امن کی خواہش بلبلہ ثابت نہ ہو

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کا سلسلہ نہ رکنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔


Editorial October 23, 2013
مقبوضہ جموں کشمیرمیں لائن آف کنٹرول پرمزید فوج بھیجی جا رہی ہے، بھارتی وزیر داخلہ فوٹو:فائل

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کا سلسلہ نہ رکنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی جب بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے نوازشریف کی ملاقات اقوام متحدہ کے اجلاس کے بعد متوقع تھی تو نہ صرف سرحدی کشیدگی میں اضافہ کردیا گیا تھا بلکہ دونوں جانب خاصا جانی ومالی نقصان بھی ہوا تھا اور ایک ایسا وقت آیا تھا کہ اس ملاقات کو ملتوی کرنے کے لیے شدید دبائو تھا لیکن دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے تدبر اور فہم وفراست کا ثبوت دیتے ہوئے امن کے قیام کے لیے ملاقات کر کے بریک تھرو کیا۔

منگل کوکوٹلی میں نکیال سیکٹرکے علاقوںمیںبھارتی فوج صبح سے ہی وقفے وقفے سے فائرنگ اورگولاباری کرتی رہی جس کی وجہ سے دتوٹ کے علاقے میں گولہ باری سے ایک خاتون زخمی ہوئی اورلوگ گھروں میں محصور ہونے پر مجبور کردیے گئے، گوکہ پاک فوج کی جانب سے بھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کا بھرپورجواب دیاجا رہا ہے۔یہ ساری خبر اس پہلو کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ بھارت میں موجود انتہاپسند سوچ کی حامل قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا فوجی پاکستان سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ۔بلاوجہ اور بلااشتعال فائرنگ کرنے سے تو جنگ ہی کی راہ ہموار ہوگی اور امن کی خواہش بلبلہ ثابت ہوگی ۔

اچھے ہمسائے کی طرح ہمیشہ ساتھ رہنے ایک دوسرے کی آزادی ،خود مختاری اور سالمیت کا احترام کرنا ہوگا امن کی خواہش کو پروان چڑھانا ہوگا، سیاست برائے انسانی خدمت کو اپنا نصب العین بنانا ہوگا نہ کہ نفرت کی دیوار کو اتنا اونچا کریں کہ اس سے سر ٹکرا کر ہم پاگل ہوجائیں ۔سرحد پر ہونے والی گولہ باری دراصل ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی امن کی خواہش کو زک پہنچانے کا عمل ہے ۔گوکہ پاکستان کے ڈائریکٹرلیول کے فوجی افسر نے بھارتی ہم منصب کولائن آف کنٹرول کے حوالے سے پاکستان میں پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ بھارتی فوج کو بائونڈری کو جنگی محاذ کی بجائے ورکنگ ریلیشن بائونڈری بنانے کی سوچ اپنانی چاہیے۔گولہ باری کی بجائے اگر توپوں کے دہانے پر گلدستے باندھ دیے جائیں تو خطے میں امن کی خوشبو ہر سو پھیلے گی۔