی ہے تاہم اس عمل میں عوام اور انٹرنیٹ کی مختلف سہولتوں سے مستفید ہونے والے کروڑوں صارفین کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے جب کہ تاجربرادری بالخصوص پاکستانی مصنوعات ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں نے بھی سندھ حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ادھر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ذرایع نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ان سروسز کی معطلی کی درخواست براہ راست پی ٹی اے سے نہیں کی جاسکتی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سکائپ، وائبر اور ٹینگو بند کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، درخواست ملنے پر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔جب کہ وہ ذاتی طور پر اس پابندی کے حق میں نہیں۔

بلاشبہ ماضی میں بھی دہشت گردوں کا مواصلاتی ناطقہ بند کرنے کی کئی بار کوششیں کی گئیں جو شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنیں ، علاوہ ازیں موبائل فون بند کرنے اور یو ٹیوب سمیت دیگر ویب سائٹس کی سرکاری سطح پر بندش کا قومی اور عالمی سطح پر خیر مقدم نہیں کیا گیا بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یوٹیوب کے ساتھ ساتھ بیس ہزار دیگر ویب سائٹس کوبھی بلاک کیا گیا ہے۔عالمی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق پاکستان انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق درجہ بندی میں 2012 کے مقابلے میں 2013 میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔پاکستان ان 34 ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے منفی رجحان پایا گیا ہے۔

بعض ماہرین کے نزدیک ان مفت ویب سائٹس کی بندش صرف سندھ تک محدود نہیں رکھی جاسکتی بلکہ اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا ۔تاہم سندھ حکومت کا استدلال بھی قابل غور ہے کہ اس کے بغیر دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑناممکن نہیں رہے گا، چنانچہ اصل کام تو وفاقی وزارت داخلہ ،سندھ حکومت اور پی ٹی اے کے حکام میں اتفاق رائے کا اور لاکھوں غیر قانونی سموں پر پابندی ہے۔ دہشت گردوں کو ان ویب سائٹس سے فائدہ اٹھانے سے روکنا قومی سلامتی کے لیے جہاں ناگزیر ہے وہاں انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردوں،ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کی بین الصوبائی روپوشی اور ملک سے فرار ہونے کے راستے بند کرنے کے دیگر ذرایع بھی تلاش کرنے چاہئیں، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ عام شہری ان مجوزہ اقدامات کا نشانہ نہ بنے،یعنی 'سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے' والی حکمت عملی اس کا واحد حل ہے۔