غریبوں کے نشیمن پر مزید بجلی نہ گرائیے

توانائی کے بحران کا شکار ملک میں اقتصادی ومعاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ،صنعتیں وکارخانے بند ہیں...


Editorial October 23, 2013
۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: توانائی کے بحران کا شکار ملک میں اقتصادی ومعاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ،صنعتیں وکارخانے بند ہیں لاکھوں مزدور بے کار اور بے روزگار ہیں ، جس کے باعث عوام کے ذرائع آمدن محدود اور قلیل ہوتے جا رہے ہیں اور انھیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ چکے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود عوام کے ووٹوں کی اکثریت سے منتخب حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی خاطر بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا جسے سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا ۔لیکن حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لے کر نیپرا کے ذریعے ٹیرف میں اضافہ کردیا ۔

اسی تناظر میں سپریم کورٹ نے انتہائی صائب رائے دی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اہم ترین معاملہ ہے، سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرعوام ہیں، نیپرا انھیںسنے بغیرصرف حکومت کے کہنے پرٹیرف میںاضافہ کیسے کرسکتا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ اضافے سے براہ راست متاثرہ فریق عوام ہی ہیں نہ کہ خواص ،امراء یا وزراء۔ اسی حوالے سے جماعت ِ اسلامی کے امیرسید منورحسن نے کہا ہے کہبجلی قیمتوں میں عملاً 8 روپے یونٹ اضافہ کیاگیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں بجلی کی قیمتوں کا براہ راست اثرصارفین کی جیپ پر پڑتا ہے، کیا پانچ افراد کی فیملی پر مشتمل ایک کنبہ فی یونٹ آٹھ تا چودہ روپے بے تحاشہ اضافے والا بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد اس قابل رہے گا کہ اپنے گھر کے ماہانہ اخراجا۔ت چلا سکے ۔

نجی پاور کمپنیوں کی منافعے کی ہوس کی کوئی حد نہیں اور یہ ہوس عوام کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لے گی ۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت درست کہا ہے کہ حکومت لائن لاسزکا سارا بوجھ بھی غریب صارفین پرڈال رہی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ چوری کرنے والوں اور بل دینے والوںکو ایک ہی قیمت پربجلی فروخت کی جائے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عوامی حکومت عوام کے دکھوں اور مصائب میں اضافہ کرنے کی بجائے اس میں کمی کا سوچے اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھے ۔